شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 15 از 18

عن عبيد ابن حنين قال حدثنی الحسينؓ قال اتيت عمرؓ وهو يخطب على المنبر فصعدت اليه فقلت انزل على منبر ابی واذهب على منبر ابيك فقال عمرؓ لم يكن لابک منبر فاخذنی فجلسنی معه اقلب الحصى بيدی فلما نزل انطلق بی الى المنزل فقال من علمك فقلت والله ما علمنی احد قال فاتيته وهو خال بمعاويةؓ وابن عمرؓ فى الباب فرجع فرجعت معه فلقينی بعد ذالك فقال لم اراك قلت يا امير المؤمنين انی جئت وانت خال بمعاويةؓ فرجعت مع ابن عمرؓ فقال انت احق من ابن عمرؓ

(ذبح عظیم صفحہ، 57)

عبید بن حنین سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں مجھے سیدنا حسینؓ نے یہ بات سنائی کہ میں(سیدنا حسینؓ) ایک دفعہ سیدنا عمر فاروقؓ کے پاس گیا اسوقت وہ منبر پر بیٹھے خطبہ دے رہے تھے میں منبر پر چڑھ گیا اور کہا میرے باپ کے منبر سے اتر جائو اور جائو اپنے باپ کے منبر پر چڑھ کر خطبہ دو سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا میرے باپ کا تو کوئی منبر نہیں تو اسکے بعد مجھے پکڑ کر منبر کے اوپر بٹھا دیا میں انکے ساتھ منبر پر بیٹھا کنکریوں سے کھیل رہا جب خطبہ دینے سے فارغ ہوئے تو مجھے لے کر اپنے گھر چلے اور مجھ سے پوچھا تمہیں یہ باتیں کس نے سکھائی ہیں میں نے کہا خدا کی قسم کسی نے نہیں سکھائیں پھر سیدنا حسینؓ نے فرمایا میں ایک مرتبہ پھر گیا تو اسوقت سیدنا عمر فاروقؓ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے اور انکے بیٹے سیدنا عبداللہؓ دروازے پر تھےجب سیدنا ابن عمرؓ لوٹے تو میں بھی آ گیا پھر ایک مرتبہ اسکے بعد سیدنا عمر فاروقؓ مجھ سے ملےتو کہنے لگے بہت عرصہ ہوا تمہیں دیکھا نہیں میں نے کہا آ پؓ کے پاس آ یا تھا لیکن اس وقت آ پؓ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ساتھ تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھےتو میں آ پ کے بیٹے سیدنا عبداللہ کے ساتھ واپس آ گیا تو سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا تم میرے نزدیک میرے بیٹے سے زیادہ حقدار تھے۔

سیدنا علیؓ سیدنا عمر فاروقؓ کو منبر رسولﷺ پر بیٹھنے کا مستحق سمجھتے تھے

سیدنا زید بن علیؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حسین بن علیؓ ایک مرتبہ جمعہ کے دن سیدنا عمر بن خطابؓ کے پاس آ ئے سیدنا عمر فاروقؓ اسوقت منبر پر (خطبہ دے رہے تھے)سیدنا حسینؓ نے کہا میرے باپ کے منبر سے اتر جائو یہ سن کر سیدنا عمر فاروقؓ رو پڑے اور فرمایا کہ بیٹا تو نے ٹھیک کہا کہ یہ تیرے باپ کا منبر ہے میرے باپ کا نہیں ہےاس پر سیدنا علیؓ بولے خدا کی قسم سیدنا حسینؓ نے میری رائے سے نہیں کہا سیدنا عمر فاروقؓ نے کہا آ پؓ نے سچ فرمایا اللہ کی قسم ابو الحسن آپ کو تہمت نہیں دیتا اس کے بعد سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا حسینؓ کا ہاتھ پکڑا اور اپنے برابر منبر پر بیٹھا لیا اور عوام سے خطاب کیا جبکہ سیدنا حسینؓ آپ کے ساتھ منبر پر رونق افروز تھے اس کے بعد فرمایا لوگو میں نے پیغمبرﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا تم میری اور میری خاطر میری اولاد کی عزت کرو اور جس نے میری خاطر انکی حفاظت کی اللہ اس کی حفاظت کرے خبردار میری اولاد کے بارے میں جس نے مجھے اذیت پہنچائی اس پر اللہ کی لعنت یہ جملہ آ پ نے تین مرتبہ فرمایا۔

