شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 5 از 18

مفسرین نے کہا ہے کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے بیٹھ کر لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے جب قیامت کے واقعات بیان فرمائے تو حاضرین پر رقت طاری ہوگی اور سب نے رونا شروع کر دیا ان میں سے دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سیدنا عثمان بن مطعمون الجمعیؓ کے گھر جمع ہوئے جو یہ تھے سیدنا علیؓ سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سیدنا ابوذر غفاریؓ سیدنا سالمؓ ابوحذیفہ کے مولیٰ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سیدنا مقدادؓ بن اسود الکندی سیدنا سلمان فارسیؓ اور سیدنا معقل بن مقرنؓ ان تمام نے اس پر اتفاق کیا کہ اب ہم سب دن کو روز دار ہوں گے رات کو جاگ کر اللہ کی عبادت کیا کریں گے بستر پر نہیں سوئیں گے گوشت اور چربی نہیں کھائیں گے عورتوں کے قریب نہ جائیں گے خوشبو نہ لگائیں گے موٹے کپڑے پہنیں گے دنیا کو چھوڑ دیں گے زمین میں سفر کریں گے یہاں تک کہ بعض نے اپنے آلہ تناسل کٹوانے کا بھی ارادہ کر لیا حضورﷺ کو ان حالات کا علم ہوا تو آپ سیدنا عثمانؓ بن مطعون کے گھر تشریف لائے لیکن یہ نہ مل سکے تو آپﷺ نے ان کی بیوی سیدہ ام حکیمؓ بنت ابی امیہ جن کا نام حولاء تھا جو عطر فروشی کرتی تھیں کو فرمایا کیا تیرے خاوند اور اس کے ساتھیوں کے متعلق جو حالات پہنچے وہ درست ہیں تو اس نے حضورﷺ کے سامنے جھوٹ بولنا بھی اچھا نہ سمجھا اور اپنے خاوند کے بارے میں آگاہی دینا بھی اچھا نہ سمجھا تو عرض کی حضورﷺ! اگر سیدنا عثمانؓ نے آپﷺ کو اطلاع دی تو اس نے آپﷺ سے سچ کہا ہے حضورﷺ واپس چلے گئے جب سیدنا عثمانؓ گھر آئے ان کی بیوی نے سب کچھ بتایا توسیدنا عثمانؓ اور ان کے ساتھی حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپﷺ نے انہیں فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتادوں کہ تم نے فلاں فلاں باتوں پر اتفاق کر لیا ہے انہوں نے عرض کی یارسول اللہﷺ لیکن ہمارا ارادہ صرف بھلائی کا ہی ہے تو آپﷺ نے فرمایا مجھے اس طرح کرنے کا حکم نہیں دیا گیا پھر فرمایا تمہارے جسموں کا بھی تم پر حق ہے روزہ رکھو اور کبھی نہ رکھو کبھی رات جاگو اور کبھی نہ جاگو میں بھی رات جاگتا ہوں اور سوتا ہوں اور روزہ رکھتا ہوں اور کبھی نہیں رکھتا گوشت اور چربی کھاتا ہوں عورتوں کے پاس بھی جاتا ہوں جس نے میری سنت سے روگردانی کی وہ مجھ سے نہیں۔

سیدنا علیؓ یادِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اکثر داڑھی مبارک پکڑ کر رویا کرتے تھے

این اخوانی الذين ركبوا الطريق ومضوا على ايديهم به فكانو في منازلهم عنده على قدر فضائلهم فی الاسلام و كان افضلهم فى السلام كما زعمت و انصحهم لله و رسوله الخليفه الصديقؓ و خليفه الخليف الفاروع والعمری ان مكانهما في السلم العظيم وان المصاب بهما لجرح فی السلام شديد رحمهما الله و جزا هما باحسن ما عملا

(ابنِ میثم شرح نهج البلاغه جلد صفحہ 4 صفحہ 361۔362)

(سیدنا علیؓ نےسیدنا امیرِ معادیہؓ کو خط کا جواب دیتے ہوئے لکھا)

