شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 12 از 18

فلما اشتد به المرض امرا بابکرؓ ان یصلی بالناس وقد اختلف فی صلوته بهم فالشيعه تزعم انه لم يصل بهم الصلوه واحده وهی الصلوه التی خرج رسول اللهﷺ‎ منها يتهاذی بين على والفضل فقام فى المحراب مقامه وتاخر ابوبكرؓ والصحيح عندى وهو الأكثر الأشهر انها لم تكن اخر الصلوه فی حيوتهﷺ‎ بالناس جماعه وان ابابكرؓ صلی بالناس بعد ذلك يومين ثم مات

(الدرة النجفيه شرح نہج البلاغه صفحہ 225 مطبوعه تہران)

 جب حضورﷺ کا مرض بڑھ گیا تو آپﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ کو حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھاؤ سیدنا ابوبکرؓ نے کتنی نمازیں پڑھائیں اس میں اختلاف ہے۔ 

شیعہ کہتے ہیں کہ صرف ایک نماز پڑھائی اور وہ بھی وہ جس میں شرکت کے لیے حضور ﷺ سیدنا علیؓ اور سیدنا الفضلؓ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر مسجد میں تشریف لائے حضورﷺ محراب میں اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور سیدنا ابوبکرؓ وہاں سے پیچھے ہٹ گئے لیکن میرے نزدیک صحیح یہ ہے اور یہی اکثر کا قول اور مشہور ہے کہ مذکورہ نماز حضورﷺ کی زندگی کی آخری نماز نہ تھی اور یقینا سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے اس کے بعد دو دن کی نمازیں لوگوں کو پڑھائیں پھر حضورﷺ کا انتقال ہو گیا۔

یہ اعزاز جسے خدا دے

"نہج البلاغہ" کی شرح سے جو اِقتباس پیش کیا گیا اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا ابوبکرصدیقؓ ان کو خود حضورﷺ نے مصلیٰ امامت پر کھڑا ہونے کا حکم دیا اور سیدنا ابوبکرؓ کا انتخاب کرتے وقت سیدنا علیؓ اور سیدنا عباسؓ وغیرہ بھی موجود تھے اور نماز ایسا اہم رکنِ اسلام ہے کہ اس کے تارک سے کتا اور خنزیر بھی پناہ مانگتا ہے تو اس سے ہر ذی عقل اور صاحبِ انصاف یہ سمجھ سکتا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ کا مقام حضورﷺ کی نگاہ پاک میں کتنا بلند تھا آپﷺ کا مصلیٰ امامت کے لیے سیدنا ابوبکرؓ کا انتخاب اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ آپ کی جانشینی بھی انہی کو زیب دیتی ہے۔

سیدنا جعفرؒ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے قول کو متقی اور عالمِ قرآن ہونے کی وجہ سے قابلِ حجت سمجھتے تھے

سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بارے میں تاریخ ساز کلمات

هذه احاديث رسول اللهﷺ‎ يصدقها الكتب والكتب يصدقه اهله من المومنين وقال ابوبكرؓ عند موته حيث قيل له اوص فقال أوصى بالخمس وقد جعل الله له الثلثه عند موته ولو علم ان الثلث خير له اوصى به ثم من علمتم بعده فی فضله و زهده رضی الله عنه وهو ابو ذر رضی الله عنه فاما سلمان فكان اذا احد اعطاه دفع منه قوته لسنه حتى يحضر عطاءه من قابل فقيل له يا ابا عبدالله انت فی زهد که تصنع هذا وانت لا تدرى لعلك تموت اليوم فكان جوابه ان قال مالكم لا ترجون لی البقاء كما خفتم على الفناء اما علمتم يا جهله ان النفس قل تلثاث على صاحبها اذا لم يكن من العيش ما تعتمد عليه فاذا هی اجرزت معيشتها اطمانت و اما ابوذرؓ فكان له لويقات وشويهات يحلبها ويذبه منها اذا اشتهى اهله اللحم او نزل به ضيف او رای باهله الذى معه خصاصه نحر لهم الجزور أو من الشياه على قدر ما يذهب عنهم يقرم اللحم وياخذ هو نصيب واحد منهم لا يتفضل عليهم و من ازهد من هؤولاء وقد قال فيهم رسول اللهﷺ‎ لهم ما قال

