شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 16 از 18

وفی رواية اخرى لم تجزع يا اميرالمؤمنين فوالله لقد كان اسلامك عزاوامارتك فتحاولقد ملات الارض عدلا فقال اتشهد لی بذالك يا ابنِ عباسؓ قال فكانه كره الشهادة فتوقف فقال له علىؓ قل نعم وانا معك فقال نعم۔ 

 دوسری روایت میں ہے سیدنا ابنِ عباسؓ نے فرمایا اے امیر المؤمنین آپؓ نہ روئیں آپؓ کا اسلام عزت والا حکومت فتح کی علامت تھی آ پؓ نے اسکو عدل سے بھر دیا سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا اے سیدنا ابنِ عباس کیا تو اپنی اس بات کی گواہی دیتا ہے اس پر انہوں نے توقف کیا گویا گواہی دینا بہتر نہ سمجھا تو سیدنا علیؓ نے سیدنا ابنِ عباسؓ سے کہا کہ کہو میں گواہی دیتا ہوں اور میں بھی تمہارے ساتھ ہوں گواہی دینے میں اسوقت سیدنا ابنِ عباسؓ نے کہا ہاں میں گواہی دیتا ہوں۔

سیدنا ابنِ عباسؓ نے گستاخانِ سیدنا عمر فاروقؓ پر خدا کی لعنت کی

 قال معاویهؓ ایها یا ابن عباسؓ فما تقول فی عمرؓ ابن الخطاب قال رحم الله ابا حفص عمرؓ كان والله حليف الاسلام ومساوى الايتام ومنتهى الاحسان ومخل الايمان وكهف الضعفاء ومعقل الحنفاء قام بحق الله عزوجل صابرا محتسبا حتى اوضح الدين وفتح البلاد وامن العباد فاعقب الله على من تنقصه اللعنه الى يوم الدين۔

(مروج الذہب للمسعودی جلد 3 صفحہ 51 مطبوعہ بیروت)۔

"سیدنا معاویہؓ نے کہا اے سیدنا ابنِ عباسؓ سیدنا عمر بن خطابؓ کے بارے میں تو کیا کہتا ہے فرمایا سیدنا ابو حفص عمرؓ پر خدا کی رحمت ہو اللہ کی قسم! وہ اسلام کے سچے خیر خواہ یتیموں کے ماویٰ ایمان کے محل ضعیفوں کی جائے پناہ اور سچے لوگوں کی پناہ گاہ تھے اللہ کے دین کی سربلندی کی خاطر صبر اور استقامت سے قائم رہے یہاں تک کہ دین واضح ہوا شہر فتح کیے بندوں کو چین نصیب ہوا اس شخص پر اللہ کی تاقیامت لعنت جو سیدنا فاروقِ اعظمؓ میں نقص و خرابی لگائے"۔

سیدنا فاروقِ اعظمؓ سادگی اور عجز و انکساری میں بے مثال تھے

 اخبار الطوال صفحہ 123 میں احمد بن داؤد دینوری شیعی نے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی سیرت کا ایک واقعہ نقل کیا ہے ملاحظہ ہو:

وكتب سعد الى عمرؓ بالفتح وكان عمرؓ يخرج فی كل يوم ماشيئا وحده لا بدع احدا يخرج معه فيمشی على طريق العراق ميلين او ثلاثه فلا يطلع عليه راكب من جهه العراق الاساله عن الخبر مبين هو ذالك يوما طلع عليه البشير بالفتح فلما راه عمرؓ ناداه من بعيد ما الخبر قال فتح الله على المسلمين وانهزمت العجم وجعل الرسول يحب ناقته و عمرؓ يعد و معه ويساله ويستحبره والرسول لا يعرفه حتىٰ دخل المدينه كذالك فاسقبل الناس عمرؓ يسلمون عليه بالخلافه وامير المومنين فقال الرسول وقد تحير سبحان الله یا امیر المومنينؓ الا اعلمتنی فقال عمرؓ لا علیک ثم اخذ الكتاب فقراءه على الناس۔

