شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 18

اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں میں ایک دوسرے سے سبقت کا اس طرح جذبہ پیدا کیا ہے جیسے گھوڑ دوڑ کے دن گھوڑوں میں مقابلہ ہوتا ہے پھر حسبِ سبقت اللہ تعالیٰ ان کو درجہ دیتے ہیں چنانچہ ہر شخص کو حسبِ سبقت درجہ ملتا ہے سابق کا درجہ کم نہیں ہوتا اور نہ ہی مسبوق یا مفضول سابق اور فاضل سے مرتبے میں بڑھ سکتے ہیں اسی طرح امت کے پہلے اور پچھلے لوگوں میں درجہ فضیلت کا فرق ہے اگر سابق الی الایمان کو بعد میں ایمان لانے والے پر فضلیت نہ ہو تو امت کے پچھلے لوگ پہلوں کے ہم رتبہ ہو جائیں بلکہ تم ان سے بسا اوقات بڑھ جاؤ لیکن اللہ تعالیٰ نے سبقت ایمانی کی بناء پر سابقین کو مقدم رکھا اور ایمان سے پیچھے ہٹنے کی وجہ سے پچھلوں کو درجہ میں پیچھے کر دیا اس لیے ہم بعد والے مومنوں میں ایسے لوگ پاتے ہیں جو ظاہری نماز روزہ حج زکوۃ جہاد انفاق فی سبیل اللہ وغیرہ میں پہلوں سے بڑھے ہوئے ہیں اب اگر سبقت ایمانی کا اعتبار نہ ہوتا تو اکثر عمل کی وجہ سے پچھلے پہلوں سے درجہ میں بڑھ جاتے لیکن اللہ نے اس بات کو تسلیم ہی نہیں کیا کہ بعد والے مؤمن پہلوں کا درجہ حاصل کر لیں یا جن کو اللہ نے مؤخر کر دیا وہ پہلوں سے بڑھ جائیں اور جن کو مقدم کیا وہ پچھلوں سے کم رتبہ ہو جائیں۔

میں نے پوچھا بتلائیے کہ اللہ تعالیٰ نے سبقت الی الایمان کے بارے میں مومنین کے حق میں کیا ارشاد فرمایا ہے تو آپ نے یہ آیات تلاوت کیں۔

سَابِقُوٓاْ إِلَىٰ مَغۡفِرَةٍ۬ مِّن رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُہَا كَعَرۡضِ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ أُعِدَّتۡ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ الخ (سورة الحديد آیت نمبر 21)۔

وَٱلسَّـٰبِقُونَ ٱلسَّـٰبِقُونَ۝أُوْلَـٰٓٮِٕكَ ٱلۡمُقَرَّبُونَ۝ (سورة الواقعه آیت نمبر 10 11)۔

السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ الخ (سورة التوبہ آیت نمبر 100)۔

(1)۔ جلد چلو اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی چوڑائی کے برابر ہے وہ ان لوگوں کے واسطے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔

(2)۔ اور جو اعلیٰ درجے کے ہیں وہ تو اعلیٰ ہی درجے کے ہیں (اور) وہ قرب رکھنے والے ہیں۔

(3)۔ اور جو مہاجرین اور انصار ایمان لانے میں سب سے سابق اور مقدم ہیں اور (بقیہ امت میں) جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس (اللہ) سے راضی ہوئے۔

پس اللہ تعالیٰ نے ایمان میں سبقت کی بدولت مہاجرین کو اولاً ذکر فرمایا پھر ثانیاً انصار کو ثالثاً نیکی میں ان کے فرمانبرداروں کو بیان فرمایا پس ہر گروہ کو اپنے اپنے مرتبے پر رکھا ہے (اصولِ کافی جلد باب السبقت الی الایمان و تفسیر صافی ہند صفحہ 187)۔

شیعوں کی مستند کتاب مفتاح الشریعت اور مفتاح الحقیقت میں ایک حدیث ہے جسے ملا باقر علی مجلسی نے بحارُ الانوار میں قاضی نورُاللہ شوستری نے سیدنا صادقؒ سے بیان کیا ہے کہ:

