یہ کیسے مسلمان ہیں؟ (ملعون عبداللہ ابن سبا)
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبندیہ کیسے مسلمان ہیں؟
اسلام جب اپنے محسنین تلامذہِ نبوت ، خلفائے راشدینؓ کی وجہ سے بامِ عروج پر پہنچا اور معلوم کرّہِ ارضی کے چپہ چپہ پر چھا گیا۔ بڑی بڑی متمدن فارس و روم کی حکومتیں پیوندِ خاک ہو گئیں تو یہود و مجوس منافقانہ اسلام میں داخل ہوئے اور حسد و نفاق کی وجہ سے اسلام سے انتقام کی ٹھانی۔ ان کا سرغنہ صنعأ یمن کا یہودی عالم عبداللہ بن سبا تھا۔
*شیعہ کتاب رجال کشی صفحہ 71 مطبوعہ بمبئی ابنِ سباء کے حالات میں لکھا ہے۔
اہل علم کا بیان ہے کہ عبداللہ بن سباء یہودی تھا۔پھر اسلام قبول کیا اور حضرت علیؓ سے محبت کا اظہار کیا۔ وہ یہودیت کے زمانے میں غلو کرکے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو موسی علیہ السلام کا وصی کہتا تھا تو مسلمان ہو کر اس نے رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ کے وصی ہونے کا عقیدہ نکالا،یہ پہلا شخص ہے جس نے حضرت علیؓ کی امامت کا فرض ہونا مشہور کیا،اور سب سے پہلے اپنے آپ کے دشمنوں سے تبراء کیا اور اسی نے ان کی مخالفت کی، اور ان (خلفاء ثلاثہؓ) کو کافر قرار دیا ۔اسی لیے مخالفینِ شیعہ کہتے ہیں کہ مذہب شیعہ کی اصل یہودیت سے ماخوذ ہے۔
جو صحابہؓ دشمنی، تعلیمِ نبوتؐ سے بیزاری، خلفاءوراشدینؓ فاتحینِ اسلام کی کردار کشی اور ملی منافرت پھیلانے میں *ابن ابی رئیس المنافقین کا پورا وارث و جانشین تھا۔ اسی نے " حبِّ اہل بیتؓ " کے پرفریب نعرے سے حضرت عثمانؓ کو شہید کرایا۔
دورِ مرتضویؓ میں شدید خونریزیاں کرائیں۔اسی کے پیروکار *ابن ملجم* نے حضرت علیؓ کو شہید کیا ، اتحادِ ملت کے دشمن اسی کے حواریوں نے سبطِ پیغمبر حضرت حسنؓ کو حضرت امیر معاویہؓ کےساتھ مصالحت و بیعت کر لینے کی وجہ سے" *مذل المومنین ، مسود المسلمین"* مومنوں کو رو سیاہ کرنے والے اور ان کی ناک کٹوانے والے القابات سے نوازا۔
( جلاء العیون)
اسی بدبخت گروہ نے *حضرت حسینؓ* مظلوم کو بلا کر غداری سے شہید کیا اور قافلہ اہل بیتؓ سے بد دعائیں لے کر رونا پیٹنا اپنا مذہب بنا لیا۔
*عبداللہ ابن سباء* اور اس کی پیروکار ذریت کے یہ اسلام سوز مسلم کش کارنامے تاریخ کی سب معتبر کتابوں کے علاوہ شیعہ کی *علم اسماء الرجال* کی کتابوں میں صراحت سے موجود ہیں۔
*اس نے اپنی پُر تقیہ ،خفیہ تحریک سے صحابہؓ و اہل بیتؓ کے قتل کا ہی کام نہ لیا بلکہ اسلام کے اساسی عقائد پر تیشہ چلایا۔ حضرت علی المرتضیؓ کو رب باور کروایا، یا علی مشکل کشا اور یا علی مدد کے نعرےاسی کا نتیجہ ہیں۔ امامت کا عقیدہ ایجاد کرکے نبوت کا صفایا کیا*
