معوّذتین کی قرآنیت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

معوّذتین کی قرآنیت

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 5

♦️معوّذتین کی قرآنیت♦️

⬅️ ان سورتوں کے قرآن کا جزو ہونے کی بحث اس لیے پیدا ہوئی کہ ہماری روایات کے ذخیرے میں ایسی روایات بھی موجود ہیں جن میں یہ مذکور ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) انھیں قرآن کی سورتیں شمار نہیں کرتے تھے۔ اور جو مصحف انھوں نے مرتب کیا تھا اس میں بھی یہ سورتیں موجود نہ تھیں۔
⬅️ الدرالمنثور میں علامہ سیوطی نے صراحت کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ امام احمد، بزاز، طبرانی، ابن مردویہ نے صحیح طریقوں سے حضرت ابن مسعود ( رض) سے نقل کیا ہے کہ وہ معوّذتین کو مصحف سے محو کردیا کرتے تھے اور کہا کرتے کہ قرآن کے ساتھ ایسی چیزیں خلط ملط نہ کرو، جو اس میں سے نہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو ان دو سورتوں کے ساتھ فقط پناہ مانگنے کا حکم دیا تھا، نیز حضرت ابن مسعود ( رض) ان دو سورتوں کی تلاوت نماز میں نہیں کرتے تھے۔

⬅️ یہ اس طرح کی روایات ہیں جن سے یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا معوّذتین قرآن کا جزو ہیں یا نہیں۔؟؟   
⬅️ انہی روایات سے مخالفینِ اسلام کو قرآن کریم کے بارے میں طرح طرح کے شبہات ابھارنے کا موقع مل گیا۔ چنانچہ انھوں نے یہاں تک کہنے کی جرأت کی کہ جب یہ دو سورتیں ابن مسعود ( رض) جیسے صحابی کے بیان کے مطابق الحاقی ہیں تو نہ معلوم اور کیا کیا حذف و اضافے اس کے اندر ہوئے ہوں گے۔  

