شیعہ کے بارے میں رسولﷺ اور آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم…

شیعہ کے بارے میں رسولﷺ اور آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 1 از 6

شیعہ کے بارے میں رسولﷺ اور آلِ رسولؓ کی تعلیمات

سیدنا عثمانؓ کے دور حکومت میں یہودی سازش کے مرکزی کردار عبداللہ بن سبا نے جس نظریے کو فروغ دیا اور مختصر الفاظ میں یوں تھا ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصی (جس کے متعلق وصیت کی جائے) حضرت یوشع علیہ السلام تھے اسی طرح آنحضرتﷺ کے وصی سیدنا علیؓ ہیں آپﷺ‎ کے بعد سیدنا علیؓ کو امام اور جانشین ہونا چاہیے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ نے سیدنا علیؓ اور آپؓ کی اولاد کا حق غصب کیا (وغیرہ وغیرہ)۔

(کشف الحقائق از سید نور الحسین شاہ بخاریؒ)۔

منافقوں کے اس سرغنہ نسلی یہودی نے ہی سیدنا علیؓ کے دور میں آپؓ کی الوہیت کا نعرہ بلند کیا سیدنا علیؓ نے اس شرکیہ نعرے پر اسے اس کے ستر ساتھیوں کے ساتھ زندہ جلا دیا تھا۔

(از کشف الحقائق ،سید نور الحسن بخاریؒ)

عبد اللہ بن سبا کے اس یہودی فکر نے ہی نئے مذہب کو فروغ دیا اسلام کو جنگوں کے ذریعے ختم کرنے سے عاجز آنے والے یہودی اور عیسائیوں اور مجوسیوں نے بالاخر خاندان نبوت سے محبت کا دعویٰ کر کے تکفیرِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جو نظریہ پیش کیا اس نے سیدنا علیؓ کے دور میں شیعانِ علی کے نام سے ایک گروہ کو جنم دیا۔

شیعانِ علی کا یہ گروه سیدنا علیؓ سے محبت کی بجائے جنگِ صفین میں بغضِ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بنیاد پر منظر عام پر آیا تاہم یہ لوگ ایک سیاسی مشن اور گہری سازش کے تحت سیدنا علیؓ کی صفوں میں داخل ہو گئے تھے۔

ان کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے دشمنی اور سیدنا علیؓ اور خاندانِ نبوت سے اندرونی عداوت کے شواہد تو ہم سیدنا علیؓ اور آپؓ کی اولاد کی زبانی آئندہ صفحات میں نقل کریں گے۔

پہلے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمن گروہ کے بارے میں آنحضرتﷺ کی پیشگوئی اور چند اکابرین اسلام کی ابتدائی تصریحات نقل کی جا رہی ہیں۔ شیعہ مذہب کا باقاعده فروغ تو 301 ھ میں ہوا جس کے نتیجے میں جھوٹے راویوں اور کذاب مورخوں نے سیدنا علیؓ اور ائمہ اہلِ بیتؓ کی طرف بے بنیاد روایات منسوب کیں جس کا کچھ ذکر ابتدائی اوراق میں بھی آچکا ہے

شیعہ مذہب کے اس دوسرے جنم نے کلمہ کی تبدیلی تحریفِ قرآن اور تکفیرِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے ایسے ایسے شگوفے وضع کیے جس سے انسانی عقل انگشت بدنداں رہ جاتی ہے۔

شیعہ نے عقیدہ امامت کو ثابت کرنے کے لیے شریعت کی پوری تصویر تبدیل کر دی جب عقلی اور نقلی طور پر دعویٰ امامت ثابت نہ ہو سکا اور سیدنا علیؓ سمیت ائمہ اہلِ بیتؓ ہی کا کردار اور تعلیمات سب سے بڑی رکاوٹ بن گئیں تو "تقیہ خ" کا ہتھکنڈہ وضع کیا گیا مٙن گھڑت روایات سے دیوانوں کے دیوان بھر دیے گئے گزشتہ اوراق میں شیعہ عالم ڈاکٹر موسٰی موسی کے اعتراف حق میں ہمارے دعوے کا اثبات ہو چکا ہے۔ 

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دشمن گروہ کے بارے میں آنحضرتﷺ کی پیش گوئی