قرآن میں تحریف اور کمی بیشی کا نظریہ ایجاد کر کے اسلام کی جڑ کاٹ دی۔ سرمایہ نبوت، تمام صحابہؓ کو معاذ اللہ منافق ،غاصب اور بے ایمان کہہ کر پیغمبر کی ناکامی اور اسلام کے جھٹلانے کا برملا اعلان کیا۔ امہات المؤمنینؓ ،ازواجِ پیغمبر ﷺ اور بناتِ طاہراتؓ اور آپﷺ کے سب سسرالی اور خاندانی رشتوں کی عظمت کا انکار کرکے مقامِ اہل بیتؓ کے نظریے کو تہس نہس کر دیا۔
عالم اسلام کے مشہور مفکر *مولانا منظور احمد نعمانی مدّظلہ* " اسلام میں شیعت کا آغاز" کے عنوان میں عبداللہ بن سباء کے تعارف میں فرماتے ہیں:
*اس خونی فضا میں حضرت علیؓ خلیفہ منتخب ہوئے آپؓ بلا شبہ خلیفہ برحق تھے اس وقت کوئی دوسری شخصیت نہیں تھی جو اس عظیم منصب کے لیے قابل ترجیح ہوتی لیکن حضرت عثمانؓ کی مظلومانہ شہادت کے نتیجہ میں امتِ مسلمہ دو گروہوں میں تقسیم ہو گئی اور نوبت باہم جنگ و قتال کی بھی آئی ۔ جمل اور صفین کی دو جنگیں ہوئی۔*
عبداللہ بن سبا کا پورا گروہ، جس کی اچھی خاصی تعداد ہو گئی تھی، حضرت علی المرتضیؓ کے ساتھ تھا۔ اس زمانہ اور اس فضا میں اس کو پورا موقع ملا کہ لشکر کے بے علم اورکم فہم عوام کو حضرت علیؓؓ کی محبت اور عقیدت کے عنوان سے غلو کی گمراہی میں مبتلا کرے۔
یہاں تک کہ اس نے کچھ سادہ لوحوں کو وہی سبق پڑھایا جو *پولوس* نے *عیسائیوں* کو پڑھایا تھا اور ان کا یہ عقیدہ ہو گیا کہ *حضرت علیؓ اس دنیا میں خدا کا روپ ہیں اور ان کے قالب میں خداوندی روح موجود ہے اور گویا وہی خدا ہیں۔*
کچھ احمقوں کے کان میں یہ بھی پھونکا کہ اللہ نے نبوت اور رسالت کے لیے دراصل حضرت علیؓ بن ابی طالب کو منتخب کیا تھا وہی اس کےاہل اور مستحق ہیں اور حاملِ وحی فرشتے نے جبرائیلِؑ امین کو ان کے پاس بھیجا تھا لیکن ان کو اشتباہ ہوگیا وہ غلطی سے وحی لے کر کر محمد بن عبد الله (ﷺ) کے پاس پہنچ گئے ۔( *یہ بات بلفظہ اور من و عن تو ہمیں معلوم نہیں کہ شیعہ کی کس کتاب میں ہے تاہم قاضی نور اللہ شوستریؒ نے مجالس المومنین میں بعض شیعوں کا یہ عقیدہ نقل کیا ہے۔غلط الامین فجاوزھاعن حیدر کہ جبرئیلؑ امین نے غلطی کی کہ وحی و شریعت حیدر کے بجائے محمدﷺ تک پہنچا دی۔بطور تقیہ اس کفریہ قول کو چھپا دیا گیا ہے، برملا کہتے اور لکھتے نہیں، ورنہ عقیدہ ہر امامی اثناعشری شیعہ کا یہی ہے کیوں کہ وہ صحابہ رسولﷺ کو منافق اور شیعہ علیؓ کو مومن کہتے ہیں، معجزہ رسول قرآن کو محرف بلا امام ناقابل عمل اور بے حجت کہتے ہیں ۔صحیفہ نہج البلاغہ کو مقدس اور واجب العمل جانتے ہیں۔خاص رسول اللہﷺ کی طرف منسوب تمام چیزوں سے نفرت وتبرا کرتے ہیں ۔حضرت علیؓ کی نسبت سے تمام چیزوں سے تولا اور محبت کرتے ہیں۔رسول پاک کی تعلیم و ہدایت سے 5 صحابہ کرامؓ کو بھی مومن و جنتی نہیں مانتے ۔علؓی کی نسبت سے لاتعداد لوگوں کو مومن و جنتی کہتے ہیں۔یہی نبوت کو حضور اکرمﷺ سے کاٹ کر حضرت علیؓ کو نبی و ہادی ماننا ہے)* استغفر اللہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔
مؤرخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ جب حضرت علی المرتضیؓ کے علم میں کسی طرح یہ بات آئی کہ ان کے لشکر کے کچھ لوگ ان کے بارے میں اس طرح کی باتیں چلا رہے ہیں تو آپ نے ان شیاطین کو قتل کروانے اور لوگوں کی عبرت کے لئے آگ میں میں ڈلوانے کا ارادہ فرمایا لیکن اپنے چچا زاد بھائی اور خاص رفیق حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور ان جیسے اور لوگوں کے مشورہ پر اس وقت کے خاص حالات میں اس کارروائی کو دوسرے مناسب وقت کے لئے ملتوی کردیا۔( *صحیح بات یہ ہے کہ حضرت علیؓ نے ان مشرک سبائیوں کو آگ میں جلا دیا تھا۔جیسے بخاری اور ابن تمیمہؒ کی منہاج السنہ میں صراحت ہے۔شیعہ کی رجال کشی میں امام جعفر صادقؒ نے 70 آدمیوں کے جلانے کا ذکر فرمایا ہے۔اور وہ کہتے تھے"کہ اے علیؓ تیرے رب ہونے کا ہمیں یقین ہو گیا کہ آگ کا عذاب خدا کے سوا کوئی نہیں دیتا "خود ابن سباء مردودکو ابن عباسؓ کے مشورے سے جلایا نہیں،ورنہ سبائی لشکر آپ سے بغاوت کر دیتا۔اسے بدعا دے کر جنگل میں ہانک دیا وہ بنی اسرائیل کے سامری کی طرح لامساس۔ مجھے ہاتھ نا لگاؤ کہہ کر پاگل ہو گیا اور درندوں کا لقمہ بن گیا ۔
لعنت اللہ علیہ وعلی شیعتہ واتباعہ اجمعین) ۔*)
بہرحال جمل و صفین کی جنگوں میں عبداللہ بن سبا اور اس کے چیلوں کو اس وقت کی خاص فضا سے فائدہ اٹھا کر حضرت علیؓ کے لشکر میں ان کے بارے میں غلوکی گمراہی پھیلانےکا پورا پورا موقع ملا اور اس کے بعد جب آپ نےعراق کے علاقہ میں کوفہ کو اپنا دارالحکومت بنا لیا تو یہ علاقہ اس گروہ کی سرگرمیوں کا خاص مرکز بن گیا اور چونکہ مختلف اسباب اور وجوہ کی بنا پر جن کو مؤرخین نے بیان کیا ہے ،اس میں ایسے غالیانہ اور گمراہانہ افکار و نظریات کے قبول کرنے کی زیادہ صلاحیت تھی اسی لیے یہاں اس گروہ کو اپنے مشن میں کامیابی ہوئی۔ (گویا یہ علاقہ شیعت کا گڑھ بن گیا)
(ایرانی انقلاب۔۔ 108،109)
گویا ابن سباء ختم ہوگیا لیکن "حُبِّ اہلِ بیتؓ "کی آڑ میں اس کا سبائی گروہ اور کفریہ نظریات چلتے رہے۔ خارجی اور شیعہ کے نام سے دو گروہ بن گئے اور اسلام اور مسلمانوں کو زبردست نقصان پہنچایا۔
ان کا اصل مذہب تو سیاست اور امتِ مسلمہ کو تباہ کرنا تھا، جسے ہم عنقریب بیان کریں گے۔ لیکن ایک روپ مذہب کا بھی دھارا *اور عقائد، اعمال، اخلاقیات، میں افراط و غلو اختیار کیا* ۔
اصول اور فروعِ دین میں تشکیک پیدا کرنے کے لیے فضول مباحث اور کلامی مجادلات کا دروازہ کھول دیا اسی اختلاف و شقاق سے وہ اپنے مذہبی وجود کا بھرم باقی رکھے ہوئے ہیں۔
*عبد الکریم مشتاق رافضی کا یہ رسالہ فروعِ دین* " میں نے سنی مذہب کیوں چھوڑا مع مذہبِ سنّیہ پر ہزار سوال "اسی کفریہ یہ پالیسی کا مظہر ہے جس کا تحقیقی الزامی،تشیع کش کامیاب جواب ہم نے اپنی اس کتاب میں دے دیا ہے۔
