شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 7 از 18

ثم قال و تهيا للصلوة و حضرت المساجد وصلیٰ خلف ابی بکرؓ

 پھر سیدنا علیؓ  اٹھے اور نماز کی تیاری کر کے مسجد میں تشریف لائے اور ابوبکر صدیقؓ کے پیچھے ان کی اقتداء میں نماز پڑھی( تفسیرِ قمی صفحہ 503)۔ 

اگر مسئلہ خلافت "اصول دین" میں سے ہوتا اور یہ حق صرف اور صرف سیدنا علیؓ کا ہوتا تو سیدنا ابوبکرؓ اس کے غاصب بن کر اور اصول دین کے منکر ہو کر (معاذ اللہ) اسلام سے خارج ہو جاتے اور خارج از اسلام کی بیعت پھر اس کے پیچھے نماز جیسی اہم عبادت ایک عام مسلمان بھی نہیں سوچ سکتا چہ جائے کہ سیدنا علیؓ جیسی عظیم شخصیت ان دونوں باتوں کا ارتکاب کرتی۔

لہٰذا معلوم ہوا کہ امرِ خلافت "اصولِ دین" میں سے نہیں پھر تقاضائے بشری کے مطابق اگر ابتدا سیدنا علیؓ کو بعض وجود کی بنا پر ناراضگی بھی تھی تو آپؓ نے اسے ختم فرما دیا تھا اور معاف کر دیا تھا اب میں شیعہ حضرات سے پوچھتا ہوں کہ سیدنا علیؓ نے معاف کر کے امرِ خلافت سیدنا ابوبکرؓ کو سپرد کر دیا تو تمہاری ناراضگی اب کیا کرسکتی ہے نہ تو تم سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے خلافت چھین سکتے ہو اور نہ تمہاری ناراضگی سے سیدنا علیؓ کو معافی میں کچھ رد و بدل ہو سکتا ہے۔ لہٰذا تم خود بتاؤ اس ناراضگی سے تم کیا چاہتے ہو جو تم چاہتے ہو وہ تو مل نہیں سکتا البتہ اس ناراضگی کا ثمرہ اللہ سے ضرور پاؤ گے اس کے لیے انتظار کرو 

سیدنا علیؓ کے نزدیک حضرت شیخینؓ خلیفہ عادل تھے حق پر رہے اور حق پرہی ان کا وصال ہوا

امامان عادلان قاسطان كازا على الحق وماتا عليه فعليهما رحمه الله يوم اليمه (احقاق الحق صفحہ 16)

وہ دونوں (سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ) عادل اور مصنف امام تھے دونوں حق پر رہے اور حق پر ہی دونوں کا وصال ہوا قیامت کے دن ان دونوں پر اللہ کی رحمت ہو۔

مقامِ غور

سیدنا جعفر صادقؒ کا سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی اس طرح شان بیان کرنا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ ان حضراتؓ کی تمام زندگی اور پھر وفات "حق" پر تھی لہٰذا کسی دور میں قبولِ اسلام کے بعد ان میں کفر داخل نہ ہوا دراصل امام موصوف کا یہ ارشاد ایک سائل کے جواب میں وارد ہوا جس کے ذریعہ حضرات شیخینؓ کی شان میں زبان طعن دراز کرنے والوں کا آپؓ نے رد فرمایا۔ 

سیدنا حسنؓ خلفائے ثلاثہؓ کو خلفائے راشدینؓ سمجھتے تھے

سیدنا حسنؓ کا خطبہ 

ومن كلامه عليه السلام ما كتبه فی كتاب الصلاح الذی استقربينه وبين معاويهؓ حيث رائی حقن الدماء واطفاء الفتنه وهو بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما صالح عليه الحسن بن علیؓ بن ابی طالب معاويه بن سفيانؓ صالحه على ان يسله اليه ولايه امر المسلمين على ان يعمل فيهم بكتاب الله تعالىٰ وسته رسول اللهﷺ وسيره الخلفاء الراشدين وليس لمعاويةؓ بن ابی سفيان ان يعهد الى احد من بعده عهدا بل يكون الأمر من بعده شوری بین المسلمين وعلى ان الناس امنون حيث كانوا من أرض الله شامهم وعراقهم وحجازهم ويمنهم (کشف الغمه فی معرفة الائمه جلد اول صفحہ 570 مطبوعہ تبریز تذکره سیدنا حسنؓ فی کلامه و مواقعه)