(الاخبار الطوال صفحہ 123۔124 مصنفہ احمد بن داؤد الدینوری مطبوعہ بیروت)۔

 سیدنا سعدؓ نے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو فتح کا پیغام تحریر کیا ادھر سیدنا عمرؓ کا معمول تھا کہ روزانہ بلاناغہ اکیلے ہی عراق کی طرف جاتے راستہ پر دو دو تین تین میل نکل جاتے اور عراق کی طرف سے جب کوئی سوار آتا نظر پڑتا تو اس سے جنگ کے بارے میں پوچھتے اتفاقاً ایک دن عراق کی جانب سے فتح کی خوشخبری دینے والا بھی آیا سیدنا عمرؓ نے دور سے اسے آواز دی کوئی خبر لائے ہو؟ کہنے لگا اللہ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور کفار (نجم) شکست کھا گئے یہ کہا اور اس پیغامبر نے اونٹنی دوڑائی سیدنا عمرؓ نے بھی پیدل اس کے ساتھ دوڑتے چلے آ رہے تھے اور جنگ کے واقعات پوچھ رہے تھے لیکن اس ایلچی کو اس بات کا قطعاً علم نہ تھا کہ یہی خلیفہ وقت ہیں یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوئے لوگ سیدنا عمرؓ کو بڑھ کر سلام کرنے لگے کیونکہ آپ خلیفہ تھے ایلچی نے حیران ہوتے ہوئے کہا سبحان اللہ! امیر المومنینؓ! آپ نے مجھے اپنے متعلق بتایا ہی نہیں تو سیدنا عمرؓ نے فرمایا تمہیں کوئی سزا نہیں یہ کہہ کر رقعہ لیا اور مسلمانوں کو پڑھ کر سنایا۔

محجوبانِ رسولﷺ سیدنا عمرؓ کے نزدیک اپنی اولاد سے بھی افضل و عزیز تھے

 روایت نموده اند که عمر ابن خطابؓ بجهت اسامه بن زیدؓ پنچ هزار دینار از بیت المال مقرر کرده و از برائی پسر خود عبداللهؓ دو هزار دينار عبداللهؓ گفت اسامهؓ را بر من ترجیح دادی و حال آنکه من از غزوات حضرت پیغمبر دیده ام آنچه را که او نديده عمرؓ گفت بجهت آن که پیغمبرﷺ اور از پدر تو پیشتر دوست میداشت۔

(المنتخب التواریخ مطبوعه تہران فصل ہفتم صفحہ 96)۔

روایت ہے کہ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے سیدنا اسامہ بن زیدؓ کے لیے پانچ ہزار دینار بیت المال سے مقرر فرمائے اور اپنے بیٹے سیدنا عبد اللہؓ کے لیے صرف دو ہزار دینار سیدنا عبداللہؓ نے کہا ابا جان! آپ نے سیدنا اسامہؓ کو مجھ پر فوقیت دی حالانکہ مجھے حضورﷺ کے ساتھ غزوات میں شرکت کا موقعہ ملا اور میں نے وہ کچھ دیکھا جو سیدنا اسامہؓ نے نہیں دیکھا سیدنا عمر بن خطابؓ نے فرمایا وجہ یہ ہے کہ حضورﷺ سیدنا اسامہ بن زیدؓ کو تمہارے باپ سے زیادہ دوست رکھتے تھے"۔

سیدنا عمرؓ کی طرف سیدنا علیؓ سے گہری محبت کی روایت

 وفی روايه يحيىٰ بن عقيل ان عمرؓ قال لا ابقانی الله بعدک یا علیؓ۔ 

(مناقب ابنِ شہر آشوب جلد دوم صفحہ 360 مطبوعہ قم طبع جدید باب فی قضاياه علیه السلام فی عہدِ الثانی)۔

یحییٰ بن عقیل کی روایت میں ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا اے سیدنا علی المرتضیٰؓ اللہ تعالیٰ تمہارے بعد مجھے زندہ نہ رکھے"۔

سیدنا علیؓ سیدنا عمر فاروقؓ کے عمل کو مشعلِ راہ سمجھتے تھے

 قالوا وكان مقدمه الكوفه يوم الاثنين لاثنتی عشره لیله خلت من تجب سنه ست و ثلاثين فقيل له يا امير المومنينؓ اتنزل القصر قال لاحاجه لی فی نزوله لان عمر بن الخطابؓ كان يبغضه ولكنى نازل الراحبه ثم اقبل حتىٰ دخل المسجد الاعظم فصلى ركعتين ثم نزل الرحبه۔

(اخبار الطوال صفحہ 152 مصنفہ احمد بن داؤد الدینوری مطبوعه بغداد طبع جدید)۔

صفحہ 16 از 18