♦️معوذتین پر حضرت عبداللہ ابن مسعود کے نظریے کی اصل حقیقت♦️

⬅️ اگر اس پوری صورتحال پر تدبر کی نگاہ ڈالی جاتی تو کبھی بھی اس طرح کا موقع پیدا نہ ہوتا۔
♦️ علامہ سیوطی نے الدرالمنثور میں جو باتیں حضرت ابن مسعود ( رض) کے بارے میں روایت کی ہیں ان کی تردید خود حضرت عبداللہ ابن مسعود کی اپنی بیان کردہ ایک حدیث سے ہوجاتی ہے جسے انھوں نے طبرانی سے روایت کیا ہے۔
♦️ ” طبرانی نے اوسط میں سندِحَسن سے حضرت ابن مسعود ( رض) سے یہ ارشاد رسالت نقل کیا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھ پر ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں جن کی مثل مجھ پر نازل نہیں ہوئی اور وہ معوّذتین ہیں۔ “
♦️ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن مسعود ( رض) ان دونوں سورتوں کے قرآن ہونے سے آگاہ تھے۔
⬅️ اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ان کی طرف جو باتیں منسوب کی گئی ہیں وہ کہاں تک صحیح ہوں گی ؟   
♦️حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود ( رض) سے جن روایات میں معوّذتین کے جزوِ قرآن نہ ہونے کو بیان کیا گیا ہے وہ سب اخباراحاد ہیں۔
⬅️ علماء اصول حدیث نے یہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ اخباراحاد کی صحت کے لیے صرف راویوں کی عدالت اور قوت حافظہ ہی کافی نہیں بلکہ اخبار احاد کو قبول کرنے کے لیے چند شرائط بھی ضروری ہیں۔
⬅️ ان شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ خبر واحد کسی ایسی بات کو بیان نہ کر رہی ہو جو بداہت عقل کے خلاف ہو۔
⬅️ اگر اس قاعدے کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ حضرت ابن مسعود ( رض) وہ صحابی ہیں جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں شاید سب سے زیادہ رہے ہیں۔
♦️حضرت ابن مسعود (رض) کا شمار اصحاب صفہ میں تھا اور جو آٹھوں پہر مسجدِ نبوی میں پڑے رہتے۔ اور آپ کو ہر وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضری کی اجازت تھی۔
♦️ حضرت ابن مسعود (رض) کی زندگی کے مشاغل آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت، حاضری، آپ کے ارشادات کو سننا اور یاد رکھنا اور قرآن کریم کی جو آیتیں نازل ہوں ان کو حفظ کرنا، ان کے سوا کوئی نہ تھے۔
⬅️ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ جو پانچوں وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے اور نمازوں میں آپ کی تلاوت سنتے تھے اور جن کی زندگی کی ساری سرگرمیاں ان ہی باتوں میں سمٹ کر رہ گئی تھیں ان کو یہ تک معلوم نہ ہوسکا کہ معوّذتین قرآن کا حصہ ہیں یا نہیں۔
⬅️ یہ بھی ذہن میں رہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بارہا نماز میں ان کو تلاوت فرمایا۔ سینکڑوں صحابہ نے اپنے کانوں سے اسے سنا۔ اور حضرت ابن مسعود جو ہر وقت کے حاضر باش تھے آپ ان کو نہ سن سکے۔
⬅️ یہی وجہ ہے کہ امام نووی، امام ابن حزم اور امام فخرالدین رازی نے سرے سے اس بات ہی کو جھوٹ اور باطل قرار دیا کہ ابن مسعود ( رض) نے ایسی کوئی بات کہی ہو۔
اور یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔ ویسے بھی قرآن کریم کے بارے میں اس قسم کے اشتباہات کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ قرآن کریم کی تعریف یہ ہے کہ وہ، وہ کتاب ہے جسے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صحابہ کرام ( رض) نے سنا، پھر بذریعہ تواتر نقل کیا۔
⬅️ صحابہ سے تابعین نے اسی تواتر سے سنا اور یوں ہی سلسلہ وار نسلاً بعد نسل ہم تک منقول ہوتا چلا آیا ہے۔
⬅️ حضرت صدیق اکبر ( رض) کے زمانے میں تمام صحابہ کی تائید سے ایک مصحف لکھا گیا۔
⬅️ پھر حضرت عثمان غنی ( رض) کے زمانے میں قرآن کریم کے نسخے تیار کروا کے دنیائے اسلام کے مراکز میں سرکاری طور پر بھجوائے گئے۔
⬅️ آج تک تمام دنیائے اسلام کا اسی مصحف پر اجماع ہے۔ اور اس میں آج تک کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکی۔ اور سب جانتے ہیں کہ اس مصحف میں دونوں سورتیں درج تھیں اور درج ہیں۔
♦️ ابن حزم (رح) نے کتاب القدح المعلی میں بیان کیا ہے کہ یہ ابن مسعود پر بہتان اور اتہام ہے کیونکہ ابن مسعود کی جو صحیح قرات زر کے واسطہ سے عاصم نے کی ہے اس میں معوذتین شامل قرآن ہیں۔
خبر احاد ہے جو صرف مفید ظن ہے اور یقین کے مقابل ظنی امر قابل التفات ہو ہی نہیں سکتا۔
جب ان سورتون کا قرآن ہونا متواتر اور منقول ہے تو ابن مسعود (رض) کا قول ظنی ہے اور اجماع صحابہ کے مقابل خبر احاد ہے
⬅️ قرآن حکیم مجموعی طور پر تواتر کے ساتھ منقول ہے اور تمام مجموعہ مصحف پر صحابہ علیہم الرضوان کا اجماع ہے جو یقین کو مفید ہے اور اس سے ظن خود بخود محو ہوجاتا ہے۔

صفحہ 1 از 5