سیدنا حسنؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس میں سے یہ بھی تھا اور یہ تحریر اس کتاب الصلاح میں تھی جو ان دونوں کے درمیان تحریر ہوئی جب کہ آپ نے ضروری سمجھا کہ فتنہ فرد ہو جائے اور خون محفوظ ہو جائیں اور وہ مضمون یہ تھا:

بسم الله الرحمن الرحیم یہ وہ صلح نامہ ہے جو سیدنا حسن بن علیؓ بن ابو طالب اور سیدنا معاویہ بن ابو سفیانؓ کے درمیان طے پایا وہ صلح یہ تھی مسلمانوں کی ولایت میں تمہیں اس شرط پر سپرد کرتا ہوں کہ تم کتابُ اللہ اور سنتِ رسول اللہﷺ میں علم اور سیرتِ خلفائے راشدینؓ کے مطابق عمل کرو گے اور سیدنا معاویہ بن ابوسفیانؓ کو اس بات کی قطعاً اجازت نہ ہوگی کہ وہ اس کے کسی سے اس قسم کا معاہدہ کرے بلکہ پھر معاملہ مسلمانوں کی باہمی مشاورت سے ہوگا اور اس بات پر بھی کہ مسلمان شام عراق حجاز اور یمن میں جہاں کہیں ہوں امن سے ہوں گے۔

خلفائے ثلاثہؓ کی گستاخی کرنے والوں کے حق میں سیدنا زین العابدینؒ نے بددعا فرمائی

وقدم اليه نفر من العراق فقالوا فی ابی بكرؓ و عمرؓ و عثمانؓ رضی الله عنهم فلما فرغوا من كلامهم قال لهم الا تخبرونی انتم المهاجرون الأولون الذين اخرجوا من ديارهم واموالهم يبتغون فضلا من الله و رضواناً و ينصرون الله و رسوله اولئك هم الصادقون؟ قالوا لا قال فانتم الذين تبوئو الدار والايمان من قبلهم يحبون من هاجر اليهم ولا يجدون فی صدورهم حاجة مما اوتو و يوثرون على انفسهم ولو كان بهم خصاصه قال لا قال اما انتم قد تبراتم ان تكونو من احد هذين الفريقين وانا اشهد انكم لستم من الذين قال الله فيهم والذين جاء وا من بعدهم يقولون ربنا اغفر لنا ولا خواننا الذين سبقونا بالايمان ولا تجعل في قلوبنا غلا للذين امنوا خرجوا عنى فعل الله بكم (کشف الغمہ فی معرفه الائمه جلد دوم صفحہ 78 مطبوعہ تبریز فی فضائل سیدنا زین العابدينؒ)

سیدنا زین العابدینؒ کے پاس عراقی وفد آیا اور اس نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ سیدنا عمر فاروقؓ اور سیدنا عثمانِ غنیؓ کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ کہے جب وہ تبرہ بازی کر چکے تو سیدنا زین العابدینؒ نے انہیں کہا کیا تم مجھے اس کی خبر نہیں دیتے کہ بقول قرآن جو لوگ پہلے پہل مہاجرین جنہیں ان کے گھروں اور اموال سے دور کر دیا گیا وہ اللہ سے اس کا فضل اور رضامندی چاہتے ہیں اور اس کے رسولﷺ کی مدد کرتے ہیں وہی سچے ہیں کیا تم ان میں سے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں سیدنا زین العابدینؒ نے پھر فرمایا کیا تم ان لوگوں میں سے ہو جن کی شان یہ ہے کہ وہ لوگ جو ہجرت کرنے والوں سے پہلے دار الہجرت میں مقیم اور ایمان پر قائم ہیں اور اپنی طرف ہجرت کر کے آنے والوں کو دوست رکھتے ہیں اور جو کچھ ہجرت کرنے والوں کو دیا گیا اس کے متعلق اپنے دلوں میں خواہش نہیں رکھتے اور اپنی ذات پر مہاجرین کو ترجیح دیتے ہیں اگر چہ انہیں اس کی خود بھی شدید ضرورت ہوتی ہے (القرآن)۔

صفحہ 7 از 18