معوّذتین کی قرآنیت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

معوّذتین کی قرآنیت

  جعفر صادق

صفحہ 5 از 5

حضرت ابن مسعود کے انکار معوذتین کے متعلق فقہاء اسلام کی عبارات

1️⃣ شیخ علی بن امد بن سعید بن حزم اندلسی متوفی 486 ھ لکھتے ہیں :
وہ قرآن جو اس وقت شرقاً غرباً تمام مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے، اس میں سورة فاتحہ سے لے کر معوذتین تک جو مصاحف میں بیان کیا گیا ہے، وہ سب اللہ عزوجل کا کلام اور اس کی وحی ہے، جو اس نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب پر نازل فرمایا ہے، جس شخص نے اس میں سے ایک حرف کا بھی انکار کیا وہ کافر ہے اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جو مروی ہے کہ ان کے مصحف میں سورة الفاتحہ اور سورة المعوذتین نہیں تھیں، سو وہ جھوٹ ہے، موضوع ہے، صحیح نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ زر بن جیش، حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے مصحف میں سورة الفاتحہ اور معوذتین تھیں۔ (المحلی بالآثارج ١ ص ٣٢ مسئلہ : ٢١ دارالکتب العلمیہ، بیروت 1424 ھ)
2️⃣ امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
کتب قدیمہ میں یہ منقول ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) سورة فاتحہ اور معوذتین کے قرآن ہونے کا انکار کرتے تھے اور اس مسئلہ میں بہت قوی اشکال ہے کیونکہ اگر ہم یہ کہیں کہ صحابہ کے زمانہ میں سورة فاتحہ کے قرآن ہونے پر نقل متواتر حاصل تھی اور حضرت ابن مسعود کو اس کا علم تھا اور پھر انہوں نے اس کے قرآن ہونے کا انکار کیا تو یہ انکار ان کے کفر کو یا ان کی عقل کی کمی کو واجب کرے گا، اور اگر ہم یہ کہیں کہ اس زمانہ میں ان کے قرآن ہونے پر نقل متواتر نہیں تھی تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ اصل میں قرآن مجید نقل متواتر سے ثابت نہیں ہے اور اسے قرآن مجید حجت یقینی نہیں رہے گا۔ ظن غالب یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) سے جو یہ قول منقول ہے، یہ نقل کاذب اور باطل ہے اور اسی بات سے اس اشکال کا حل نکل سکتا ہے۔ (تفسیر کبیرج ١ ص 190 داراحیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)
3️⃣ علامہ یحییٰ بن شرف نواوی متوفی 676 ھ لکھتے ہیں :
صحیح مسلم کی حدیث :814 میں اس پر واضح دلیل ہے کہ معوذتین قرآن ہیں اور حضر ابن مسعود سے جو اس کے خلاف منقول ہے، وہ مردود ہے۔ (صحیح مسلم بشرح النواوی ج ٤ ص 2344 مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، 1417 ھ)
4️⃣ علامہ محمد بن خلیفہ وشتانی ابی مالکی متوفی 828 ھ لکھتے ہیں :
المعوذتین قرآن مجید سے ہیں اور جس شخص نے حضرت ابن مسعود کی طرف اس کے خلاف منسوب کیا، اس کا قول مردود ہے۔ (اکمال اکمال المعلم ج ٣ ص 160 دارالکتب العلمیہ، بیروت 1415 ھ)
5️⃣ حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی 852 ھ لکھتے ہیں ،
روایات صحیحہ سے ثابت ہے کہ حضرت ابن مسعود معوذتین کے قرآن ہونے کا انکار کرتے تھے اور روایات صحیحہ کا انکار کرنا درست نہیں ہے، البتہ حضرت ابن مسعود کے قول کی تاویل کرنا ضروری ہے، قاضی ابوبکر باقلانی نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ حضرت ابن مسعود معوذتین کے قرآن ہونے کا انکار نہیں کرتے تھے بلکہ ان کو مصحف میں لکھنے کا انکار کرتے تھے، ان کے نزدیک اسی صورت کو قرآن میں لکھا جائے، جس کو لکھنے کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دی ہو اور ان تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت نہیں پہنچی تھی، یہ عمدہ تاویل ہے لیکن اس پر یہ اعتراض ہے کہ حضرت ابن مسعود نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ دونوں کتاب اللہ میں سے نہیں ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے اس قول میں کتاب اللہ سے مراد مصحف ہے، لہٰذا تاویل صحیح ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود کے زمانہ میں بھی معوذتین متواتر تھیں لیکن حضرت ابن مسعود کے نزدیک ان کا تواتر ثابت نہ تھا، اس لئے ان کا انکار کفر نہیں ہے، البتہ معوذتین کا تواتر معروف ہوچکا ہے، لہٰذا اب جو ان کا انکار رکے گا، وہ کفر ہوگا، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ زکوٰۃ کا انکار کفر ہے لیکن حضرت ابوبکر (رض) کے زمانہ میں اجماع واضح نہیں تھا، اس لئے آپ نے منکرین زکوٰۃ کو کافر نہیں قرار دیا۔ (فتح الباری ج ٦ ص 151 ملحضاً دارالمعرفہ، بیروت، 1426 ھ)
6️⃣ علامہ سید محمود الٓوسی حنفی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں :
معوذتین کے قرآن ہونے میں حضرت ابن مسعود (رض) کا جو اختلاف منقول ہے، اس سے بعض ملحدین نے قرآن مجید کے اعجاز میں طعن کیا ہے انہوں نے کہا، اگر قرآن مجید کی بلاغت حد اعجاز کو پہنچی ہوئی ہوتی تو قرآن مجید غیر قرآن سے ممتاز ہوتا، پھر اس میں یہ اختلاف نہ ہوتا کہ یہ قرآن ہے یا نہیں اور تم کو معلوم ہے کہ معوذتین کے قرآن ہونے پر اجماع ہے اور فقہاء اسلام نے کہا ہے کہ اب معوذتین کے قرآن ہونے کا انکار کرنا کفر ہے اور شاید کہ حضرت ابن مسعود نے اپنے انکار سے رجوع کرلیا تھا۔ (روح المعانی جز 30 ص 499، دارالفکر، بیروت، 1417 ھ)
♦️ امام طبرانی نے خود حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان دونوں سورتوں کے متعق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : مجھ سے ان کو پڑھنے کے لئے کہا گیا تو میں نے پڑھا، سو تم بھی اس طرح پڑھو جس طرح میں نے پڑھا ہے۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث :3515)


صفحہ 5 از 5