رسول اللہﷺ کی پیشن گوئی سیدنا عمر فاروقؓ کے حق میں پوری ہوئی

و بروايت دیگر مشت خاک از برائے آنحضرت فرستادہ حضرت فرمود کہ امت بزودی مالک زمین او خواہشد چنانچہ خاک ازبرائےمن فرستادہ (حیات القلوب جلد دوم صفحہ 789 نو لکشور طبع قدیم باب چہارم در بیان نوشتن نامہ ہابیاد شاہ وسائر وقائع)

ایک دوسری روایت کے مطابق کسریٰ شاہِ ایران نے خاک کی ایک مٹھی رسول اللہﷺ کی خدمت اقدس میں بھیجی رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میری امت بہت جلد اس زمین(ملک) کی مالک بن جائے گی جیساکہ اس نے خود اپنی زمین کی مٹی مجھے بھیج دی ہے۔

 سیدنا عمر فاروقؓ کے اسلام کے لیے رسول اللہﷺ نے دعا فرمائی

ثم قال هذا عمرؓ اللهم اعز الاسلام بعمرؓ فقال اشهد ان لا اله الله فكبر اهل الدار ومن كان على الباب تكبيره سمعها من كان فى المسجد من المشركين (شرح نہج البلاغہ ابنِ حدید جلد سوم صفحہ 143فی کیفیہ الاسلام)

جب سیدنا عمر فاروقؓ برہنہ تلوار لیے بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے دیکھ کر فرمایا یہ عمر ہے اے اللہ عمر کے ذریعے اسلام کو عزت بخش تو سیدنا عمر فاروقؓ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں تو اس پر گھر میں موجودد تمام لوگوں نے اور دروازے پر کھڑے لوگوں نے بلند آواز سے تکبیر کہی جس کو مسجد میں موجود مشرکین نے بھی سنا۔

سیدنا علیؓ نے فرمایا میں شاہد ہوں کہ رسول اللہﷺ سیدنا عمر فاروقؓ پر راضی ہو گیا

قال حدثنا يوسف عن ابيه عن ابی خنيفة عن الهيثم قال دخل ابن عباسؓ على عمرؓ حين اصيب فقال البشر فو الله لقد كان اسلامك عزا ولقد كان هجرتك فتحاو ولايتك عدلا ولقد صحبت رسول اللهﷺ حتىٰ توفىٰ وهو عنك راض ثم صحبت ابابكرؓ فتوفى وهو عنك راض ولقد لبثت فما اختلف فى ولايتك اثنان قال عمرؓ اتشهد بذالك؟ قال فكعی ابنِ عباس فقال علیؓ نعم نشهد بذالك (شرح نہج البلاغہ ابنِ حدید جلد سوم صفحہ 146 مطبوعہ بیروت بحث فی الآثار التی وردت فی موت عمرؓ والکلام الذی مالک عند ذالک)

سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سیدنا عمر فاروقؓ کے پاس ان پر قاتلانہ حملہ ہونے کے بعد حاضر ہوئے اور کہنے لگے اللہ کی قسم تمہارا اسلام عزت والا تمہاری ہجرت فتح کی پیش خیمہ اور تمہاری ولایت سراسر عدل تھی رسولﷺ کے وصال مبارک تک تمہیں آپﷺ کی صحبت نصیب رہی اور آپﷺ دنیا سے رخصت ہوتے وقت تم سے راضی ہو گئے پھر تم سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی صحبت میں رہے وہ بھی خوشی راضی تم سے الوداع ہوئے تم جب خلیفہ بنے تو پوری خلافت میں دو آدمی بھی آپ سے ناراض نہ ہوئے یہ سن کر سیدنا عمرؓ نے کہا کیا تم اسکی گواہی دیتے ہو سیدنا ابنِ عباسؓ نے کچھ خاموشی اختیار کی لیکن سیدنا علیؓ نے فرمایا ہاں ہم اسکی گواہی دیتے ہیں 

آگے چل کر علامہ ابنِ حدید لکھتا ہے:

صفحہ 15 از 18