شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 18 از 18

سیدنا علی المرتضىٰؓ نے فرمایا حضورﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا اے سیدنا ابو الحسنؓ! ابھی جاؤ اور اپنی زرہ بیچ کر جو قیمت ملے میرے پاس لے آؤ تاکہ میں اس سے تمہارے لیے اور اپنی بیٹی کے لیے شادی کا ضروری سامان تیار کروں میں گیا اور چار سو درہم کے بدلے وہ زرہ سیدنا عثمانؓ کے ہاتھ فروخت کر دی جب میں نے قیمت وصول کر لی اور سیدنا عثمانؓ نے زرہ پر قبضہ کر لیا تو سیدنا عثمانؓ نے کہا اے سیدنا ابو الحسنؓ! میں اس زرہ کا تم سے زیادہ مستحق نہیں اور تم ان دراہم کے مجھ سے زیادہ مستحق ہو تو میں نے کہا ہاں ٹھیک کہتے ہو تو سیدنا عثمانِ غنیؓ نے کہا میں یہ زرہ تمہیں بطورِ ہدیہ دیتا ہوں میں نے درہم اور زرہ دونوں لے کر حضورﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا درہم اور زرہ آپ کے سامنے رکھ کر سیدنا عثمانؓ کا سارا واقعہ بیان کر دیا آپﷺ نے ان کے لیے دعائے خیر فرمائی پھر آپﷺ نے مٹھی بھر درہم لے کر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو بلا کر انہیں دے دیئے اور فرمایا اے سیدنا ابوبکرؓ! ان دراہم سے میری بیٹی کے لیے گھر کا ضروری سامان خرید لاؤ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ حضورﷺ نے سیدنا سلمان فارسیؓ اور سیدنا بلالؓ کو بھی بھیجا تاکہ اس سامان کے اٹھانے میں یہ دونوں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی مدد کریں"۔

سیدنا عثمانؓ پر لعنت کرنے والے پر خدا کی تا قیامت لعنت ہے

 قال ابنِ عباسؓ رحم الله ابا عمروؓ وكان والله اكرم الحفده وافضل البرره هجاداً بالاسحار كثيرا الدموع عند ذكر النار نهاضا عند كل مكرمه سباقا الى كل منحه حييا ابيا وفيا صاحب جيش العسره ختن رسول اللهﷺ فاعقب الله على من يلعنه لعنه اللاعنين الى يوم الدين۔

(1۔ تاریخِ مسعودی جلد سوم صفحہ 51 مطبوعہ بیروت ذکر الصحابہؓ ومدہم)

 (2۔ ناسخُ التواریخ از مرزا محمد تقی لسان الملک کتاب نمبر 2 جلد 5 صفحہ 144 مطبوعہ تہران)۔

"سیدنا ابنِ عباسؓ نے جواب دیا کہ سیدنا عثمانؓ (ابو عمروؓ) پر اللہ رحمت نازل فرمائے آپؓ اپنے خادموں اور غلاموں پر مہربان تھے نیکی کرنے والوں میں افضل شب خیز و شب زندہ دار تھے دوزخ کے ذکر پر نہایت گریہ کرنے والے عزت و وقار کے امور میں اٹھ کھڑے ہونے والے اور نبی کریمﷺ کے داماد تھے جو شخص سیدنا عثمانِ غنیؓ کے بارے میں زبان لعن و طعن دراز کرے اللہ تعالیٰ اس پر قیامت تک لعنت کرے سب لعنت کرنے والوں کی لعنت کے برابر"۔

كشف الغمہ

 فقال ابنِ عباسؓ على علمنی فكان علمه من رسول اللهﷺ وعلمه من الله من فوق عرشه فعلم النبیﷺ من الله وعلم على من النبىﷺ و علمى من علم على۔ 

(1۔ کشف الغمہ فی معرفتہ الائمہ جلد اول صفحہ 507 بمعہ ترجمہ فارسی المناقب طبع جدید طہران)۔

(2۔ امالی شیخ طوسی جلد اول صفحہ 11 جز اول مطبوعہ نجف اشرف عراق طبع جدید)۔

سیدنا ابنِ عباسؓ نے فرمایا مجھے سیدنا علیؓ نے علم سکھایا اور سیدنا علیؓ کا علم حضورﷺ سے حاصل کردہ تھا اور حضورﷺ کا علم عرش کے اوپر سے اللہ کی طرف سے تو علمِ نبی اللہ سے اور علمِ علی علم نبی سے اور میرا (سیدنا ابنِ عباسؓ کا) علم علم سیدنا علیؓ سے ہے"۔ 

خلاصہ کلام

  سیدنا ابنِ عباسؓ نے وہ تمام اوصاف جو ایک کامل مومن کے ہو سکتے ہیں وہ سب سیدنا عثمانِ غنیؓ کے وصف میں ذکر فرمائے بلکہ یہاں تک فرما دیا کہ وہ دامادِ پیغمبرﷺ ہیں اور ان پر لعنت کرنے والا اللہ تعالیٰ کی لعنت دائمی کا سزا وار ہے۔



صفحہ 18 از 18