Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سنی لڑکی کا شیعہ لڑکے سے نکاح کرنا ، اور اس لڑکی سے تعلق رکھنا ، اور اس شادی میں شرکت اور تعاون کرنا


سنی لڑکی کا شیعہ لڑکے سے نکاح کرنا ، اور اس لڑکی سے تعلق رکھنا ، اور اس شادی میں شرکت اور تعاون کرنا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین درج ذیل مسائل کے بارے میں:

(الف) ایک سنی عقیدہ فقہ حنفی سے تعلق رکھنے والی لڑکی کا برضاورغبت ایک شیعہ مسلک کے لڑکے کے ساتھ شادی کرنا کیسا ہے؟ کیا یہ شادی دو مسلمانوں کے درمیان ہو گی ؟

(ب) اگر یہ شادی وقوع پذیر ہو جاتی ہے تو اس کے بعد اس لڑکی کی ہمارے دین مبین میں کیا حیثیت رہ جائے گی؟

(ج) اس شادی کے بعد ہونے والی اولاد کس دین پر ہوگی؟

(د) اس متوقع شادی کے بعد اس لڑکی سے حنفی مسلک کے رشتہ داروں کا مثلاً ماں، بہن، ماموں، خالہ وغیرہ کا تعلق رکھنا دین میں کیسا ہے؟ جائز ہے؟ کیا ان کو اس شادی میں شریک ہونا دین میں جائز ہے؟ 

جواب: چونکہ شیعہ کے اکثر عقائد کفریہ ہیں، مثلاً سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگانا اور تحریف قرآن کا قائل ہونا وغیرہ، کفریہ عقائد رکھنے والے شیعہ کا سنی مسلمان لڑکی سے نکاح نہ ہو گا، اس لڑکی کو سمجھایا جائے، باوجود سمجھانے کے اگر لڑکی نہ مانے تو تمام رشتہ دار اس سے قطع تعلق کریں۔ واضح رہے کہ اس شادی میں شرکت اور کسی قسم کا تعاون جائز نہیں، کیونکہ یہ تعاون الاثم ہے۔

فمان کمان احد الزوجين مسلما فالولد على دينه فكذلك ان اسلم احدهما وله . ولد صغير صار ولده مسلما با سلامه لان فى جعله تبعاله نظر اله:

(هدایه اولين:صفحہ:365)

اذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز انكاح المؤمنة الكافرولان في نكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع الفتنة في المكفر لان الزوج يدعوها الى دينه والنساء في العادات ويتبعن الرجال فيما يؤثروان من الافعال يقلدونهم في الدين اليه وقعت الاشارة في آخر الآية بقول عز وجل: اولئك يدعون الى النار: لانهم يدعون المؤمنات الى الكفر والدعاء الى المكفر دعا الى النار لان الكفر يوجب النارفكان نكاح الكافر المسلمة سبباً داعياً الى الحرام فمكان حراماً والنص وان وردفى المشركين لكن العلة وهى الدعاء الى النار يعم . الكفرة اجمع فيتعم المحكم بعموم العلة.... ولن يجعل الله للكفرين على المؤمنين سبيلا فلو جاز انكاح الكافر المؤمنة لثبت له عليها سبيل وهذا لا يجوز

(بدائع الصنائع:جلد:2:صفحہ:554)

وينبغي ان من اعتقد مذهبا يكفر به ان كان قبل تقدم الاعتقاد الصحيح فهومشرك وان طرء عليه فهو مرتد و بهذا ظهران الرافضي ان كان ممن يعتقد الالوهية في على اوان جبرئيل عليه السلام غلط فى الوحى او كان ينكر صحبة الصديق او يقذف :السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة:

(فتاویٰ شامی:جلد:2:صفحہ:314)

(ارشاد المفتين:جلد:2:صفحہ:102)