عن عبدالله ابن عباسؓ قال كنت عند النبیﷺ وعند علىؓ فقال النبیﷺ يا علىؓ سيكون فی امتى قوم ينتحلون حب اهل البيت لهو يسمون الرافضه قاتلوهم فانهم مشركون۔

(مجمع الزوائد جلد 1 صفحہ 21)۔

ترجمہ: اے سیدنا علیؓ میری امت میں ایک گروہ ہوگا جو اہلِ بیتؓ کی محبت کا دعویٰ کرے گا (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) پر طعن و تشنیع ان کی علامت ہو گی ان کو رافضی کہا جائے گا ان سے جنگ کرنا کیونکہ وہ شرک ہوگا۔

قال قلت الحسن بن علىؓ الشيعه يزعمون ان علياؓ يرجع قال كذب اولئك الكذابون لو علمنا ذالك ما تزوج نساوه ولا قمنا ميراثه۔

(مجمع الزوائد جلد 1 صفحہ 12 بحوالہ عاصم بن عبد الله)۔

ترجمہ: آپ فرماتے ہیں میں نے سیدنا حسن بن علیؓ سے پوچھا کہ شیعوں کا اعتقاد ہے کہ سیدنا علیؓ واپس آئیں گے تو سیدنا حسنؓ نے فرمایا ان کذابوں نے جھوٹ بولا اگر ہم یہ جانتے ہوتے تو آپؓ کی بیوائیں شادی نہ کرتیں اور ہم آپؓ کی میراث تقسیم نہ کرتے۔ 

ائمہ اہلِ بیتؓ اور آپؓ کی اولاد کی طرف سے شیعہ سے بیزاری اور برات کا اعلان

شیعه مذہب کے راویوں کے بارے میں آپ نے ائمہ اہلِ بیتؓ کی آراء ملاحظہ کیں اب ہم آپ کے سامنے سیدنا علیؓ سیدنا حسینؓ اور آپؓ کی اولاد کے وہ ارشادت پیش کریں گے جس سے واضح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ خود کو شیعانِ علی کہلانے والے سیدنا علیؓ اور آپؓ کی اولاد کے کتنے دشمن تھے خود سیدنا علیؓ اور آپؓ کی اولاد ان سے کسی قدر بیزاری اور نفرت کا اظہار کرتی تھی۔

خاندانِ نبوت سے محبت کی آڑ میں حضراتِ خلفاء راشدینؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تکفیر و تفسق کرنے والوں نے خاندانِ نبوت کو کس قدر اذیتیں پہنچائیں ان پر قاتلانہ حملے کیے ان کے اموال کو لوٹا ان کو ہر قدم پر دھوکہ دیا ہر جگہ سادہ لوح ائمہ کو فریب اور بے وفائی دکھوں سے رنج والم سے دو چار کیا

خاندانِ نبوت کے خلاف چھپے ہوئے اندرونی کفر اور گہرے بغض نے اولادِ رسولﷺ کو کہاں کہاں رلایا رسول اللہﷺ کی بیٹیوں کی حرمت کو کس کس جگہ پامال کیا؟ یہودیت و سبائیت نے کیسے کیسے چرکے لگائے ایک ایک امام اور ایک ایک صاحبزادے کو کس کس طرح ذلت و حقارت کی دہلیز تک پہنچایا؟ سیدنا علیؓ کی شہادت سے لے کر سانحہ کربلا تک کہاں کہاں اس قوم نے اولادِ پیغمبرﷺ سے انتقام لیا؟۔

محبت اہلِ بیتؓ کے پُرفریب دعووں کے نیچے چھپی ہوئی یہودیت نے معصوم اور دودھ پیتے بچوں کو بیچارگی اور بے وفائی کے کچوکے لگائے۔

پھر یہ سب کچھ کسی سُنی کی کتاب کا مواد نہیں بلکہ خود انہی کا ذخیرہ کُتب "شاہد عدل" کے طور پر تاریخ کے افق پر اعتراف حقیقت کر رہا ہے۔

آج کے دور میں ایسی بو قلمونی اور حیرت انگیز فریب کاری کا کوئی تصویر ہی نہیں کر سکتا جیسے افتراء سے خاندانِ نبوت کو عہد قدیم میں واسطہ پڑا تھا۔

سیدنا علیؓ اور آپؓ کی اولاد کے ائمہ کی زبانی ان پر انہی کے راگ الاپنے والوں کے ہاتھوں کیا بیتی؟ ملاحظہ فرمائیے:

صفحہ 1 از 6