شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 6 از 18

6۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتے وقت ان کی آنکھیں آنسووں میں ڈوب جاتیں یہاں تک کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے اور جس آدمی نے جباههم کی روایت کی ہے تو یہ سجدہ کی حلت میں (رونا) ہی ممکن ہے خوفِ خدا اور امیدِ رحمت سے ایسے لرزتے جس طرح آندھی میں درخت اِدھر اُدھر جھکتا ہے پس کبھی ان کا لرزنا اللہ تعالیٰ کے خوف سے ہوتا اور کبھی اللہ تعالیٰ سے اجرِ عظیم کے اشتیاق میں ہوتا اس میں ایک آیت کی طرف اشارہ ہے ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتۡ قُلُوبُہُمۡ الخ (سورۃ الانفال آیت نمبر 2)

 وه لوگ کہ جب اللہ کی یاد ہوتی ہے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔

خلاصہ کلام

علامہ بحرانی شیعی نے جو امور ذکر کیے ثابت کیا ہے کہ یہ سب سیدنا علیؓ کے خطبہ سے حاصل ہوتے ہیں ان میں درحقیقت ان آیات کی طرف اشارہ ہے جو کامل الایمان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں نازل فرمائی ہیں جیسا کہ ہم نے "دلیل ہفتم" میں اس کو وضاحت سے بیان کر دیا ہے لہٰذا اس تشریح و تفسیر سے بھی معلوم ہوا کہ جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کامل الایمان تھے اور اللہ کے ہاں مغفور و مرحوم اور جنتی ہیں۔ 

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے کاملِ الایمان اور جنتی ہونے پر ایک اور دلیل

آیت

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا وَّعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُوۡنَ۝الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَؕ اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ‌ؕ لَهُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ وَمَغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ‌ۚ

(پارہ 9 رکوع 10 سورۃ الانفال آیت نمبر 3 4 5)

کامل مومن تو صرف وہی ہیں کہ خدا کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل (اس کی ہیبت اور جلال سے) ہل جاتے ہیں اور جب اس کی آیتیں ان پر پڑھی جاتی ہیں تو ان کے ایمان کو بڑھا دیتی ہیں اور وہ صرف اپنے پروردگار پر ہی بھروسہ کرتے ہیں جو (با قاعدہ) نماز میں پڑھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہی لوگ حقیقی مومن ہیں انہی کے لیے ان کے پروردگار کے پاس درجے ہیں اور بخشش ہے اور آبرو کی روزی۔

سیدنا علیؓ لقب صدیق و فاروق کے ساتھ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کو موسوم فرماتے تھے

(سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو خط کا جواب دیتے ہوئے لکھا):

تم نے جو یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کے لیے مسلمانوں میں سے مددگار منتخب فرما کر ان کے ذریعہ آپ کو تقویت دی اور آپ کی بارگاہ میں ان مراتب کے حساب سے تھے جو اسلام میں فضیلت کے اعتبار سے ان کو ملے تمہارے خیال کے مطابق ان میں سے اسلام کے اعتبار سے سب سے افضل اور اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی میں سب سے بہتر خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہیں اور پھر ان کے خلیفہ سیدنا فاروقِ اعظمؓ  سیدنا علیؓ ہیں مجھے قسم ہے کہ ان دونوں صاحبوں کا اسلام میں ایک عظیم مرتبہ ہے اور ان کے وصال پر اسلام میں سخت مصائب کا دور آیا اللہ ان دونوں پر رحم فرمائے اور انہیں ان کے کیے کی بہترین جزا عطا فرمائے۔

