شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 4 از 18

ولوددت ان الله فرق بینی و بینکم و الحقنی بمن هو احق بی منكم قوم والله میامین الراى مراجيع العلم مقاويل بالحق متاريك للبغى مضوا قدما على الطريقه و اوجفو على المحجه فظفروا بالعقبی الدامه والكزامه البارده اما والله ليسلطن عليكم غلام ثقيف الذيال الميال ياكل خضرتكم ويذيب شحمتكم ايه انا ودخه

(نہج البلاغه خطبہ 117 صفحہ 174 مطبوعہ بیروت)۔

اب تو میری دعا ہے اور میں اس بات کو پسند رکھتا ہوں کہ پروردگارِ عالم میرے اور تمہارے درمیان تفرقہ اندازی کر دے اور مجھے ان لوگوں کے ساتھ ملحق فرما دے جو تم سے زیادہ میرے لیے سزاوار ہوں وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایسے لوگ تھے قسم خدا کی ان کی رائیں اور تدبیریں مامون و مبارک تھیں وہ دانش مندانہ اور حکیمانہ بردباریوں کے مالک تھے وہ راست گفتار وہ بغاوت اور جور و ستم کے ختم کرنے والے تھے گزر گئے دراں حالیکہ ان کے پاؤں طریقہ اسلام پر مستقیم تھے وہ واضح پر چلے اور ہمیشہ رہنے والی سرائے عقبیٰ میں فتح و فیروزی حاصل کی نیک اور گوارا کرامتوں سے فیض یاب ہو گئے قسم خدا کی اب تم پر ایک درشت خو بلند قامت اور جور و ستم کرنے والے کا بیٹا مسلط ہوگا اور تمہارے سبزہ زاروں کو کھا جائے گا تمہاری چربیوں کو پگھلائے گا۔

(ترجمه نیرنگ فصاحت مطبوعہ دہلی صفحہ 168)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف میں تاریخ ساز کلمات

شرح ابنِ میثم

اس خطبہ کی شرح ابنِ میثم نے ان الفاظ کے ساتھ کی:

ثم عقب ذلك بالتبرم منهم وطلب فراقهم وللحاق باخوانه من اولياء الله مبارك الارا ثقال الحلوم لا يستخفنهم جهل الجهال ملازمی الصدق و نصيحته الدين من شانهم ترك البغى على انفسهم و غيرهم مضوا على الطريقته الحميداه سالكين لمحجته الله غير ملتفتين عنها فوصلوا الى التواب الذائم والنعيم وسلم اذا مرهم رسول اللهﷺ ابتدروا امره و اذا توضا ثاروا ويقتتلون على وضوئه واذا تكلموا خفضوا اصواتهم عنده وما يحدون اليه انظر تعظيما له قال فرجع عروه الى اصحابه و قال ای قوم والله لقد و فدت على الملوك ووفدت على قيصر و كسرىٰ و النجاشی والله ان رايت ملكاق يعظمه اصحابه ما يعظم اصحابه محمد اذا امرهم ابتدروا امره و اذا توضا كادوا يفتتلون على وضوئه واذا تكلمو اخفضوا اصواتهو عنده وما يحدون اليه النظر تعظيما له

(تفسیر مجمع البیان جلد 5 جزء 9 صفحہ 117۔118)

صلح حدیبیہ کے مقام پر "عروہ" یہ منظر چھپی نگاہوں سے دیکھتا رہا کہ رسول اللہﷺ جب اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کسی کام کا حکم دیتے وہ اس پر لپک جاتے اور جب وضو فرماتے تو وضو کے پانی کو حاصل کرنے کے لیے لڑائی تک نوبت پہنچ جاتی جب حضورﷺ سے گفتگو کرتے تو ان کی آوازیں انتہائی باادب اور پست ہوتیں اور آپﷺ کی تعظیم کے پیشِ نظر آنکھ بھر کر آپﷺ کو نہ دیکھتے "عروہ" جب اپنے ساتھیوں کی طرف واپس آیا تو کہنے لگا خدا کی قسم عجیب فرمانبردار لوگ ہیں میں وفد کی صورت میں مختلف بادشاہوں کے پاس گیا قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار میں بھی گیا لیکن خدا کی قسم! میں نے آج تک ایسا کوئی بادشاہ نہ دیکھا جس کی تعظیم و عزت اس کے ساتھی ایسی کرتے ہوں جیسی محمد(ﷺ) کے ساتھی ان کی تعظیم کرتے ہیں وہ جب انہیں کسی کام کا کہتے ہیں اس پر عمل کے لیے فوراً آمادہ ہو جاتے ہیں اور وضو کے پانی کی حصول میں ایک دوسرے سے دھکم پیل ہو جاتے ہیں اور دورانِ گفتگو از روئے تعظیم اپنی آوازوں کو انتہائی پست رکھتے ہیں اور عظمت کی خاطر آپﷺ کی آنکھوں میں آنکھیں نہیں ڈال سکتے۔

