ماتم کی ممانعت پر آنحضرتﷺ اور ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی…

ماتم کی ممانعت پر آنحضرتﷺ اور ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 3

سیدنا علی المرتضٰیؓ کا تیسرا ارشاد:

من لا يحضرہ الفقيہ:

قال عليه السلام لفاطمه عليها السلام حين قتل جعفر بن ابی طالب لا تدعى بويل ولا تكل ولا حزن ولا حرب وما قلت فيه فقد صدقت۔

(من لا يحضره الفقيہ صفحہ 56 في العزاء والجزع عند المصيت مطبوعه لكھنؤ و طبع قدیم)

(من لا يحضر و الفقيہ صفحہ 112 جلد مطبوعه تہران طبع جدید تعزیت و الجزع)

 ترجمہ: سیدنا جعفرؓ بن ابی طالب کی شہادت کے وقت سیدنا علیؓ نے اپنی زوجہ مطہرہ سیدہ فاطمہؓ سے کہا کسی کی موت پر اور کسی کے دورانِ جنگ شہید ہو جانے پر غم کھاتے ہوئے واویلا کے ساتھ ماتم نہ کرنا اور جو کچھ اس کے بارے میں میں نے کہا ہے وہ سچ کہا ہے۔

سیدنا حسینؓ کا ارشاد:

فقالت والكلاه ليت الموت اعدمنی اليوه اليوم ماتت امي فاطمهؓ و ابی علیؓ واخی الحسنؓ اللہ عليهم السلام يا خليفقه الماضين و ثمال الباقين فنظر اليها الحسينؓ فقال لها با ايه لا يذهبن حلمك الشيطن وقال لها ايتها يا اختاه اتقى اللہ وتعزى بعزاء اللہ واعلمي ان اهل الأرض يموقرن واهل السماء لا يبقون جدی خیر منی و ابی خیر منی واعی خیر منی اخی خير منی ولی ولكل مسلم برسول اللہﷺ اسوه فعز اما بهذا ونحوه وقال لهايا اخيه انی اقسمت علیک فابری قسمی لا تشقى على جيبا ولا تخمشی على وجها ولا تدعى على باويل والثبور۔ 

(1۔ الارشاد شیخ مفید صفحہ 232 فی مکالمتہ الحسین علیہ السلام مع اخته زينبؓ مطبوعہ قم خیابان ارم)

(2۔ اعلام الوری مصنفہ فضل ابنِِ حسن طبری صفحہ 236 امر الامام اختاه زينب بالصبر مطبوعہ بیروت طبع جدید)

ترجمہ: "جس وقت سیدنا حسینؓ نے میدانِ کربلا میں اپنے خیمہ سے نکل کر یزیدیوں کے مقابلہ کے لیے جانے لگے تو آپؓ کی ہمشیرہ سیدہ زینبؓ کہنے لگیں ہائے افسوس! کاش میری موت آجاتی اور آج کے دن میں یہ حالات نہ دیکھتی میری والدہ سیدہ فاطمہؓ میرے والد سیدنا علیؓ میرے بھائی سیدنا حسنؓ اس دنیا سے رخصت ہوگئے اے گزرے لوگوں کے خلیفہ اے آنے والوں کے سرمایہ سیدنا حسینؓ نے سیدہ زینبؓ کی طرف دیکھ کر فرمایا: اے پیاری بہن! آپ کے صبر کو کہیں شیطان نہ لوٹ لے اور فرمایا: اے ہمشیرہ خوفِ خدا اپناؤ اور اللہ کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق تعزیت کرو خوب سمجھ لو تمام اہلِِ زمین مر جائیں گے اہلِِ آسمان باقی نہ رہیں گے میرے نانا میرے بابا میری والدہ اور میرے بھائی سب مجھ سے بہتر تھے میرے اور ہر مسلمان کے لیے رسول اللہﷺ کی زندگی اور آپ کی ہدایات ایک بہترین نمونہ ہیں تو ان کے طریقہ کے مطابق تعزیت کرنا اور فرمایا: اے اماں جائی میں تجھے قسم دلاتا ہوں میری قسم کی لاج رکھتے ہوئے اسے پورا کر دکھانا میرے مرنے پر اپنا گریبان نہ پھاڑنا اور میری موت پر اپنے چہرہ کو نہ خراشنا اور نہ ہی بلاکت و بربادی کے الفاظ بولنا۔

سیدنا محمد باقرؒ کا ارشاد:

