معوّذتین کی قرآنیت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

معوّذتین کی قرآنیت

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 5

ترجمہ : طبرانی نے اوسط میں سدن حسن سے حضرت ابن مسعود سے یہ ارشاد رسالت نقل کیا ہے کہ حضور نے فرمایا کہ مجھ پر ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں لیکن حضور کا یہ ارشاد سننے کے بعد اگر ان کے بارے میں انہیں کوئی شک تھا بھی تو وہ دور ہوگیا اور آپ نے اپنے پہلے قول سے رجوع کرلیا۔
⬅️ یہ الگ بات ہے کہ کسی کے دل میں صحابہ کو غلط کار ثابت کرنے کا اتنا زیادہ شوق ہو کہ وہ ان تمام واضح حقائق کو بآسانی نظر انداز کرنے کے لیے تیار ہو ۔
⬅️ اگر مان بھی لیا جائے کہ حضرت ابن مسعود کے مصحف میں یہ سورتی مرقوم نہ تھیں، اس لیے وہ ان کو قرآن کا جزو نہیں سمجھتے تھے۔ تو عرض ہے کہ ان کے مصحف میں تو سورة فاتحہ بھی مرقوم نہ تھی۔ کیا اس کا آپ یہ مطلب لیں گے کہ وہ اسے بھی قرآن کی سورت شمار نہ کرتے تھے۔ جس کو وہ ہر نماز کی ہر رکعت میں حضور علیہ الصلوہ والسلام کو قرأت فرماتے ہوئے اپنے کانوں سے سنا کرتے تھے۔
⬅️ ان سورتوں کے نہ لکھنے کی معقول وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ وہ بکثرت تلاوت کی جاتی تھیں، اس لیے انہیں نوک بر زبان تھیں۔ انہیں قطعا یہ وہم بھی نہ تھا کہ وہ انہیں فراموش ہوجائیں گی۔
♦️ حضرت ابن مسعود نے یہ مصحف اپنی سہولت کے لیے مرتب کیا تھا۔ ان سورتوں کے لکھنے کی انہوں نے ضرورت محسوس نہ کی اس لیے نہ لکھیں۔
♦️ قرآن کریم وہ ہے جو حضور علیہ الصلوہ والسلام سے صحابہ کرام (رض) نے سنا اور پھر بذریعہ تواتر نقل کیا۔ صحابہ سے تابعین نے اسی تواتر سے سنا۔ یوں ہی سلسلہ وار وہ ہم تک منقول ہوتا چلا آیا ہے۔
سیدنا عثمان (رض) کے عہد میں صحابۂ کرام نے بالاتفاق حضرت زید ابن ثابت کے مدون کردہ نسخہ کے مطابق ایک نسخہ تیار کیا اور اس کی متعدد نقول اپنی نگرانی میں تیار کر کے مملکت اسلامیہ کے مختلف امراء کی طرف روانہ کیں تاکہ عرب وعجم میں اسی کے مطابق تلاوت کی جائے اور عمل کیا جائے۔ اس لیے قرآن کریم صرف اسی مصحف مبارک کا نام ہے۔ اس کے خلاف آپ کو جو روایت نظر آئے یا وہ سند کی وجہ سے ساقط الاعتبار ہوگی یا وہ خبر واحد ہوگی یا کسی کا اپنا ذاتی قول ہوگا۔ الغرض کلام اللہ وہی ہے۔ جو اس مصحف عثمانی کے مطابق ہے جس پر تمام صحابہ کرام (رض) کا اجماع ہے اور اس وقت سے لے کر آج تک اس میں نہ کسی لفظ کی کمی بیشی ہوئی نہ کسی آیت میں تقدیم و تاخیر رونما ہوئی نہ کلمات کی ترتیب میں کوئی تغیر روپذیر ہوا۔
♦️ معوذتین یعنی سورة فلق اور سورة الناس قرآن کریم کی دو سورتیں ہیں اور اس پر تمام صحابہ اور ائمہ مفسرین کا اتفاق ہے اور عہد صحابہ سے لے کر آج تک تواتر کے ساتھ ان دونوں کا قرآن کی سورتیں پر ہونا ثابت ہے اور احادیث صحیحہ سے ان دونوں کا فرض نمازوں میں پڑھنے کا بھی ثبوت ہے۔ اس میں کسی بھی تردود کی گنجائش نہیں۔
