معوّذتین کی قرآنیت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

معوّذتین کی قرآنیت

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 5

کہ ابن مسعود (رض) انکے قرآن میں سے ہونے کے منکر نہیں تھے بلکہ مصحف قرآنی میں لکھنے کے منکر تھے اور ان کا خیال تھا کہ مصحف میں صرف ان ہی آیات کو لکھا جائے جن کی کتابت کی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دی ہو یا قلانی کہتے ہیں گویا ابن مسعود (رض) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت کا علم نہیں ہوا تھا۔
♦️ حافظ (رح) نے فتح الباری ج ٨ میں بعض ائمہ سے یہ نقل کیا کہ ابن مسعود (رض) کو انکے قرآن ہونے میں کوئی اختلاف نہیں تھا بلکہ انکی صفت میں اختلاف تھا یعنی یہ سمجھتے تھے کہ یہ تلاوت کے لئے نازل نہیں ہوئیں بلکہ تعوذ اور دم کرنے کے لئے نازل ہوئی ہیں تاکہ بلاؤں اور آفات سے محفوظ رہنے کیلئے پڑھ جائے۔
⬅️ لیکن روایات ونقول اور صحابہ کے تعامل سے یہ بات ظاہر ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی یہ اپنی ایک رائے تھی جس کے ساتھ حضرات صحابہ (رض) میں سے کسی نے بھی اتفاق نہیں کیا بعض حضرات سلف کا خیال ہے کہ ابن مسعود (رض) نے اپنے مصحف میں ان سورتوں کو لکھا تھا جن کو یاد کرنے اور حفظ کرنے یا محفوظ رکھنے کی ضرورت ہو اور چونکہ یہ سورتیں ایسی تھیں کہ انکے لئے اس امر کی حاجت نہ تھی اور انکا حفظ ایسا قطعی تھا کہ اس میں کبھی بھی شبہ نہیں ہوسکتا تھا تو اس وجہ سے انکو اپنے مصحف میں نہیں لکھا جیسا کہ بعض روایات سے یہ معلوم ہوا کہ انکے مصحف میں سورة الحمد بھی لکھی ہوئی نہیں تھی حالانکہ سورة فاتحہ کا قرآن ہونا ایسا قطعی اور یقینی امر ہے کہ اس میں کسی کو بھی تردد نہیں ہوسکتا۔
♦️ زر بن جیش (رض) سے بھی اسی طرح نقل کیا گیا اور ابن قتیبہ (رح) کا قول ہے کہ ابن مسعود (رض) انکو نماز میں تلاوت کے لئے نہیں بلکہ صرف تعوذ یعنی سحر اور دیگر مہلکات سے حفاظت کیلئے بطور تعویذ سمجھتے تھے علامہ ابوبکر بن الانباری (رح) نے اس بات پر تنقید کی اور فرمایا ابن قتیبہ (رح) کا یہ قول درست نہیں انکا کلام اللہ ہونا اور قرآن کریم کی سورتیں ہونا تمام دنیا کے نزدیک مسلم ہے اور قیامت تک اس میں کوئی شبہ نہیں کرسکتا اور ان کی قرآنیت تواتر سے ثابت ہے اور بکثرت احادیث سے انکا نماز میں پڑھنا بھی خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہوچکا ہے۔
♦️ حافظ ابن کثیر (رح) کی رائے یہ ہے کہ ابتداء میں کسی وجہ سے ابن مسعود (رض) نے انکو اپنے مصحف میں نہیں لکھا تھا لیکن بعد میں اپنے قول سے رجوع کرکے جمہور صحابہ (رض) کا قول اختیار کیا ہوسکتا ہے انہوں نے اس بارے میں کچھ نہ سنا ہو لیکن جب دیکھا کہ قرآن کریم کے وہ صحیفے جو تمام بلاد اسلامیہ میں بھیجے گئے ان سب میں معوذتین مکتوب ہیں اور جملہ صحابہ انکو پڑھتے ہیں اور کسی نے بھی اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کیا تو پھر اپنے قول سے رجوع کیا۔
♦️ علامہ آلوسی (رض) صاحب تفسیر ورح المعانی اور حافظ عینی (رح) کا بھی یہی خیال ہے حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں ان روایات کو تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے جن میں معوذتین کا نماز میں پڑھنا ثابت ہے
⬅️ حضرات اہل علم ان حوالوں کی مراجعت فرمالیں بالخصوص جب کہ یہ ثابت ہے کہ زید بن ثابت (رض) جو کاتب وحی تھے اور عرضہ اخیرہ کے (یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ آخری سال رمضان میں جب جبریل امین (علیہ السلام) نے دو مرتبہ آپ کے قرآن کریم کا دورہ کیا تھا تو اسی کے مطابق زید بن ثابت (رض) کاتب وحی کا مرتب کردہ مصحف تھا)
