شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 13 از 18

ذكر اسلام ابوبکر صدیقؓ در مبداء حال این خجسته مال که آفتاب عنایت ازلی بر باطن اوپر تو افگند اقوال متعدده بنظر رسیده از آنجمله یکی آنست که این محمد آن در تاریخ خویش آورده که بعد از اسلام زيد بن حارثؓ صديقؓ در راه پیش رسول اللهﷺ آمده پرسید که آیا راستست آنچه از شمار سانیده اند که نفی اله ما کرده و عقلاء مارا از سفهاء شعر وه و به تكفير أباء واجداد ما اشتغال نموده حضرت مقدس نبوی فرمود که یا ابا بكرؓ من رسول خدانم و نبی او امر افرستاده تا تبلیغ رسالت کنم من ترا میخوانم بخدائی که بیست و شریک ندار دو بخدا سوگند که این سخن حق است انگاه آیت چند از فرقان بزبان معجز بیان گزرانیده صدیقؓ ایمان آورد دور مستقصی از قاسم بن محمد نقل کرده اند که قال رسول اللهﷺ ما عرضت الاسلام على احد الا كانت له عنده کسیت فرمود که عمرؓ

(تاریخ روضته الصفاء جلد دوم صفحہ، 380)

 بیان کرتے ہیں کہ اس سفر میں جب سیدنا عمرو بن العاصؓ ایک جماعت کے سپہ سالار تھے جس میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ بھی شامل تھے سیدنا عمرو بن عاصؓ کے دل میں یہ خیال آیا کہ حضورﷺ مجھ سے ان دونوں برگزیدہ بندوں کو زیادہ دوست سمجھتے ہیں پھر اس خیال سے کہ حضورﷺ نے صاف صاف الفاظ میں اس خیال کی تصدیق فرما دیں پوچھا یا رسول اللہﷺ! آپﷺ کس کو سب سے زیادہ محبوب سمجھتے ہیں فرمایا سیدہ عائشہؓ کو میں نے پوچھا نہیں مردوں میں سے آپﷺ کا محبوب ترین کون ہے؟ فرمایا اس کا باپ (سیدنا صدیق اکبرؓ) پھر پوچھا اس کے بعد درجہ کس کا ہے؟ فرمایا سیدنا عمر بن خطابؓ کا۔

سیدنا ابوبکر صدیقؓ ان کے گستاخوں پر خدا کی لعنت ہے:

دخل عبدالله بن العباس على معاويهؓ وعنده وجوه قريش فلما سلم وجلس قال له معاويهؓ انی اريد ان اسئلك عن مسائل قال سل عما بدالك وصف ابی بكرؓ قال ما تقول في ابی بكرؓ قال رحم الله ابابكرؓ كان والله للقرآن تاليا و عن المنكرات ناهياً وبذنبه عارفاً و من الله خائفاً وعن الشبهات زاجراً وبالمعروف المراً وبااليل قائماً و بالنهار صائماً فاق اصحابهؓ ورعا وكفافا وسادهم زهدا وعفافا فغضب الله على من ابغضه وطعن عليه

(مروج الذہب للمسعودی جلد سوم صفحہ 55 مطبوعہ بیروت)

سیدنا عبداللہ بن عباسؓ ایک مرتبہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے پاس گئے اس وقت قریش کے چیدہ چیدہ لوگ وہاں موجود تھے سلام کہنے کے بعد بیٹھے سیدنا امیرِ معاویہؓ نے کہا کہ میں تم سے اے سیدنا عبداللہؓ کچھ مسائل دریافت کرنا چاہتا ہوں فرمایا جو کچھ پوچھنا چاہتے ہو پوچھو پوچھا سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے وہ کیسے تھے؟ فرمایا اللہ رحم کرے سیدنا ابوبکرؓ پر خدا کی قسم وہ قرآن پڑھنے والے منکرات سے منع کرنے والے اپنے گناہوں سے واقف اللہ سے ڈرنے والے شبہات سے ڈانٹنے والے معروف کا حکم کرنے والے شب بیدار اور دن کو روزہ رکھنے والے تھے تقویٰ پاکدامنی میں اپنے ساتھیوں سے فوقیت کے لیے زہد و عفت میں ان کے سردار تھے اللہ اس پر غضب نازل کرے جو سیدنا ابوبکرؓ سے ناراض ہو۔ 

