شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 17 از 18

انہوں نے کہا کہ سیدنا علیؓ کا کوفہ میں تشریف لانا بارہ رجب بروز پیر 36ھ کو ہوا تو آپ سے عرض کی گئی کہ قصر امارت میں قیام فرمائیں گے فرمایا نہیں کیوں کہ ایسی جگہ میں سیدنا عمرؓ ٹھہرنا پسند نہیں فرمایا کرتے تھے اس لیے عام مکان میں قیام کروں گا پھر آپ نے جامع مسجد کوفہ میں تشریف لا کر دو گانہ پڑھا پھر ایک عام مکان میں قیام فرمایا"۔

 وروى المسور بن مخرمه ان عمرؓ لما طعن اغمى عليه طويلا فقيل انكم لم توقظوه بشی مثل الصلوه ان كانت به حياه فقالوا الصلوه يا امير المومنينؓ الصلوه قد صليت فانتبه فقال الصلوه لا والله لا اتركها لاحظ فی الاسلام لمن ترك الصلوه فصلى وان جرحه لينبعث دما۔

(ابنِ حدید شرح نہج البلاغه جلد نمبر 3 صفحہ 146 مطبوعہ بیروت طبع جدید)۔

مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا فاروقِ اعظمؓ زخمی ہوئے تو انہیں طویل غشی آئی تو کہا گیا کہ تم لوگ سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو نماز کے علاوہ کسی اور چیز سے ہوش میں نہیں لا سکتے بشرطیکہ آپ زندہ ہوں تو لوگوں نے کہا "الصلوہ یا امیر المومنینؓ" یہ سن کر آپ کو ہوش آیا اور نماز پڑھی پھر فرمایا اللہ کی قسم میں نماز کو ہرگز نہیں چھوڑ 

سکتا کیونکہ جس نے نماز کو چھوڑ دیا اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں آپ نے نماز پڑھی اور زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔

سیدنا علیؓ نے سیدنا عمر فاروقؓ کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں پیش ہونے کی تمنا کی

 عن محمد بن سبنان عن مفضل بن عمر قال سالت ابا عبداللهؓ عن معنی قول امیر المومنينؓ صلوات الله عليه لما نظر الى الثانی وهو مسجى بثوبه ما احد احب الى ان القى الله بصحيفه من هذا المسجى۔

(معافی الاخيار للشيخ الصدوق صفحہ 413 طبع جدید بیروت)۔

شیخ صدوق نے باسند ایک حدیث ذکر کی جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ ایک مرتبہ فضل بن عمر نے سیدنا جعفر صادقؓ سے پوچھا کہ جب سیدنا عمر بن خطابؓ کو کفن دیا جا چکا تھا اس وقت سیدنا علیؓ نے ارشاد فرمایا تھا اس کا کیا مطلب تھا تو آپ نے فرمایا کہ سیدنا علیؓ کا یہ مطلب تھا کہ میرے نزدیک کوئی عمل اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں کہ جب میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کروں تو اس کفن پہنے ہوئے یعنی سیدنا عمر بن خطابؓ کے اعمال نامے کے ساتھ ملاقات کروں"۔

سیدنا عمرؓ سیدنا علیؓ کے ساتھ ہی زندگی گزارنے کو پسند کرتے تھے

 فقال عمرؓ لا عشت فی امه لست فيها يا ابا الحسن

(امالی طوسی جلد دوم صفحہ 92 مطبوعه قم طبع جدید الجز السابع عشر)۔

 سیدنا عمر بن خطابؓ نے سیدنا علیؓ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے ان ابو الحسنؓ! مجھے ایسی قوم میں رہنا اور زندگی گزارنا ہرگز پسند نہیں جس میں تم نہ ہو"۔ 

وقوله عليه السلام السلمانؓ ان سيوضع علی راسک تاج کسری فوضع التاج على راسه عند الفتح

(مناقب ابنِ شہر آشوب جلد اول صفحہ 109 فی معجزات اقوالہﷺ قم طبع جدید)۔ 

سیدنا سلمان فارسیؓ نے کو نبی پاکﷺ نے فرمایا کہ جب فارس فتح ہو گا تو تیرے سر پر کسریٰ کا تاج رکھا جائے گا چنانچہ جب فارس فتح ہوا تو سیدنا عمر فاروقؓ نے آپ کے سر پر (کسریٰ کا) تاج رکھ دیا"۔

نہایت متقی تھے اور بقول سیدنا علیؓ ان کی فتوحات اللہ کی فتوح ہیں

 لله بلاد فلان فلقد قوم الاود و داوى العمد وامام السنة وخلف الفتنه ذهب نقى الثوب قليل العيب اصاب خيرها و سبق شترها ادی الى الله طاعته واتقاه بحقه۔

(نہج البلاغہ خطبہ نمبر 228 صفحہ 350 مطبوعہ بیروت طبع جدید)

 "اللہ تعالیٰ سیدنا عمر فاروقؓ کے شہروں میں برکت دے انہوں نے ٹیڑھی راہ کو سیدھا کیا اور بیماری کا علاج کیا (مختلف شہروں کے باشندوں کو دینِ اسلام کی طرف پھیرا) سنت کو قائم کیا (حضورﷺ کے احکام کو جاری کیا) اور فتنے کو پس پشت ڈالا (آپ کا زمانہ فتنہ و فساد سے پاک رہا) اور دنیا سے کم عیب اور پاک جامہ لے کر رخصت ہوئے اور خلافت کی بھلائیوں کو پایا اور اس کے شر سے پہلے چلے گئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حق ادا کیا اور اس کی نافرمانی سے پرہیز کیا"۔

سیدنا عثمانؓ کے بارے میں آئمہ اہلِ بیت کی تصریحات

سیدہ فاطمہؓ کے حق مہر اور جہیز کا انتظام سیدنا عثمانؓ نے کیا

 قال علىؓ فاقبل رسول اللهﷺ فقال يا ابا الحسنؓ انطلق الآن فبع درعك واتنی بثمنه حتىٰ اهی لك ولا بنتی فاطمهؓ ما يصلحكما قال علىؓ فانطلقت وبعثه باربع مائه درهم سود هجريه من عثمان بن عفانؓ فلما قبضت الدراهم منه وقبض الدرع منى قال يا ابا الحسنؓ لست اولى بالدرع منك وانت اولى بالدراهم منی؟ فقلت بلىٰ قال فان الدرع هديه منى اليك فاخذت الدرع والدراهم واقبلت الى رسول اللهﷺ فطرحت الدرع والدراهم بين يديه واخـبـرتـه بـمـا كـان مـن امـر عثمانؓ فدعا له بخير وقبض رسول اللهﷺ قبضه من الدراهم و دعا بابی بكرؓ فدفعها اليه وقال يا ابابكرؓ اشتر بهذه الدراهم لابنتی ما يصلح لها فی بيتها و بعث معه سلمان الفارسیؓ وبلالاؓ ليعينياه على حمد ما يشتريه۔

(کشف الغمہ فی معرفہ الائمہ جلد اول صفحہ 359 مطبوعہ تبریز طبع جدید باب تزویج فاطمہؓ)

صفحہ 17 از 18