شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 3 از 18

1۔ صحابه کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین افضل ترین امت اور اللہ کی طرف سے منتخب شدہ تھے۔

2۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھنے والے پر اللہ کی بے پایاں رحمت برستی ہے اور عذاب سے حفاظت ہوتی ہے۔

3۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پہلے تمام انبیاء علیہم السلام کے اصحاب سے بہترین اور افضل تھے۔

4۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض و عناد رکھنا اللہ کے غضب و غصہ کو دعوت دیتا ہے۔

5۔ اگر کوئی کافر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھے تو اللہ تعالیٰ اس محبت کی بدولت اسے ایمان کی توفیق نصیب فرما دیتا ہے۔

 آنحضرتﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ستاروں کی طرح تھے شیعہ کے آٹھویں امام سیدنا رضاؒ کا ارشاد

ابو علی حسن بن احمد حاکم کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن یحییٰ صدفی نے کہا ان سے محمد بن موسیٰ نصر رازی نے ان سے ان کے والد نے روایت کی کہ (شیعہ گروہ کے آٹھویں) امام سیدنا رضاؒ سے اس حدیث:

اصحابی کالنجوم بايهم اقتديتم اهتديتم۔

میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ستاروں کی طرح ہیں جس کے پیچھے چلو گے ہدایت پا جاؤ گے۔

اور حدیث دعوا الى اصحابی (میرے لیے میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بد گوئی چھوڑ دو) کے متعلق پوچھا گیا تو سیدنا رضاؒ نے فرمایا: ہٰذا صحیح یعنی یہ حدیث صحیح ہے ( عیون الاخبار بحوالہ عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین)

فوائد و نتائج

سیدنا رضاؒ کی حدیث پاک کی تائید سے یہ بات واضح ہو گئی کہ:

1۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آسمان ہدایت کے ستارے سمجھتے تھے۔

2۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اقتداء ہی میں ہدایت کو مضمر جانتے تھے۔

3۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اس حدیث پاک کو بالکل صحیح خیال فرماتے تھے۔

نوٹ: شیخ صدوق نے معانی الاخبار میں علامہ طبرسی نے احتجاج میں اور ملا باقر مجلسی نے بحار الانوار میں ملا حیدر علی املی اثنا عشری نے جامع الاسرار میں اس حدیث کے مضمون کی صحت کا اقرار کیا ہے (آیاتِ بینات)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اکثریت قابلِ مدح ہے ( بعض شیعہ کا اقرار)

عمدة المحدثین حضرت شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلویؒ کی کتاب مستطاب تحفہ اثنا عشریہ کا جواب دیتے ہوئے صاحب نزہتہ اثنا عشریہ اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ:

اماميه جميع اصحاب را مقدوح و مجروح نمی دانند بلکه بیساری از صحابه عظام راجليل القدر و ممدوح بلکه از اولیاء و مستحق رہمت و رضوان ملک منان میں پندار ندرد صحيفه کامله که فرقه حقه آنراز بور آل محمدﷺ‎ گویند دعائیکه از حضرت سید الساجدين عليه السلام ماثور است شاید عدل این دعوی است (بحوالہ آیاتِ بینات جلد 1 صفحہ 105)۔

ترجمہ: فرقہ امامیہ کے نزدیک تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ناقابلِ شہادت و کمزور و معیوب نہیں بلکہ اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جلیل القدر اور لائق مدح اور اولیاء کرام متصور کیے جاتے ہیں انہیں مستحق رحمت و پروردگار سے رضا مند کیا جاتا ہے فرقہ حقہ جنہیں زبور آلِ محمدﷺ کہتا ہے ان کی بابت صحیفہ کاملہ میں سید الساجدین (سیدنا زین العابدینؒ) کی دعائے ماثورہ ہمارے اس دعویٰ کی شاہد عدل ہے۔

1۔ صحابِ نزہتہ اثنا عشریہ نے اس عبارت میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اکثریت قابلِ مدح ہے یعنی ان کی تعریف کی جائے۔

2۔ صاحب نزہت کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اولیاء اللہ تھے۔

3۔ صاحبِ نزہتہ کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خدا کے رحمت و رضوان کے مستحق تھے اور خدا بھی ان سے راضی تھا۔

4۔ صاحبِ نزہتہ کے نزدیک سیدنا زین العابدینؒ کی دعا ثابت ہے اور امام موصوف نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف فرمائی ہے اور ان کی عظمت کا اعتراف کیا ہے لیکن کلینی مجلسی خمینی اور بعد کے شیعہ اس کے منکر ہیں۔

اس لیے ہم کہیں گے کہ نزھئہ اثنا عشریہ کے مصنف کا مدحِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اقرار تقیہ پر مبنی ہے شیعہ کے پانچویں امام سیدنا باقرؒ کا اعلان خلفاءِ ثلاثہؓ کی عیب جوئی سے میں بیزار ہوں

سیدنا باقرؒ کے بارے میں شیعہ مجتہد صاحب الفصول کہتا ہے کہ:

آپ کا گزر ایک جماعت پر ہوا جو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ کی عیب جوئی میں مصروف تھی۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ کیا تم ان مہاجرین میں سے ہو جو خدا کے لیے اپنے گھروں سے نکالے لیے اور خدا کے لیے ان کا مال لوٹا گیا اور خدا و رسولﷺ کی مدد کی؟ کہنے لگے نہیں پھر آپ نے پوچھا کیا تم ان لوگوں سے ہو جنہوں نے مہاجرین کے آنے سے قبل ہی ایمان قبول کر کے ان کے لیے رہائش کا انتظام کر رکھا تھا اور مہاجرین سے محبت رکھتے تھے؟ انہوں نے کہا تھا نہیں تو سیدنا باقرؒ ؒنے فرمایا کہ تم خود اپنے اقرار سے ان دونوں (جماعتوں) سے بیزار ہوئے اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ تم ان لوگوں میں سے بھی ہرگز نہیں جن کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَ الَّذِیۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَ لِاِخۡوَانِنَا الَّذِیۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِیۡمَانِ وَ لَا تَجۡعَلۡ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّکَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ۝ (پارہ 28 سورۃ الحشر رکوع نمبر 1)۔

 ترجمہ: اور ان لوگوں کا جو ان کے بعد آئے جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں میں حضراتِ خلفاءِ ثلاثہؓ کی محبت تھی۔

3۔ آپ کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خدا کے لیے اپنا گھر چھوڑا اور خدا کے لیے ان کا مال کام آیا۔

4۔ آپ کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خدا اور اس کو رسولﷺ کے دین کی نصرت کی۔

5۔ آپ کے نزدیک جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کے آپ اس سے بیزار ہیں۔

سیدنا علیؓ کی طرف سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ایمان افروز كلمات

صفحہ 3 از 18