سیدنا عبداللہ بن عباسؓ حضورﷺ اور سیدنا علیؓ کے چچا زاد بھائی تھے اہلِ بیتؓ میں سیدنا علیؓ کے بعد سب سے بلند مرتبہ والے تھے۔

سیدنا عمرؓ کے بارے میں سیدنا علیؓ اور ائمہ اہلِ بیتؓ کی تعلیمات

سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا عمرؓ کو ہمیشہ "امیر المومنین" کہہ کر مخاطب ہوتے تھے تاکہ بعد میں آنے والے کو کسی طرح کی بھی بدگمانی پھیلانے کا موقع نہ ملے ادب و احترام کی اس کیفیت کو شارح نہج البلاغہ ابنِ ابی الحدید (256ھ) کی زبانی سنئے:

سیدنا علیؓ سیدنا عمرؓ کو اس وقت سے جب وہ خلیفہ

ہوئے ان کی کنیت سے مخاطب نہیں کرتے تھے بلکہ امیر المومنین کہہ کر خطاب کرتے تھے اور یہ بات اسی طرح کتبِ حدیث و کتب سیر و تاریخ میں بیان ہوئی ہے (شرح نہج البلاغہ جلد 2 صفحہ 234)

سیدنا علیؓ کی طرف سیدنا عمرؓ کی بیعت

سیدنا ابوبکر صدیقؓ ان کے انتقال کا وقت قریب ہوا تو آپ نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

"میں نے ایک عہد کیا ہے کیا تم اس پر رضامند ہوتے ہو؟

لوگوں نے جواب دیا کہ اے خلیفہ رسولﷺ ہم اس بات پر راضی ہیں سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ سیدنا عمر بن الخطابؓ کے بغیر ہم کسی دوسرے شخص کے حق میں راضی نہیں ہوں گے (اسد الغابہ جلد 3 صفحہ صواعقِ محرقہ صفحہ 54 ریاض النفره صفحہ 882) چنانچہ ایسا ہی ہوا اور سیدنا عمرؓ خلیفتہ المسلمین ہوئے آپ کی سب اصحاب بشمول سیدنا علیؓ نے بھی بیعت فرمائی سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرماتے ہیں کہ:

پس مسلمانوں نے سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت کی تو میں نے بھی مسلمانوں کے ساتھ ان کی بیعت کی پس جب وہ جہاد کے لیے مجھ سے کہتے تو میں جہاد میں شریک ہوتا جب وہ مجھے عطایا و ہدایا دیتے تو میں قبول کرتا پس سیدنا ابوبکرؓ نے (آخری وقت میں سیدنا عمرؓ کے حق میں اشارہ کیا اور اس معاملہ میں انہوں نے کوئی کوتاہی نہیں کی پس مسلمانوں نے سیدنا عمرؓ سے بیعت کی میں نے بھی مسلمانوں کے ساتھ سیدنا عمرؓ کی بیعت کی جب وہ غزوات میں مجھے طلب کرتے تو میں ان کا شریک کار ہوتا اور عطایات و غنائم وغیرہ جب وہ مجھے عنایت کرتے تو میں ان کو قبول کرتا (کنز العمال جلد 6 صفحہ 82)

علمائے اہلِ سنت کی ان کتابوں اور ان حقائق سے شیعہ ناظرین متفق نہ ہوں تو ان کی تسلی کے لیے شیعہ محمد شیخ ابی جعفر محمد بن الحسن الطوسی (240ھ) کا قول درج کیا جاتا ہے ملاحظہ فرمائیے:

فبايعت ابابكرؓ كما بايعتموه فبايعت عمرؓ كما بايعتموه فوقيت له ببيعته حتىٰ لما قتل جعلنی سادس سته فدخلت حيث ادخلنی۔

"جس طرح تم نے سیدنا ابو بکرؓ کی بیعت کی اسی طرح میں نے بھی ان سے بیعت کی پھر جس طرح تم نے سیدنا عمرؓ کی بیعت کی میں نے بھی اسی طرح سیدنا عمرؓ کی بیعت کی اور بیعت کے حقوق کو میں نے پورا کیا حتیٰ کہ جب سیدنا عمرؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو سیدنا عمرؓ نے مجھے چھ آدمیوں (کی کمیٹی) میں ایک ممبر قرار دے کر شامل کیا اور میں نے شامل ہونا قبول کیا (رحماء بینھم، حصہ دوم صفحہ 57)۔

صفحہ 13 از 18