شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 14 از 18

شیعہ مصنفین کی اس روایت کے پیش نظر یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا عمرؓ کی بیعت کی تھی اور آپ کو امیر المومنینؓ بدل و جان تسلیم کیا تھا یہ اور بات ہے کہ شیعہ مجتہدین اس پر تقیہ کی سیاہ چادر اوڑھا دیں۔

سیدنا عمر فاروقؓ نے شاہ ایران کی لڑکی نواسۂ رسولﷺ کو دی

 عن ابی جعفرؒ قال لما اقدمت بنت یزد جرد علی عمرؓ اشرف لھا عذاری المدینہ واشرق المسجد بوضوءھا لما دخلتہ فلما نظر الیھا عمرؓ غطت وجھھا و قالت اف بیروج باداء ھرمز فقال عمرؓ اتشتمنی ھذہ وھم بھا فقال لہ امیر المومنین لیس ذالک لک خیرھا رجلا من المسلمین واحسبھا ببنیسئہ فخیرھا فجائت حتیٰ وضعت یدھا علی راس حسینؓ فقال لھا امیر المومنین مااسمک فقالت جھان شاہ فقال لھا امیر المومنین شھر بانو فقال للحسینؓ یا اباعبداللہ لیلدن لک خیرا منھا اھل الارض فولدت علی ابن الحسینؓ ابن الخیرتین فخیرہ اللہ من العرب ھاشم ومن المعجم فارس وروی ان ابا الاسود الدئلی قال فیہ۔

"ان غلاما بین کسری وھاشملاکرم من نبطت علیہ التمائم"

(اصولِ کافی ترجمہ جلد اول صفحہ 579 مطبوعہ کراچی اصولِ کافی کتاب الحجہ باب مولد علی ابنِ حسین صفحہ 479 طبع جدید تہران)۔

سیدنا محمد باقرؒ نے فرمایا جب بنتِ یزد جرد سیدنا عمر فاروقؓ کے پاس آئی تو مدینہ کی لڑکیاں انکا حسن و جمال دیکھنے بالائے بام آئیں جب مسجد میں داخل ہوئیں تو چہرہ کی تابندگی سے مسجد روشن ہو گئی سیدنا عمر فاروقؓ نے جب انکی طرف دیکھا تو انہوں نے اپنا چہرہ چھپا لیا اور کہا برا ہو ہرمز کا اسکے سوئے تدبیر سے یہ روز بد نصیب ہوا سیدنا عمر فاروقؓ نے کہا کہ یہ مجھے گالی دیتی ہے (کہ میرے دیکھنے کو روز بد کہا) اور انکی اذیت کا ارادہ کیا امیر المومنین نے کہا ایسا نہیں ہےاسکو اختیار دو کہ یہ مسلمانوں میں سے کسی کو اپنے لیے منتخب کرے اسکے حصہ غنیمت میں سے اسکو سمجھ لیا جائے جب اختیار دیا گیا تو وہ لوگوں کو دیکھتی ہوئیں چلی اور سیدناحسینؓ کے سر پر اپنا ہاتھ رکھ دیا امیر المومنین نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے؟ کہا جہان شاہ حضرت نے کہا نہیں بلکہ شہر بانو پھر سیدنا حسینؓ سے فرمایا اے سیدنا ابو عبداللہؓ تمہارا ایک بیٹا اسکے بطن سے پیدا ہوگا جو اہلِ زمین میں سب سے بہتر ہوگا چنانچہ علی ابن الحسین پیدا ہوئے پس وہ بہترین عرب ہاشمی ہونے کی وجہ سےاور بہترین عجم تھے ایرانی ہونے کی وجہ سےاور مروی ہے کہ ابو الاسود وئلی شاعر نے سیدنا زین العابدینؒ کی شان میں یہ شعر کہا وہ ایسے لڑکے ہیں جنکا تعلق کسریٰ اور ہاشم دونوں سے ہے جن بچوں کے گلے میں تعویذ ڈالے جاتے ہیں ان میں وہ سب سے بہتر ہیں۔

قابل غور

سیدنا عمر فاروقؓ کو سیدنا علیؓ سے اتنی محبت تھی کہ انکے فرزند ارجمند کو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو چھوڑ کر ایک شاہی خاندان کی حسین وجمیل خاتون شہر بانو بخش دی اس خاتون کے ساتھ وہ تمام زیورات اورشاہانہ پوشاک بھی تھی جو "باغ فدک" سے کہیں زیادہ قیمتی تھی یہی شہر بانو سلسلہ سادات کی جدہ عالیہ بنیں یہ اہلِ بیتؓ کے ساتھ سیدنا فاروق اعظمؓ کی بے پناہ محبت کی جیتی جاگتی تصویر ہے کیونکہ اگر سیدنا عمر فاروقؓ کے دل میں کچھ رنج ہوتا تواس صورت میں سیدنا علیؓ کی سفارش کوئی اثر نہ دکھاتی۔