ہم مناسب جانتے ہیں کہ اس گروہ کا سیاسی چہرہ بھی بے نقاب کردیا جائے اور سادہ لوح مسلمانوں کو ان کے شر سے حتی الامکان بچایا جائے۔
" *فجر الاسلام " میں علامہ احمد امین مصری نے لکھا ہے کہ* :
' پہلی اور دوسری صدی میں جو شخص یا گروہ اسلام پر حملہ آور ہوتا وہ اہل تشیع کے کیمپ میں آجاتا اور تقیہ و حُبِّ اہل بیت ؓ کی آڑ میں اسلام کی جڑوں کو کاٹتا ۔
*اسی کی تائید پروفیسر محمد منور نے کی ہے*
(اقتباس 23 ب ملاحظہ فرما لیں)
*شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے منہاج السنة میں لکھا ہے کہ "شیعہ روزِ اول سے مسلمانوں کے دشمن چلے آ رہے ہیں انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے دشمنوں کا ساتھ دے کر اہل اسلام سے جنگ لڑی ہے ان کی ساری تاریخ سیاہ اور ظلمتِ ظلم سے تموُر ہے۔"*
نیز فرماتے ہیں ہیں شیعہ نقلی دلائل پیش کرنے میں *اکذب الناس ہیں اور عقلی دلائل کے ذکر و بیان میں اجہل الناس* ۔
یہی وجہ ہے کہ علماء انہیں اجہل طوائف کہتے چلے آئے ہیں۔ ان کے ہاتھوں اسلام کو پہنچنے والے نقصان کا علم صرف رب العالمین کو ہے۔
*اسماعیلیہ، باطنیہ اور نصیریہ* ایسے گمراہ فرقےاسلام میں شیعہ کے دروازے سے داخل ہوئے۔
کفارو مرتدین بھی شیعہ کی راہ پر گامزن ہو کر اسلامی دیار وبلاد پر چھا گئے۔
*مسلم خواتین کی آبروریزی کی اور ناحق خون بہایا*
شیعہ خبثِ باطن اور ہوائے نفس میں یہود سے ملتے جلتے اور غلو و جہل میں نصاریٰ کے ہم نوا ہیں۔
( النتقیٰ من المنہاج اردو 28 مطبوعہ گوجرانوالہ)
*اس کی کی تازہ مثال پاکستان میں شریعت بل 1986 کی مخالفت ہے۔ آل شیعہ پارٹیز فیڈریشن نے 6 اپریل اور 19 اپریل کے اخبارات جنگ وغیرہ میں پریس کانفرنس شائع کروائی ہے۔
" اگر شریعت بل نافذ کیا گیا تو شیعہ اس کی بھرپور مزاحمت کریں گے۔ قربانی دیں گے اور اسلام کے شیدائی سوشلزم اپنانے پر مجبور ہوں گے "
*یعنی قران و سنت اجماعِ امت اور قانونِ شرع پر مبنی مسلمانوں کا اپنا اسلامی نظام اپنانا ہرگز گوارا نہیں ہے۔ اس کے آنے پر مر مٹنا منظور ہے مگر تائید نہیں کریں گے*
سوشلزم کا ،خدااور مذہب کے انکار پر مبنی نظام قبول ہے۔
ایں چہ بوالعجبیت؟؟
انگریز کے قانون میں ایک صدی عیش و عشرت سے بسر کی نہ اس کے خلاف آواز اٹھائی نہ فقہ جعفریہ کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ *جب 35 سال بعد پاکستان میں صدر ضیاء الحق نے نفاذِ اسلام کی بات کی تو کھلے مخالف ہوگئے ۔*
اسلام آباد کا گھیراؤ کیا فقہ جعفریہ کا مطالبہ لے آئے ،عشرو زکوۃ کا انکار کیا ، حدود شرعیہ سے خود کو مستثنیٰ کرالیا۔
*اب نفاذِ شریعت سے خائف ہیں؟*
*تو کیسے مسلمان ہیں؟؟*