کے مطابق انہوں نے جو مصحف مرتب کیا تھا اس میں معوذتین موجود تھیں اور اس مصحف کو تمام صحابہ بالاتفاق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرأت وتلاوت کے مطابق تسلیم کرتے تھے اور اسی کے مطابق جامع القرآن حضرت عثمان (رض) کا مصحف تھا۔
آیا حضرت ابن مسعود (رض) المعوذتین کے قرآن ہونے کا انکار کرتے تھے یا نہیں ؟
عبدالرحمٰن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) المعوذتین کو مصاحف سے کھرچ دیتے تھے اور کہتے تھے : یہ دونوں سورتیں کتاب اللہ سے نہیں ہیں۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (مسند احمد ج ٥ ص 130 طبع قدیم، مسند احمد ج ٣٥ ص 117 رقم الحدیث :21188 مئوسستہ الرسالتہ، بیروت، 1420 ھ المعجم الکبیر للطبرانی رقم الحدیث :9150 مسند البزار رقم الحدیث :1586)
حضرت زربن جیش (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب (رض) سیپ وچا کہ حضرت ابن مسعود (رض) المعوذتین کو اپنے مصحف میں نہیں لکھتے تھے ؟ انہوں نے کہا، میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے خبر دی ہے کہ حضرت جبریل نے آپ سے کہا، آپ پڑھیے : ” قل اعوذ برب الفلق “ تو میں نے اس کو پڑھا، پھر انہوں نے کہا : آپ پڑھیے ” قل اعوذ برب الناس ‘ تو میں نے اس کو پڑھا، حضرت ابی بن کعب نے کہا : ہم وہی پڑھتے ہیں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا ہے۔ (مسند احمد ج ٥ ص 129 طبع قدیم، مسند احمد ج ٣٥ ص 116 مئوسستہ الرسالتہ بیروت، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 797 شعیب الارو وط نے کہا : اس حدیث کی سند صحیح ہے، حاشیہ مسند احمد ج ٣٥ ص 116)
زربن جیش بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضیا للہ عنہ سے کہا کہ آپ کے بھائی المعوذتین کو مصحف سے کھرچ دیتے ہیں، سفیان بن مسعود سے کہا گیا تو انہوں نے اس واقعہ کا انکار نہیں کیا حضرت ابی نے کہا، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا : مجھ سے ان کو پڑھنے کے لئے کہا گیا تو میں نے ان کو پڑھا، حضرت ابی نے کہا : ہم اسی طرح پڑھتے ہیں، جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا ہے، سفیان نے کہا : حضرت ابن مسعود (رض) المعوذتین کو کھرچ دیتے تھے اور وہ حضرت ابن مسعود کے مصحف میں نہیں ہیں اور ان کا یہ گمان تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) پر یہ پڑھ کر دم کرتے تھے اور ان کا یہ گمان تھا کہ یہ دونوں اطلبہ کی پناہ طلب کرنے کے لئے ہیں اور انہوں نے اپنے گمان پر اصرار کیا اور باقی صحا بہ کی یہ تحقیق تھی کہ یہ دونوں سورتیں قرآن سے ہیں، انہوں نے دونوں سورتوں کو قرآن مجید میں رکھا۔
شعیب الارنووط نے کہا : اس حدیث کی سند شیخین کی شرط کے موافق صحیح ہے۔
(مسند احمد ج ٥ ص 130 طبع قدیم، مسند احمد ج 35 ص 118 رقم الحدیث :21189 مسند الحمیدی رقم الحدیث : ٣٧٤ سنن البیہقی ج ٢ ص 394 صحیح البخاری رقم الحدیث :4946 صحیح بخاری میں اس حدیث کا خلاصہ ہے)
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان دونوں سورتوں کے متعلق سوال کیا، آپ نے فرمایا : مجھ سے ان کو پڑھنے کے لئے کہا گیا تو میں نے پڑھا، سو تم بھی اسی طرح پڑھو جس طرح میں نے پڑھا ہے۔ المعجم الاوسط للطبرانی رقم الحدیث : ٣٥١٥ مکتبتہ المعارف، ریاض، 1415 ھ)

صفحہ 4 از 5