معوّذتین کی قرآنیت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

معوّذتین کی قرآنیت

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 5


بحث اول : کیا یہ دونوں سورتیں قرآن کریم کا جزو ہیں اور قرآن کریم کی دوسری سورتوں کی طرح ان کا جزو قرآن ہونا قطعی الثبوت ہے ؟
یہ سوال اس لیے پیدا ہوا کہ بعض ایسی روایات موجود ہیں جن میں یہ مذکور ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) انہیں قرآن کی سورتیں شمار نہیں کیا کرتے تھے اور جو مصحف انہوں نے مرتب کیا تھا۔ اس میں بھی یہ سورتیں موجود نہ تھیں۔ علامہ سیوطی (رح) نے صراحۃ لکھا ہے۔

اخرج احمد والبزاز والطبرانی وابن مردویہ من طرق صھیحۃ عن ابن مسعود انہ کان یحک المعوذتین من المصحف ویقول لا تخلطوا القرآن بما لیس منہ انھما لیستا من کتاب اللہ انما امر النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان یتعوذ بھما وکان ابن مسعود لا قرء بھما ( الدر المنثور)

ترجمہ : امام احمد بزاز، طبرانی، ابن مردویہ نے صحیح طریقوں سے حضرت ابن مسعود سے نقل کیا ہے کہ وہ معوذتین کو مصحف سے محو کردیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے قرآن کے ستھ ایسی چیزیں خلط ملط نہ کرو جو اس میں سے نہیں ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو ان دو سورتوں کے ساتھ فقط پناہ مانگنے کا حکم دیا تھا نیز حضرت ابن مسعود ان دو سورتوں کی تلاوت نماز میں نہ کیا کرتے۔ (الدر المنثور)
یہ روایت جو ابن قتیبہ نے نقل کی ہے کہ عبداللہ ابن مسعود اپنے مصحف میں معوذتین کو نہ لکھا کرتے تھے۔ کیونکہ یہ سنا کرتے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دو سورتیں پڑھ کر سیدنا حسن اور سیدنا حسین (رض) کو دم فرماتے ہیں اور یہ دوسرے دموں کی طرح ایک دم ہی ہے۔ یہ بات بھی کسی طرح قابل تسلیم نہیں، کیونکہ قرآن کریم سراپا اعجاز ہے۔ جس کی مثال لانا کسی ایک فرد۔ کسی انسانی جماعت بلکہ فصحاء وبلغاء کے کسی مجمع علمی سے بھی ممکن نہیں۔ اس میں اور دوسرے دموں میں کیوں کر التباس پیدا ہوسکتا ہے۔ خصوصا ابن مسعود جیسی شخصیت کو جو فصیح اللسان، لغت عربی کے ماہر اسالیب کلام اور انداز گفتگو کے عارف تھے مزید برآن جسے افصح العرب والعجم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیضان صحب نے کندن بنادیا تھا ان کا اس اشتباہ میں مبتلا ہونا ناممکن ہے۔ خود علامہ سیوطی (رح) نے طبرانی سے ایک حدیث بیان ہے :

اخرج الطبرانی فی الاوسط بسند حسن عن ابن مسود عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال لقد انزل علی آیات لم ینزل علی مثلھن المعوذتین۔ (الدر المثور)

ترجمہ : طبرانی نے اوسط میں سدن حسن سے حضرت ابن مسعود سے یہ ارشاد رسالت نقل کیا ہے کہ حضور نے فرمایا کہ مجھ پر ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں لیکن حضور کا یہ ارشاد سننے کے بعد اگر ان کے بارے میں انہیں کوئی شک تھا بھی تو وہ دور ہوگیا اور آپ نے اپنے پہلے قول سے رجوع کرلیا۔
♦️ علامہ سیوطی (رح) نے طبرانی سے ایک حدیث بیان ہے :

اخرج الطبرانی فی الاوسط بسند حسن عن ابن مسود عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال لقد انزل علی آیات لم ینزل علی مثلھن المعوذتین۔ (الدر المثور)

صفحہ 2 از 5