تم نے جو یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کے لیے مسلمانوں میں سے مدد گار منتخب فرما کر ان کے ذریعہ آپﷺ کو تقویت دی اور آپﷺ کی بارگاہ میں ان مراتب کے حساب سے تھے جو اسلام میں فضیلت کے اعتبار سے سب سے افضل اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی خیرخواہی میں سب سے بہتر خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہیں اور پھر ان کے خلیفہ سیدنا فاروقِ اعظمؓ ہیں مجھے قسم ہے کہ ان دونوں صاحبوں کا اسلام میں ایک عظیم مرتبہ ہے اور ان کے وصال پر اسلام میں سخت مصائب کا دور آیا اللہ ان دونوں پر رحم فرمائے اور انہیں ان کے کیے کی بہترین جزا عطا فرمائے۔

علامہ بحرانی کی شرح

نہج البلاغہ کی شرح کرتے ہوئے علامہ بحرانی نے مذکورہ خطبہ میں چند امور خاص طور پر ثابت کیے جنہیں ہم من و عن نقل کر دیتے ہیں۔ 

ابنِ میثم

احدها: الشعت والاغبرار وهو اشاره الى قشفهم و تركهم زينه الدنيا ولذاتها۔

الثاني: بياتهم سجدا وقياما واشاربه الى احيائهم الليل باصلوه و هو كقوله تعالىٰ والذين يبيتون لربهم سجدا و قياما۔

الثالث: مراوحتهم بين جباههم و خدود هم وقد كان احدهم اذا تعبت جبهته من طول السجود رواح بينها وبين خديه۔

الرابع: وقوقهم على مثل الحمر من ذكر معادهم و اشاار به قلقهم ووجدهم من ذكر المعاد و اهوال يوم القيمه كما يقلق الراقف على الحمر مما يجده من حرارته۔

الخامس: كان بين اعينهم ركب المعزى من طول سجودهم ووجه المشابهه ان محال سجودهم من جياههم كانت قد اسودت وماتت جلودها وقست كما ان ركب المعزى کذلک۔

السادس:   انهم كانوا اذا ذكروا الله هملت اعينهم حتىٰ تبل جيوبهم ومن روى جباههم فذلك فی حال سجودهم ممكن وما دوا كما تميدا شجر بالريح العاصف خوفا من عقاب ربهم ولجاء ثوابه فتاره يكون ميدا هم وقلقهم عن خوف الله وتاره يكون عن ارتباه واشتياق الى ما عنده من عظيم توابه وهو كقوله تعالىٰ الذين اذا ذكر الله وجلت قلوبهم

(شرح نهج البلاغه ابنِ میثم جلد دوم خطبه 94 صفحہ 308)۔ 

1۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بالوں کا پراگندہ ہونا اور غبار آلود ہونا بایں وجہ تھا کہ انہوں نے دنیا کی لذات اور زینت کو اچھا نہ سمجھتے ہوئے ترک کر دیا تھا۔ 

2۔ سجدہ اور قیام میں ان کا راتیں بسر کرنا قرآنِ کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا۝ (سورة الفرقان آیت نمبر 64)

 اللہ کے بندے رات قیام و سجود میں گزرا دیتے ہیں۔  

3۔ کبھی پیشانی اور کبھی رخسار پر سجدہ کرنے کی وجہ یہ تھی جب پیشانی پر سجدہ کی طوالت سے تھک جاتے تو رخسار پہ سجدہ کر لیتے۔  

4۔ آخرت کو یاد کرتے ہوئے انگاروں پر کھڑا ہونا اس سے مراد یہ ہے کہ وہ قیامت کی خطرناک حالت کو یاد کر کے بے قرار ہو جاتے جس طرح انگاروں کے پس کھڑا آدمی ان کی حرارت سے خوفزدہ ہو جاتا ہے۔

5۔ ان کی آنکھوں کے درمیان پیشانی پر طول سجدہ کی وجہ سے بکری کے گھٹنے کی طرح نشان سے یہ مراد ہے کہ ان کی پیشانی کا چمڑہ سجدہ کرتے کرتے اس قدر بے حس ہو گیا تھا کہ اس میں سختی اور سیاہی آچکی تھی۔ 

صفحہ 5 از 18