شیعہ کے بارے میں رسولﷺ اور آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم…

شیعہ کے بارے میں رسولﷺ اور آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 4 از 6

ترجمہ: موسیٰ بن بکر واسطی نے کہا مجھے سیدنا علیؓ نے بتایا اگر میں اپنے شیعوں کو پرکھوں تو صرف باتونی نکلیں گے اگر میں امتحان لوں تو مرتدین کا ٹولہ نظر آئے گا اور خلوص دیکھوں تو ہزار میں سے ایک بھی مخلص نہ ملے گا اگر تحقیق سے چھان بین کروں تو ایک بھی نہ بچے گا عرصہ دراز سے مسندوں پر تکیہ لگائے کہتے ہیں ہم "شیعانِِ علی" ہیں سیدنا علیؓ کا شیعہ وہ ہوتا ہے جس کا فعل اس قول کی تصدیق کرے اور یہ بات ان سے کوسوں دور ہے محض زبانی جمع خرچ کرنے سے سیدنا علیؓ کا شیعہ نہیں بنا جا سکتا۔

میدانِ کربلا میں سیدنا حسینؓ نے شیعوں کی بد عہدی کے سبب ان پر لعنت کی (جلاء العیون)

 بروایت دیگر آنحضرتﷺ در خطبه فرمود حمد میکنم خداوند را که دينارا فرید و خانه فنا و نیستی گردانید و ابلش تا تبغیر احوال ممتحن ساخت پس فریب خورده کسی است که ازان باز می خورده بدبخت کیست که مفتون آن گردد پس فریب نه دید شمارا این غدار بدر ستیکه قطع میکند امید امیدواران خود و نا امید میگرد اند طمع کنندگان خود را و می بینم شمارا که جم شده اید برائے امری که خدارا نجشم آورده اید برخود و غضب او را متوجه بخد گردانیده و از رحمت او خود را محروم ساخته اید پس نیکو پروردگاریست پروردگار مادید بندگانیند شما برائی او اول اقرار کردید بفرمان برداری او و ایمان آوردید در ظاهر به پیغمبرا و واکنون جمعیت کرده اید برائی کشتن ذریت و عزت او شيطان برشما غالب گردیده ایست دیا و خدارا از خاطر شما محو کرده است پس لعنت بر شما باد و بر ارادت ما با دای بیوفایان جفاکار غدار ما را در پنگام اضطرار بعد دو یاری خود طلبید چون اجابت شما کردیم و بهدایت ونصرت شما آمدیم شمشیر کینه بروئے ما کشیدید۔

(جلاء العیون جلد دوم صفحہ 556 خطبہ آفسر در دو برابر سپاهِ کوفہ مطبوعہ تہران طبع جدید)۔

ترجمه: بروایت دیگر سیدنا حسینؓ نے فرمایا میں اس خدا کی حمد کرتا ہوں جس نے دنیا کو پیدا کیا اور خانہ فنا و نیستی بنایا اور اہالیان دنیا کا تبغیر احوال امتحان کیا واضح ہو کہ فریب خوردہ وہی شخص ہے جس نے دنیا سے قریب کھایا اور بد بخت وہی ہے جو دنیا کا مفتون و گرویدہ ہوا اے گروہ اشرار تم کو دنیا غدار فریب نہ دے تحقیق کہ دنیا اپنے امیدواروں کی امید کو قطع اور اپنے طمع کرنے والوں کو نا امید کر دیتی ہے میں تم کو دیکھ رہا ہوں کہ تم اس کام کے لیے جمع ہوئے ہو کہ خدا کو تم نے اپنے اوپر خشمگین کیا ہے اور اس کی رحمت سے محروم ہوئے ہو واضح ہو کہ ہمارا پروردگار نیکو کار ہے اور تم اس کے خراب اور بدکار بندے ہو پہلے تم نے اس کی فرمانبرداری کا اقرار کیا اور بظاہر اس کے پیغمبرﷺ پر ایمان لائے اور آپ ہی اس پیغمبرﷺ کی ذریت اور عترت کو قتل کرنے پر جمع ہوئے ہو شیطان تم پر غالب ہوا ہے اور اس نے یادِ خدا تمہارے دلوں سے محو کر دی ہے تم پر اور تمہارے ارادے پر لعنت ہو اے بیوفایان جفاکاراں خدا کی تم پر وائے ہو تم نے ہنگام اضطراب و اضطرار اپنی مدد کو مجھے بلایا اور جب میں نے تمہارا کہنا قبول کیا اور تمہاری نصرت اور ہدایت کرنے کو آیا اس وقت تم نے شمشیر کینہ مجھ پر کھینچی۔

بازارِِ کوفہ میں ماتم کرنے والے شیعوں کو سیدہ زینبؓ کا خطاب ہمیشہ جہنم میں رہو تمہیں ہمارے قاتل ہو (جلاء العیون)

 بشير بن حزیم اسدی گفت در آن وقت زينبؓ خاتون دختر امير المومنين اشاره کر دیسونی مردم که خاموش شوید و باں شدت و اضطراب چنان سخن میگفت که گویا از زبان حضرت امیر المومنين سخن میگوید پس بعد از ادائی محامد الهی و درود حضرت رسالت پنابی و صلوات بر ابل بيت اخیار و عترت اطهار گفت اما بعد اے اہل کوفه و ابل غدر و مکر و حيله أيا شما برما میگرید پنوز آب دیده ما از جور شمانه ایستاده و ناله از ستم شما ساکن نگر دیده مثل شما مثل آن زنست که رشته خود را محکم می تابید و باز میکشود و شما نیز رشته ایمان خود را گستید و نیست در میان شما مگر دعوی بے اصل و سخن باطل و تعلق فرزند کنیزان و عیب جونی دشمنان و نیستید مگر مانند گیاهی که در مذبله روید یا نقره که ارانش قبر کرده باشند بدتوشه برانی خود با آخرت فرستادید و خود را مخلد در جهنم گردانیدید شما بر ما گریه و ناله میکنید خود ما را کشته اید و بر مامی گرید د بلی والله باید که بسیار بگریدد و کم خنده کنید و عیب دعار ابدی بر خود خریدید و لوٹ ایں عار را از پیچ بابی از جامه شما زائل نخواهد شد و بچه چیز تدارک میتوانید کرد کشتن جگر گوشه خاتم پیغمبران و سید جوانان بهشت را کسی را کشتید که ملان برگزیدگان شما و روشن کنده حجت سما بود و در پر نازله باد پناه می بردید و دین و شریعت خودا از آدمی آموختید لعنت بر شماد باد که بد گناهی کردید و خود را از رحمت خدا نا امید گردانیدید. زیان کار دنیا و آخرت شوید مستحق عذاب الهی گردیدید مذلت و مسکنت برائے خود خریدید بریده بادوستانی شما موانی بر شما ای اهل کوفه چه جگر گوشها از حضرت رسالت پاره پاره کردید و چه پردگیان از مخدارت حجرات اوبی ستر کردید۔

 (جلاء العیون جلد دوم صفحہ 593 مطبوعہ تہران طبع جدید خطبہ سیدہ زینب در کوفه)۔

صفحہ 4 از 6