 سیدنا عمر فاروقؓ حسنین کریمینؓ کو اپنی اولاد سے زیادو عزیز اور افضل سمجھتے تھے

عن ابنِ عبّاس لما فتح اللہ المدائن علی اصحاب رسولِ اللہ ﷺ فی ایام عمر امر عمرؓ بالاقطاع فبسط فی المسجد فاول من بدء الیہ حسینؓ فقال یا امیر المومنین اعطی حقی مما افاء اللہ علی المسلمین فقال عمرؓ بالحب والکرامت فامر لہ بالف درھم ثم النصرف فبدء الیہ عبداللہ بن عمرؓ فامر لہ خمس مائة درھم فقال لہ یا امیر المومنین انا رجل مشتد الضرب بالسیف بین یدی رسول اللہﷺ والحسنؓ والحسینؓ طفلان یدرجان فی سک المدینة تعطیہم الف الف درھم وتعطینی خمس ماة فقال عمرؓ نعم اذھب فاتی باب کابیھما وام کامھما وجد کجدھما وجدة کجدتھما وعم کعمھما وعمة کعمتھماوخالة کخالتھما وخال کخالھما فانک لا تاتینی بھم اما ابوھما فعلی المرتضیؓ وامھما فاطمتہ الزھراؓ وجدھما محمد مصطفیٰﷺ وجدتھما خدیجتہ الکبریٰؓ وعمھما جعفرؓ ابن ابی طالب وخالتھما رقیہؓ وام کلثومؓ بنتا رسول اللہﷺ و خالھما ابراھیم ابنِ رسول اللہﷺ

(ذبح عظیم صفحہ 57۔58 مصنفہ سید اولاد حیدر فوق بلگرامی مطبوعہ کتب خانہ اثنا عشری لاہور)

سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مدائن کی فتح عطا کی تو سیدنا عمر فاروقؓ نے مالِ غنیمت کے تقسیم کرنے کا حکم دیا مال مسجد میں بکھیر دیا گیا سب سے پہلے سیدنا حسینؓ تشریف لائے اور کہا امیر المؤمنین اللہ نے مسلمانوں کو مالِ غنیمت عطا کیا اسمیں سے مجھے میرا حق عطا کیجئے سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا بڑی محبت اور عزت سے عطا کرتا ہوں تو ایک ہزار درہم دینے کا حکم فرمایا پھر یہ تشریف لے گئے انکے بعد سیدنا عمر فاروقؓ کے بیٹے سیدنا عبداللہؓ تشریف لائے انکو پانچ سو درہم دینے کو کہا تو انہوں نے عرض کی امیر المومنینؓ میں تلوار کا بہت ماہر بہادر مجاہد ہوں اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے میں تلوار بازی کی خدمات انجام دے چکا ہوں حالانکہ اسوقت سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ بچے تھے اور مدینہ کی گلیوں میں کھیلا کرتے تھے آ پؓ نے انہیں تو ایک ہزار درہم عطا فرمائے اور مجھے صرف پانچ سو سیدنا عمرؓ نے فرمایا ٹھیک کہتے ہو جائو ان دونوں کے باپ جیسا کہیں سے باپ ماں جیسی ماں نانا جیسا نانا نانی جیسی نانی چاچا جیسا چاچا پھوپھی جیسی پھوپھی خالہ جیسی خالہ اور ماموں جیسا ماموں تو لاکر دکھاؤ تم یہ ہرگز نہیں لاسکتے دیکھو انکا باپ سیدنا علی المرتضیٰؓ انکی ماں سیدہ فاطمہں انکے نانا محمد مصطفیٰﷺ انکی نانی سیدہ خدیجتہ الکبریٰؓ انکے چاچا سیدنا جعفرؓ بن ابو طالب انکی پھوپھی سیدہ ام ہانیؓ بنت ابو طالب انکی خالہ سیدہ رقیہؓ اور سیدہ ام کلثومؓ اور انکے ماموں سیدنا ابراہیم بن محمد رسول اللہﷺ ہیں۔

صفحہ 14 از 18