ماتم کی ممانعت پر آنحضرتﷺ اور ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی…

ماتم کی ممانعت پر آنحضرتﷺ اور ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 3 از 3

عن ابی عبدالله عليه السلام قال ان الصبر و البلاء يستتبعان الى المومنين فياتيه البلاء وهو صبور و ان الجزع والبلاء بستتبعان الى الكافر فياتيه البلاء وهو جزوع۔

(1۔ فروعِ کافی جلد 3 باب الصبر والجزع صفحہ 223 مطبوعه تہران طبع جدید)۔

(2۔ فروعِ کافی جلد 1 صفحہ 57 طبع قدیم)۔

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں بے شک صبر اور مصیبت دونوں مومن کی طرف آتے ہیں جب کوئی مصیبت اس پر آتی ہے وہ اس وقت انتہائی صبر کرنے والا ہوتا ہے اور جزع وبلا آگے پیچھے کافر کے پاس آتے ہیں جب اس کے پاس مصیبت آتی ہے تو وہ انتہائی رونے پیٹنے والا ہوتا ہے۔ 

سیدنا جعفر صادقؒ کا تیسرا فرمان:

اصول کافی:

عن ابی عبد الله عليه السلام قال الصبر من الايمان بمنزلة الراس من الجسد فاذا ذهب الراس ذهب الجسد كذالك اذا ذهب الصبر ذهب الايمان۔

(اصولِ کافی جلد 2 صفحہ 87 کتاب الایمان والكفر باب العبر مطبوعه تہران طبع جدید)

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا صبر کا ایمان سے ایسا تعلق ہے جیسا جسم انسانی کے ساتھ سر کا جب سر نہ رہے جسم نہیں رہتا اور جب صبر نہ رہے ایمان نہیں رہتا۔

سیدنا زین العابدینؒ کا ارشاد:

عن على بن الحسينؓ قال الصبر من الأيمن بمنزله الراس فی الجسد ولا ايمان لمن لا صبر له۔

(جامع الاخبار مصنفه شیخ صدوق صفحہ 132 افضل الحادی والسبعون في الصبر)۔

ترجمہ: سیدنا زین العابدینؒ نے فرمایا صبر کا مقام ایمان میں ایسا ہے جیسا کہ سر کا آدمی کے جسم میں وہ بے ایمان ہے جس کے ہاں صبر کی صفت نہیں۔

آنحضرتﷺ کا ارشاد:

بروایے فرمود که ہفت نفر در قبر از قبله رد گرداں شوند خمر فروش و مصر بر شراب و شهادت دهنده بنا حق و محتكرور بواخوار و عاق والدين و نوحه گرو فرمود که بر که کتمان شهادت نما ید حق تعالیٰ گوشت اور انجوراند باودر حضور خلائق و داخل جهنم شود در حالتے که زبان خود می خاید۔

(مجمع المعارف حاشیه برحليته المتقین صفحہ 168 مطبوعه تہران طبع جدید)۔

ترجمہ: بمطابق ایک روایت رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ سات آدمیوں کا قبر میں منہ قبلہ کی طرف سے پھیر دیا جاتا ہے۔

  1. شراب بیچنے والا
  2. شراب لگا تار پینے والا 
  3. ناحق گواہی دینے والا 
  4. جوا باز
  5. سود خور
  6. والدین کا نا فرمان
  7. ماتم کرنے والا۔

اور حضورﷺ نے یہ بھی فرمایا جو شخص گواہی کو چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اس کا اپنا گوشت کھانے کو کہے گا اور وہ میدانِ حشر سب لوگوں کے سامنے اپنا گوشت کھائے گا اور جہنم میں اس حالت سے داخل ہوگا کہ اپنی زبان کو کاٹ رہا ہوگا۔


صفحہ 3 از 3