عن جابر عن أبی جعفر عليہم السلام قل قلت له ما الجزع؟ قال اشد الجزع الصراخ بالويل والعويل ولطم الرجه و جز الشعر من النواصی و من اقام النواحه فقد ترك الصبر واخذ فی غير طريقه ومن صبر و استرجع وحمد الله عزوجل فقد رضی بما صنع الله ووقع اجره علی الله ومن لم يفعل ذالك جری عليه القضاء و هو ذميم واحبط الله تعالیٰ اجره۔

(فروعِ کافی جلد 3 صفحہ 222 کتاب الجنائن باب الصبر و الجزع والاسترجاع طبع جدید)۔

ترجمہ: سیدنا جابرؓ کہتے ہیں میں نے سیدنا جعفرؓ سے جزع کے متعلق پوچھا یہ کیا ہے؟ آپؓ نے فرمایا شدید جزع یہ ہے کہ کوئی شخص ویل عویل الفاظ چیخ کر نکالے اور اپنے چہرہ کو پیٹے پیشانی کے بال نوچے اور جس نے نوحہ کیا اس نے صبر کو چھوڑ اور صحیح طریقہ کو چھوڑ کر دوسرے راہ چل پڑا اور جس نے صبر کیا اور بوقتِ مصیبت استرجاع (انالله وانا اليه راجعون) کہا اور اللہ کی حمد بیان کی تو اس نے اللہ کو راضی کر لیا اس کا اجر اللہ کے حضور ہے اور جو بوقتِ مصیبت ایسا نہ کرے گا اس پر حکمِ خداوندی تو ہو کر رہے گا لیکن وہ قابلِ مذمت ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کا ثواب و اجر کو ضائع کر دیا۔

سیدنا باقرؒ کا دوسرا ارشاد:

عن ابی جعفر علیه السلام قال ما من عبد يصاب المصيبته فيسترجع عند ذكره المصيبته ويصبر حين تفجاه الاغفر الله له ما تقدم من ذنبه وكلما ذكر مصيبته فاستر جع عند ذكر المصيبته غفر الله له كل ذنب اكتسب فيما بينهما۔

(فروع کافی جلد 3 كتاب الجنائز باب الصبر و الجزع الخ صفحہ 224 طبع جدید)۔

 ترجمہ: سیدنا باقرؒ کہتے ہیں جس آدمی کو کوئی مصیبت پہنچے پھر وه انا لله وانا اليه راجعون کہے اللہ تعالیٰ اس کے وہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے جو مصیبت کے آنے کے وقت سے انا للہ وانا اليه راجعون کہنے تک اس نے کیے ہوں گے۔

سیدنا جعفر صادقؒ کا فرمان

فروع کافی:

عن جراح المدائنی عن ابی عبد الله عليه السلام قال لا يصلح الصياح على الميت ولا ينبغی ولكن الناس لا يعرفونه والصبر خير عن علاء بن كامل قال كنت جالسا عند ابی عبدالله عليه السلام فصرخت صارخه من مالدار فقام ابو عبدالله عليه السلام ثم جلس فاسترجع وعاد في حديثه حتیٰ فرغ منه ثم قال انا لنحب ان تعافی فی انفسنا و اولادنا و اموالنا فاذا وقع القضاء فليس لنا ان نحب ما لم يحب الله لنا۔

(فروع کافی جلد 3 كتاب الجنائز باب الصبر و الجزع الخ صفحہ 226 طبع جدید)۔

 ترجمہ: جراح المدائنی نے سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت کی آپؒ نے فرمایا میت پر چیخنا چلانا درست نہیں اور لوگوں کو یہ نہ کرنا چاہیے لیکن لوگ اس کی وقعت کو جانتے نہیں صبر ہر حال میں سب کے لیے بہتر ہے علاء بن کامل سے روایت ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ پاس بیٹھا تھا تو گھر سے ایک عورت کے چیخنے کی آواز آئی سیدنا جعفر صادقؒ کھڑے ہو گئے پھر بیٹھے اور انا لله وانا اليه راجعون پڑھا پھر سے اپنی گفتگو شروع کر دی یہاں تک آپ گفتگو مکمل کر چکے پھر فرمایا ہمیں یہ بات بہت پسند ہے کہ ہم اپنی جانوں مالوں اور اولادوں کے بارے میں برائی سے بچیں جب اللہ کی تقدیر آجائے تو ہمیں یہ بات بہت پسند ہونا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور اس کی ناپسند سے بچنا چاہیے۔

سیدنا جعفر صادقؒ کا دوسرا ارشاد

فروع کافی

صفحہ 2 از 3