نبی پاکﷺ کی تمام مہاجرین و انصار کے حق میں دعائے مستجاب

نبی پاکﷺ جب ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ پہنچے تو آپﷺ نے مسجد بنانے کا ارادہ فرمایا تو آپﷺ نے بمع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خود بھی اپنے دستِ مبارک سے کام کیا تو جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کام کر رہے تھے تو یہ اشعار پڑھ رہے تھے۔

"لئن قعدنا والنبتی يعمللذلك منا العمل المضلل"

یعنی اگر ہم کام کرنے سے بیٹھ جائیں اور نبی پاکﷺ یہ کام کرتے رہے۔

الحق این عمارؓ و این ابنِ النيهان و این ذو الشهادین و این نظراهم من اخوانهم الذين تعاقدوا على المنيه و ابرد بروسهم الى الفجره قال ثم ضرب يده على لحيته الشريفت فاطال البكاثم قال عليه السلام اوه على اخوانی الذين قراوا القرآن واحكموه وتديرو الفرض فاقاموه احيوالسنه و اماتو البدعه دعو للجهاد فاجابوا ووثقو بالقاعدفاتبعوه

(نہج البلاغه خطبہ 182 صفحہ 264)

کہاں ہیں وہ میرے بھائی جو راہ خدا میں سوار ہوئے تھے اور اسی اعتقاد حقہ پر گزر گئے کہاں ہے سیدنا عمارؓ کدھر ہے ابنِ تہیان کس طرف ہے ذوالشہادتین (سیدنا خزیمہؓ جنہیں رسول خداﷺ دو عادل گواہوں کے برابر سمجھتے تھے) کہاں ہیں ان کی مثالیں اور کس طرف ہیں ان کے دینی بھائی جو خدا کی راہ میں مرنے کی قسمیں کھائے ہوئے تھے اور جن کے سر فاسق و فاجر شامیوں کی طرف بھیجے گئے راوی کہتا ہے کہ یہ فرما کر حضرت نے ریش مبارک پر ہاتھ پھیرا ہے بہت دیر تک روئے پھر فرمایا آہ!وہ میرے دینی بھائی جو قرآن کی تلاوت کرتے تھے وہ امورِ واجبات میں تفکر سے کام لیتے ہوئے انہیں قائم کرتے تھے وہ سنتِ پیغمبر کو جلاتے تھے وہ بدعتوں کو دور کرتے تھے جب انہیں جہاد کی طرف بلایا جاتا تو نہایت خوشی سے قبول کرتے تھے اپنے پیشوا پر بھروسہ رکھتے تھے اور اس کے ادامر و نہی کی اطاعت کرتے تھے(نیرنگ فصاحت صفحہ 368)

نبیﷺ کا غسالہ حاصل کرنے کے لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جان دینے پر تیار ہو جاتے تھے:

ثم ان عروه جعل يرمق اصحاب النبیﷺ فقد صدقك فانصرف رسول اللهﷺ فلما دخل عثمانؓ اخبرته بزالک فاتی رسول الله (ﷺ) هو واصحابه فقال لهم رسول اللهﷺ الم انبكم انكم اتفتم على كذا و كذا قالو بلىٰ يا رسول اللهﷺ وما اردنا الا الخير فقال رسول اللهﷺ انی لم اومر بذالك ثم قال ان لانفسكم عليكم حقا فصومو وافطرو وقومو و نامو فانی اقوم و انام و اصوم و فطرو اكل اللحم الدسم واتى النسا و من رغب عن سنتی فلیس منی

(تفسیر مجمع البیان جلد دوم جز سوم صفحہ 235۔236)

صفحہ 4 از 18