شیعہ مذہب کے بانیان اور راویوں کے بارے میں آل رسولﷺ کی…

شیعہ مذہب کے بانیان اور راویوں کے بارے میں آل رسولﷺ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 2

ان تین حوالہ جات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ خود ائمہ اہلِ بیتؒ نے تین شخصوں (بنان زرارہ اور برید) پر اللہ کی پھٹکار اور اس کی لعنت بھیجی ان جلیل القدر ائمہ اہلِ بیتؓ کا کسی پر ان الفاظ میں لعنت بھیجنا کوئی معمولی واقعہ نہیں اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تین شخص ایسے جرم کے مرتکب پائے گئے جن کی بنا پر ائمہ اہلِ بیتؓ کی زبان سے ان کے لیے بار بار لعنت خدا صادر ہوئی اور ایک عام پڑھا لکھا آدمی جانتا ہے کہ حضورﷺ نے کسی پر لعنت کرنے کے بارے میں فرمایا: اگر وہ اس کا مستحق ہوا تو ٹھیک ورنہ لعنت کرنے والے پر وہ لعنت لوٹ آئے گی تو یہاں معاملہ عام آدمی کا نہیں بلکہ اہلِ بیتؓ کے جلیل القدر ائمہ کا ہے وہ ان تینوں کے کرتوتوں سے بخوبی واقف تھے جن کی بناء پر انہوں نے ان پر اللہ کی لعنت بھیجی توائمہ اہلِ بیتؓ کا ان پر لعن طعن کرنے سے ثابت ہوتا ہے یہ تینوں مسلمان ہی نہ تھے کیونکہ کسی مسلمان پر لعنت کرنا قطعاً جائز نہیں لہٰذا ان غیر مسلموں سے جتنی روایات آئی ہیں وہ مردود اور ناقبول ہیں ایک طرف ائمہ اہلِ بیتؓ ان پر بار بار لعنت بھیجیں اور دوسری طرف اسی کتاب "رجال کشی" میں ان کی مدح سرائی کی گئی ہے۔

شیعہ کی صحاح اربعہ کا راویوں پر ائمہ کا عدم اعتماد شیعہ کی بنیادی کتابیں صحاح اربعہ کے راویوں کے بارے میں ائمہ کا فرمان:

حدثنی ابو جعفر محمد بن قولويه قال حدثني محمد بن ابی القاسم ابو عبد الله المعروف بما جيلويه عن زياده بن ابی الحلال قال قلت لابي عبدالله ان زراره روی منك في الاستطاعة شيئا فقبلنا منه وصدقناه وقد احببت ان اعرضه عليك فقال ماته فقلت يزعم انه سالك عن قول الله عزو جل (ولله على الناس حج البيت من استطاع اليه سبيلا) فقلت من ملک زاد او راحله فقال لك كل من ملك زاد ا وراحله فهو مستطيع للحج وان لم يحج فقلت نعم فقال ليس هكذا سالني ولا هكذا قلت كذب على والله كذب على والله لعن الله زراره لعن الله زراره انما قال لى من كان لهم زاد و راحله فهو مستطيع للحج قلت قد وجب عليه قال فمستطيع هو فقلت لا حتى يوذن له قلت فاخبر زراره بذلك قال نعم قال زیاد فقدمت الكوفه فلقيت زراره فاخبرته بما قال ابو عبدالله و سكت عن لعنه قال اما انه قد اعطاني الاستطاعه من حيث لا يعلم وصاحبکم ھذا لیس لہ بصر بكلام الرجال۔

(رجال کشی صفحہ 132۔133 مطبوعہ کربلا تذکرہ زرارہ)۔

ترجمہ: زیاد بن ابی حلال نے کہا میں نے سیدنا جعفر صادقؒ سے پوچھا آپ سے زرارہ نے "استطاعت" کے متعلق کچھ بیان کیا ہے تو ہم نے اسے قبول بھی کیا اور اس کی تصدیق بھی کی میں چاہتا ہوں کہ وہ مسئلہ آپ کے روبرو پیش کروں فرمایا: پیش کرو میں نے کہا زرارہ کا خیال ہے کہ اس نے آپ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں سوال کیا "لوگوں پر اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج ہے جو ان میں استطاعت رکھیں" تو آپ نے اسے فرمایا کہ جو شخص سفرِ خرچ اور سواری کا مالک ہو تو اس نے آپ سے پوچھا ہر وہ شخص جو سفر خرچ اور سواری کا مالک ہو وہ حج کی استطاعت رکھنے والا ہے اگرچہ اس نے حج نہ کیا ہو تو آپ نے فرمایا ہاں یہ سن کر سیدنا جعفر صادقؒ فرمانے لگے نہ اس طرح اس نے مجھ سے سوال کیا اور نہ ایسا میں نے اس کو جواب دیا اس نے مجھ پر جھوٹ گھڑا اللہ کی اس پر لعنت (تین مرتبہ آپ نے یہ الفاظ کہے) زرارہ نے مجھ سے یوں سوال کیا تھا کہ وہ آدمی جس کے پاس زاد و راحلہ ہو وہ حج کا مستطیع ہے؟ میں نے کہا اس پر حج واجب ہے اس نے کہا پھر وہ مستطیع ہوا؟ میں نے کہا جب تک اس کو اجازت نہ ملے وہ مستطیع نہیں کہلا سکتا۔

راوی کہتا ہے میں نے سیدنا جعفر صادقؒ سے عرض کی کہ میں زرارہ کو اس کی خبر کر دوں؟ آپ نے فرمایا ضرور راوی (زیاد) کہتا ہے کہ میں کوفہ گیا اور زرارہ سے ملاقات ہوئی میں نے اس سے سیدنا جعفر صادقؒ کے ارشاد اور لعنت کا تذکرہ کیا زرارہ لعنت کے جواب میں تو خاموش رہا کہنے لگا کہ لیکن "مستطیع " ہونے کی خبر انہوں نے ہی دی ہے جیسے وہ نہیں جانتے تمہارا یہ صاحب (سیدنا جعفر صادقؒ ) لوگوں کے کلام کی بصیرت نہیں رکھتا۔


صفحہ 2 از 2