غیبت بہت بڑا گناہ ہے اور بہتان و افتراء اس سے بھی بڑھ کر ہے جب عام آدمیوں کے حق میں غیبت اور بہتان گناہ کبیرہ ہے تو اصحابِ رسولﷺ کے حق میں کس قدر بڑا گناہ ہو گا پس ان کے حق میں نیک اعتقاد رکھنا ضروریاتِ دین میں سے ہے ان کے فضائل بیان کرنے میں رطبُ اللسان رہنا چاہیے اور ان کے دشمنوں سے نفرت رکھنا چاہیے (آیاتِ بینات جلد 1 صفحہ 103

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین امت کے افضل ترین افراد تھے شیعہ کے گیارہویں امام سیدنا حسن عسکریؒ کی تعلیمات

شیعہ کے گیارہویں امام سیدنا حسن عسکریؒ (260ھ) کی ایک تفسیر شیعہ گروہ کے ہاں معروف ہے تفسیرِ سیدنا حسن عسکریؒ میں آپ کا ارشاد ہے کہ:

 1۔ تمہیں یہ حکم ہے کہ تم ان لوگوں کے راستے پر چلو جن پر یوں انعام ہوا کہ اللہ و رسولﷺ پر ایمان حضرت محمدﷺ ان کی پاکیزہ آل اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو افضل ترین امت اور منتخب شدہ تھے سے محبت کی توفیق ہوئی (صفحہ 25)۔

2۔ جو مرد یا عورت حضرت محمدﷺ آپﷺ کی آل اور آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھے اور ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھے تو اس نے خدا کے عذاب سے بچاؤ کے لیے ایک مضبوط قلعہ بنالیا اور محفوظ رکھنے والی ڈھال بنائی (صفحہ 25)۔

ایک جگہ ارشاد ہے:

3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے آپ کی اولاد نکالی جن میں انبیاء و رسل علیہم السلام اور اللہ کے بندوں کے کئی لشکر تھے سب سے بہتر حضرت محمدﷺ اور آل محمدﷺ تھے اور ان سے فاضل و بہترین حضرت محمدﷺ کے اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور آپﷺ کی امت کے نیکو کار لوگ تھے (صفحہ 192 اور صفحہ 33)

ایک جگہ فرماتے ہیں:

4۔ ربِ تعالی نے فرمایا اے آدم علیہ السلام اگر آلِ محمدﷺ کے نیکو کاروں کا کوئی آدمی تمام انبیاء علیہم السلام کی آل کے ساتھ تولا جائے تو ان سے بھاری نکلے اور حضرت محمدﷺ کے نیکوکار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا کوئی آدمی تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے صحابہ کے ساتھ تولا جائے تو تمام پر بھاری ہو۔

اے آدم علیہ السلام ایک کافر یا سب کفار آلِ محمدﷺ یا اصحابِ محمدﷺ کے کسی فرد سے محبت رکھیں تو اللہ تعالیٰ اسے یوں بدلہ دے گا کہ اسے توبہ اور قبول ایمان کی توفیق دے کر جنت میں داخل کرے گا اللہ تعالیٰ حضرت محمدﷺ آپﷺ کی آل آپﷺ کے اصحابِ سے محبت رکھنے والے پر اتنی رحمت برساتے ہیں کہ اگر اللہ کی روزِ اول سے لے کر آخر تک کفار مخلوق پر بھی تقسیم کی جائے تو سب کو کافی ہو اور انہیں انجام خیر تک پہنچادے جو قبولیت ایمان ہے تاکہ وہ جنت کے مستحق ہو جائیں۔

اور جو شخص آلِ محمدﷺ یا اصحابِ محمدﷺ یا ان کے کسی فرد سے بغض رکھے تو اس کو اللہ تعالیٰ اتنا سخت عذاب دیں گے کہ اگر اس کو اللہ کی تمام مخلوق پر تقسیم کیا جائے تو سب ہی کو ہلاک کر ڈالے (تفسیر حسن عسکریؒ صفحہ 196 ماخوذ از عدالتِ صحابه کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مولفه مولانا مصر محمد میانوالوی)۔

فوائد و نتائج

سیدنا حسن عسکریؒ کے ارشادات کا خلاصہ یہ ہے کہ:

صفحہ 2 از 18