خلاصه کلام

سیدنا علی المرتضیٰؓ کا ان دونوں حضراتؓ کو "صدیق و فاروق" کہنا اور پھر ان کے وصال پر اسلام کو نقصانِ عظیم پہنچنے کا ارشاد فرمانا اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا علیؓ ان کو خلیفہ برحق تسلیم کرتے تھے تبھی ان کے لیے دعائے رحم اور جزائے خیر کی دعا کی بالفرض اگر یہ حضراتؓ ناجائز خلیفہ اور غیر شرعی ہوتے تو ان کے وصال پر اسلام کو بجائے نقصان کے فائدہ پہنچتا اور سجدہ شکر ادا کیا جاتا نہ کہ دعائے خیر کی جاتی سیدنا علیؓ قسمیہ فرما رہے ہیں کہ ان کا اسلام میں عظیم مرتبہ تھا اور ان کا وصال اسلام کے لیے بہت نقصان دہ ہے خدا رحمت کند بر عاشقان پاک طینت را اگر سیدنا علیؓ کے نزدیک ان کا اسلام اور ان کی خلافت ناجائز اور فریب ہوتا تو بعد از وصال دعائے مغفرت نہ کی جاتی کیوں کہ یہ مسلمہ بات ہے کہ کافر کے لیے دعائے مغفرت بھی کفر ہے۔ 

قول سیدنا علیؓ: جب سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ خلافت کا حق ادا کر دیا توہم نے ان سے ناراضگی چھوڑ دی

واقعہ صفین:

قال اما بعد فان الله بعث النبیﷺ فالقذبه من الضلاه والغش به من الهلكه وجمع به بعد الفرقه ثم قبضه الله اليه وقد ادى ما عليه ثم استخلف الناس ابابكرؓ ثم استخلف ابوبكرؓ عمرؓ و احسنا السيره وعدلا فى الامه وقد وجدنا عليهما ان توليا الامردوننا ونحن الى الرسول واحق بالأمرفغفرنا ذالك لهما

(واقعہ صفین صفحہ 149 مطبوعہ عباسیہ بیروت)

حمد و صلوۃ کے بعد سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نےنبی کریمﷺ کو بھیج کر لوگوں کو گمراہی اور ضلالت سے نجات دی اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہلاکت سے بچایا۔ مختلف ٹکڑوں میں بٹے ہوئے لوگوں کو ایک جگہ جمع فرمایا۔ پھر اللہ نے آپﷺ کو اپنے پاس بلایا بلانے سے قبل آپﷺ نے اپنے ذمہ تمام امور ادا کر دیے تھے آپﷺ کے بعد لوگوں نےسیدنا ابوبکرؓ کو خلیفہ بنایا اور سیدنا ابوبکرؓ نے سیدناعمرؓ کو خلیفہ بنایا یہ دونوں سیرت و کردار میں اعلیٰ پایہ کے انسان تھے اور امت میں خوب عدل کیا ہمیں ان دونوں سے یہ شکایت تھی کہ ہم آلِ رسولﷺ جو خلافت کے زیادہ حق دار ہیں ہم سے بغیر پوچھے یہ لوگ خلیفہ بن گئے لیکن ہم نے ان کی اس غلطی کو معاف کر دیا (کیوں کہ امت میں عدل و انصاف کرنا ہی ہمارا مقصود تھا جو انہوں نے بخوبی انجام دیا۔ 

مذکورہ خطبہ سے ثابت ہوا کہ

1۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکرصدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کی حُسنِ سیرت اور امت میں عدالت کی برقراری کی تعریف وتحسین فرمائی۔ 

2۔ ابتدا سیدنا علیؓ کو ان سے مشورہ نہ کرنے کی وجہ سے کچھ ناراضگی تھی اور ان کا خیال تھا کہ آلِ رسولﷺ ہونے کی وجہ سے رسول اللہﷺ کی خلافت کا حق ہمیں پہنچتا ہے لیکن جب منشاء خلافت دیکھا کہ ان دونوں نے سیرت کا اعلیٰ معیار اپنایا اور امت میں عدالت فرمائی تو ناراضگی دور فرما دی اور صاف اعلان فرمایا کہ ہم نے انہیں معاف کر دیا۔

سیدنا علیؓ سیدنا ابوبکرؓ کی اقتداء میں نماز پڑھتے رہے

صفحہ 6 از 18