♦️ عقبہ بن عامر (رض) کی روایت میں ہے کہ میں ایک سفر میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری کی زمام پکڑے اسکو پکڑے لے کر چل رہا تھا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی انتہائی شفقت کے باعث مجھ کو کہا اے عقبہ کیا تو سوار نہیں ہوگا اس ڈر کی وجہ سے کہ آپ کے فرمان کی تعمیل نہ کرنا کہیں معصیت نہ ہوجائے میں سواری پر سوار ہوگیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیچے اتر کر پیدل چلنے لگے تھوڑی دیر تعمیل حکم کی خاطر میں بیٹھ کر پھر نیچے اتر آیا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (میرے عرض کرنے پر) سوار ہوگئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے عقبہ کیا میں تجھ کو ایسی دو بہترین سورتیں نہ سکھا دوں جو قرآن کریم میں پڑھی جاتی ہوں میں نے عرض کیا بیشک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ کو یہ دونوں سورتیں پڑھائیں اس کے بعد نماز کی اقامت ہوئی تو آپ نے نماز پڑھائی اور نماز کی دونوں رکعتوں میں ان دونوں سورتوں کو تلاوت فرمایا اسکے بعد فرمایا (جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے سے سامنے گذر رہے تھے) اے عقبہ کیسا پایا تو نے ان دو سورتوں کو یعنی تو نے دیکھ لیا کہ یہ دو سورتیں ایسی ہیں کہ نماز میں انکی تلاوت کی گئی (ایک روایت میں ہے کہ یہ نماز فجر تھی) اور آپ نے فرمایا ان سورتوں کو پڑھا کرو جب بھی تم سویا کرو اور جب بھی نیند سے بیدار ہوا کرو۔
♦️ حضرت عثمان غنی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مصحف قرآنی کے جو نسخے تمام بلاد اسلامیہ کو بھیجے تھے ان سب میں یہ موجود تھیں اوراقطار عالم میں صحابہ (رض) اور تابعین (رح) اور پوری امت انکی تلاوت کرتی رہی اور تواتر سے یہ امر ثابت ہے کہ اس بارے میں کسی نے اختلاف نہیں کیا صرف عبداللہ بن مسعود (رض) سے اختلاف نقل کیا گیا کہ انہوں نے اپنے مصحف (نسخہ قرآن) میں معوذتین کو نہیں لکھا تھا (جس سے یہ بات سمجھی گئی کہ وہ ان کے قرآن ہونے کے قائل نہیں ہیں) قطعی طور پر تو یہ متعین و معلوم نہیں ہوسکا کہ عبداللہ بن مسعود (رض) کی کیا مراد تھی اور کس وجہ سے انہوں نے اپنے مصحف میں انکو نہیں لکھا تھا یا ان کو کیا خیال یا شبہ پیش آیا کہ اس کے باعث یہ صورت واقع ہوئی۔
♦️ بعض حضرات مفسرین جیسے صاحب روح المعانی (رح) کا اس وجہ سے کہ ابن مسعود (رض) کے مصحف میں معوذتین لکھی ہوئی نہیں تھیں یہ سمجھنا ” کہ ابن مسعود (رض) ان کے قرآن ہونے کے منکر تھے “ صحیح نہیں ہے قاضی ابوبکر باقلانی (رح) نے تصریح کی ہے۔

لم ینکر ابن مسعود کو نھما من القرآن وانما ان کر اثباتھما فی المصحف فانہ کان یری ان لایکتب فی المصحف شیء الا ان کان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذن فی کتابتہ وکانہ لم یبلغہ الاذن۔

صفحہ 3 از 5