شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 9 از 18

اور پھر سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ کو اکٹھے بیٹھے گفتگو کرتے دیکھا یہ سب بڑے خوش تھے اور ایک دوسرے کو مبارک بادیاں دے رہے تھے پھر میں نے دوسری طرف دیکھا تو مجھے رسول اللہﷺ آتے دکھائی دیے آپ کی دائیں جانب سیدنا حسینؓ چاندی کا پیالہ لیے ہوئے اور بائیں جانب سیدنا حسینؓ ہاتھ میں چاندی کا پیالہ تھامے تشریف لا رہے تھے حضورﷺ نے سیدنا حسینؓ سے پانی پلوانے کو کہا انہوں نے آپﷺ کو پانی پلایا پھر آپﷺ نے سیدنا حسینؓ کو فرمایا اس جماعت کو بھی پلاؤ تو انہوں نے سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانِ غنیؓ کو پلایا اور سیدنا علیؓ کو بھی پلایا پھر حضورﷺ نے سیدنا حسینؓ کو فرمایا اس اونچی جگہ پر تکیہ لگا کر بیٹھنے والو کو پلاؤ تو سیدنا حسینؓ نے عرض کی ابا جان! آپ اس کو پلانے کا حکم دے رہے ہیں اور وہ میرے والد سیدنا علیؓ پر روزانہ ایک ہزار مرتبہ لعنت کرتا ہے اور آج جمعہ کے دن اس نے چار ہزار مرتبہ لعنت بھیجی ہے تو حضورﷺ نے مجھے غصہ میں کہا تو سیدنا علیؓ پر کیوں لعنت کرتا ہے اللہ تجھ پر لعنت کرے آپ نے یہ الفاظ تین مرتبہ کہے تجھ پر افسوس ہے کہ تو سیدنا علیؓ کو برا بھلا کہتا ہے اور وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں تجھ پر اللہ کا غضب آپ نے یہ الفاظ تین مرتبہ کہے اور کہا اللہ تیری نعمتوں کو تبدیل کردے تیرے منہ کو سیاہ کردے تیری خلقت تبدیل کر دے یہاں تک کہ دوسروں کے لیے عبرت بن جائے یہ خواب دیکھ کر میں بیدار ہوا تو اس وقت میرا سر خنزیر کا سر اور میرا چہرہ خنزیر کے چہرہ کی مانند ہو گیا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔

خلفائے ثلاثہؓ کے ناموں پر 12 اماموں کی اولاد کے نام

سیدنا علیؓ ور انکی اولاد کا خلفائے ثلاثہؓ سے محبت کا ایک اور مظاہرہ (بحوالہ شیعہ کتب):

سیدنا علی المرتضیٰؓ اور آپؓ کی اولاد نے اپنے اپنے بچوں کے نام حضراتِ خلفائے ثلاثہؓ (سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ) کے نام نامی پر رکھے تھے محبت و مودت عقیدت و عظمت کی اس سے بڑی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے؟ کیا کبھی کسی نے یہ دیکھا ہے کہ لوگوں نے اپنے دشمنوں اور کافروں کے نام پر اپنے محبوب بچوں کے نام رکھے ہوں؟ کیا کسی نے اپنے بچوں کے نام ابلیس فرعون ہامان نمرود شداد ابوجہل اور ابولہب رکھے ہیں؟ کیوں؟ اس لیے کہ وہ خدا کے دشمن اور اس کے پیغمبر علیھم السلام کے دشمن تھے ان کا نام رکھنا تو در کنار سننا بھی گوارا نہیں اور اگر کسی نے کہہ بھی دیا تو پھر دیکھیئے کتنی صلواتیں سناتے ہیں؟ اسی طرح معاذ اللہ ثم معاذ اللہ حضراتِ خلفائے ثلاثہؓ و ازواجِ مطہراتؓ خدا اور اس کے رسولﷺ کے دشمن ہوتے تو کیا خاندانِ نبوت کے یہ اکابرین کبھی ان کے ناموں پر اپنے بچوں کا نام نامی رکھتے؟ سوچئے اور تقیہ کی نقاب الٹا کر دیکھئے آپ کو حقیقت کا چہرہ نہایت روشن نظر آئے گا اور تمام شکوک و شبہات یکدم رفع ہو جائیں گے۔