(فروع کافی کاب المعیشہ جلد دوم مطبوعہ نولکشور صفحہ 14 فروعِ کافی جلد 5 كتاب المعیشه صفحہ 68 مطبوعه ایران)

یہ احادیث رسول اللہﷺ ہیں جن کی تصدیق کتاب الله کرتی ہے اور کتاب اللہ کی تصدیق ایمان والے کرتے ہیں جو اس کے سمجھنے کے اہل ہوں سیدنا ابوبکرؓ کو جب بوقتِ وفات وصیت کرنے کو کہا گیا تو فرمایا میں مال کے پانچویں حصہ کی وصیت کرتا ہوں حالانکہ خدا نے انہیں تیسرے حصہ کی وصیت کرنے کی اجازت دی تھی آپ اگر نہ جانتے کہ تیسرے حصہ کی وصیت کرنے میں ثواب زیادہ ہو گا تو تیسرا حصہ وصیت کر دیتے سیدنا ابوبکرؓ ان کے بعد زہد و فضل میں تم سیدنا ابوذرؓ اور سیدنا سلمان فارسیؓ کو سمجھتے ہو سیدنا سلمان فارسیؓ کو کوئی عطیہ دیتا تو وہ پورے سال کی خوراک کا ذخیرہ کر لیتے حتیٰ کہ آئندہ سال کے لیے بھی لوگوں نے پوچھا آپؓ زاہد ہو کر ایسا کیوں کرتے ہو کیا آپؓ کو معلوم نہیں کہ اگر آج ہی فوت ہو جاؤ جواب دیا تمہیں میرے زندہ رہنے کی امید نہیں ہے؟ جیسا کہ میرے مرنے کا اندیشہ ہے اے جاہلو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ نفس آدمی پر اس وقت سرکشی کرتا ہے جب تک آدمی اتنی قدرِ معیشت حاصل نہ کرلے جس پر اسے بھروسہ ہو اور جب اس قدر معیشت مل جاتی ہے تو نفس مطمئن ہو جاتا ہے سیدنا ابوذرؓ کے پاس اونٹنیاں اور بکریاں ہوتی تھیں جو دودھ بھی دیتی تھیں اور اگر انہیں گھر والوں کے لیے یا مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے گوشت درکار ہوتا یا اپنے متعلقین کو ضرورت مند دیکھتے تو ان میں سے بکری یا اونٹ ذبح کر لیتے اور سب میں تقسیم فرما دیتے اور اپنے لیے ایک آدمی کی خوراک رکھ لیتے جو دو سروں سے زائد نہ ہو تم جانتے ہو کہ ان تین زاہدوں سے بڑھ کر اور کون زاہد ہو سکتا ہے حالانکہ حضورﷺ نے ان کے بارے فرمایا جو کچھ فرمایا (یعنی سیدنا ابوبکرؓ)

سیدنا جعفر صادقؒ کی نظر میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا مقام و مرتبہ

اہلِ بیتؓ کے سرتاج سیدنا جعفر صادقؒ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو اس قدر کامل الایمان سمجھتے تھے کہ ان کے عمل کو بطورِ حجت پیش فرمایا اور یہی سیدنا جعفر صادقؒ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو ان حضرات میں سے گردانتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائی اور مزید یہ کہ سیدنا ابوبکرؓ کا صرف عمل ہی نہیں بلکہ حضورﷺ کا ان کے بارے تعریفی کلمات ادا فرمانا بھی امام موصوف کی نظر میں بہت اہمیت رکھتا تھا۔

صفحہ 12 از 18