غناء کرنے والے اور مرثیہ خوان کو قبر سے اندھا اور گونگا کر…

غناء کرنے والے اور مرثیہ خوان کو قبر سے اندھا اور گونگا کر کے اٹھایا جائے گا

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 2

صاحبِ منتہی الامال یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ کے نام پر منعقد کی گئی محفل میں اگر سچی حکایات و واقعات بیان کیے جائیں اور آپؓ کی شہادت کے متعلق صحیح روایات ذکر کی جائیں سیدنا حسینؓ کے اعمال و اقوال بیان کیے جائیں اور کربلا کے میدان میں آپؓ کی استقامت علی الحق اور دین پروری کے سچے واقعات سنائیں جائیں تو یہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ ثواب کا باعث بھی ہیں اور عوام کے لیے باعث ہدایات و تقلید بھی ہیں لیکن جو لوگ ان حقائق کی بجائے جھوٹی روایات من گھڑت قصے کہانیاں بیان کرتے ہیں (جیسا کہ سیدنا قاسمؒ کی مہندی گھوڑے کا رونا وغیرہ) تو یہ اتنا عظیم جرم ہے جو ایک بار نہیں ستر بار زنا کرنے سے بھی زیادہ برا ہے جس کا ادنیٰ ترین گناہ اپنی سگی والدہ سے زنا کے برابر ہے پھر اس دروغ گو پر اللہ کی لعنت ستر ہزار عام فرشتوں کی لعنت حاملین عرش مخصوص فرشتوں کی لعنت بھی ہوتی ہے۔

(بحوالہ فقہ جعفریہ جلد 3 صفحہ 179)

 اس لیے اسی مقام پر لکھتے لکھتے شیخ قمی یہاں تک لکھ گیا ایسی محفل میں ہرگز نہیں جانا چاہیے وہ لکھتا ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ سے دریافت کیا گیا کہ "از قصه خوانان که آیا گوش دادن بایشاں حلال است حضرت فرمود حلال نیست "

ترجمہ:  یعنی ایسی محفلوں میں جاکر ذاکروں سے غلط سلط روایات سننا جائز ہے آپ نے فرمایا جائز نہیں۔

مزید فرمایا:

پس آں گوش کننده را پرستیده۔

ترجمہ: ایسی غلط مرثیہ خوانی سننے والا دراصل شیطان کا پجاری ہے۔

باید از مجالس شان اعراض کرد و سخنان ایشان را گوش نکرد۔

ترجمہ: ان کی مجالس میں نہ جانا چاہیے اور ان کی باتوں کی طرف کان نہ دہرنے چاہیں۔

مروجہ ماتم کارکن اعظم غناء ہے

لغت کی معتبر کتاب "المنجد " میں صفحہ 393 پر غناء کی یہ تعریف کی گئی ہےـ

الغناء من الصوت ما طرب به۔

ترجمہ: غناء ایسی آواز کو کہتے ہیں۔ (جس کو سر اور راگ کے ساہت نکلنے سے) طرب ولذت پیدا ہوتی ہو۔

کتبِ شیعہ میں لفظ غناء کی تعریف ملاحظہ ہو:

معارف اسلام میں ہے:

الغناء بامد الصوت المشتمل على الترجيع المطرب وما سمى في العرف الغناء وان لم يطرب سواء كان في شعرام قران ام غيرهما۔

(معارف اسلام صفحہ 38)۔

ترجمہ: لفظ غناء کو جب مد کے ساتھ پڑھا جائے تو اس آواز کو کہتے ہیں جو کبھی بلند اور کبھی پست نکالی جائے اس سے سننے والا لذت محسوس کرے اور ہر وہ آواز جسے عرف عام میں گانا کہا جائے وہ "غناء" ہے چاہے ایسی آواز شعر کہتے وقت قرآن کی تلاوت یا کسی اور مقام پر نکالی جائے اور اگرچہ اس میں لذت و خوشی نہ بھی ہو۔

شیعہ کی معتبر کتاب منتہی الامال میں ہے:

اما غناء پس شکی نیست در حرمت و مذمت گوش کردن آں مطلقا چه در مصیبت و مرثیه خوانی حضرت سید الشہدا باشد یا غیر آں و حقیقت غناء بماں نصوت لویست خواه با ترجیع باشد یا از تقطیع صوت و موزون کردن اور حاصل شود چنانچه در لحن مشهور تصنیف و نوحه بانی موازن۔

(منتہی الامال جلد 1 صفحہ 549 در مذمت غناء و عدم جواز غناء در مراثی مطبوعه تہران طبع جدید)۔

ترجمہ: غناء کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں ہے اور اس کا سننا قابلِِ مذمت ہے چاہے کسی مصیبت کے وقت یا سیدنا حسینؓ ان کے مرثیہ پڑھتے وقت یا کسی اور جگہ ہی کیوں نہ ہو۔

 اور "غناء" در حقیقت وہ آواز ہے جو لہو و لعب کے طور پر نکلی ہو پھر عام ہے کہ ایسی آواز سر کے ساتھ یا ویسے ہی موزوں آواز کے ساتھ نکالی جائے جیسا کہ راگ و سر میں یا رونے پیٹنے کے وقت سے موزوں آواز نکالی جائے۔

خلاصہ: لغت و شرع میں غناء وہ آواز کہلائی جو موزوں آواز سے نکالی گئی ہوـ


صفحہ 2 از 2