کوئی صاحب یہ نہ سوچیں کہ یہ سب فرضی قصے ہیں نام کہیں نہیں تو لیجیئے شیعہ حضرات کی مشہور اور معتبر کتابوں سے ان کے نام سلسلہ وار تحریر ہیں۔

1۔ اولادِ سیدنا علی المرتضیٰؓ

سیدنا حسنؓ سیدنا حسینؓ سیدنا عباسؒ سیدنا محمدؒ سیدنا ابوبکرؒ سیدنا عمرؒ سیدنا عثمانؒ سیدنا بلالؒ سیدہ عائشہؓ سیدہ حفصہؓ سیدہ میمونہؓ وغیرہ (تاریخ الائمہ صفحہ 43 کشف الغمہ اربلی (687ھ) صفحہ 122 جلاء العیون (علامہ مجلسی 1111ھ) صفحہ 193 منتہی الامال (قمی 1359ھ) صفحہ 136)

2۔ فرزندانِ سیدنا حسنؓ

سیدنا قاسمؒ سیدنا عبداللہؒ سیدنا حسن مثنیٰؒ سیدنا زیدؒ سیدنا عبدالرحمٰنؒ سیدنا ابوبکرؒ سیدنا عمرؒ سیدنا اسمٰعیلؒ وغیرہ (تاریخ الائمہ صفحہ 63 کشف الغمہ صفحہ 171 جلاء العیون صفحہ 302)

3۔ فرزندانِ سیدنا حسینؓ

سیدنا عابدؒ سیدنا علی اکبرؒ سیدنا علی اصغرؒ سیدنا زیدؒ سیدنا ابراہیمؒ سیدنا محمدؒ سیدنا حمزہؒ سیدنا ابوبکرؒ سیدنا جعفرؒ سیدنا عمرؒ وغیرہ یہ کربلا میں شہید ہوئے

(تاریخ الائمہ صفحہ 83)

4۔ سیدنا زین العابدینؒ

سیدنا زین العابدینؒ نے بھی اپنے صاحب زادے کا نام سیدنا عمر رکھا (کشف الغمہ صفحہ 200 جلاء العیون صفحہ 107 تاریخ الائمہ صفحہ 99)

5۔ سیدنا موسیٰ کاظمؒ

انہوں نے بھی اپنے بیٹے کا نام سیدنا عمر اور سیدنا ابوبکر رکھا تھا اور اپنی بیٹی کا نام سیدہ عائشہ رکھا (کشف الغمہ جلد 3 صفحہ 10 تاریخ الائمہ صفحہ 153 کتاب الارشاد و للشیخ محمد بن نعمان مفید صفحہ 283)۔

6۔ سیدنا علی رضاؒ

انہوں نے بھی اپنی لڑکی کا نام سیدہ عائشہ رکھا (کتاب الارشاد و کشف الغمہ جلد 3 صفحہ 86)

یہ وہ حوالے ہیں جو کتب شیعہ میں درج ہیں جن کا انکار ممکن نہیں یہاں تو تقیہ کی سیاہ چادر سے بھی تاریکی نہیں آ سکتی جس سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ ان حضراتِ گرامی قدر کے مابین عداوت و نفرت کے جو جو قصے اور حکایتیں وضع کی گئی ہیں وہ سب غلط اور جھوٹی ہیں حق یہ ہے کہ یہ حضرات آپس میں ایک دوسرے کے رفیق و شفیق محب و ناصح دوست و یار ہمدرد و غمگسار اور قرآنی ارشاد ”رحماء بینہم“ کے کامل مصداق تھے (از کتاب رحماء بینہم مؤلفہ محقق زمان مولانا محمد نافع)

سیدنا علیؓ نے خلفائے ثلاثہؓ سے محبت کی وجہ سے اپنے بیٹوں کے نام سیدنا ابوبکر سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رکھے:

صفحہ 9 از 18