Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

متعہ کے بارے میں آنحضرتﷺ سیدنا علیؓ اور ائمہ اہلِ بیت کی تعلیمات تصویر کا ایک رخ

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

متعہ کے بارے میں آنحضرتﷺ سیدنا علیؓ اور ائمہ اہلِ بیت کی تعلیمات تصویر کا ایک رخ:

شیعہ کی طرف سے متعہ کرنے کا اجر و ثواب

 ایک دفعہ متعہ کرنے والا سیدنا حسینؓ دو مرتبہ متعہ کرنے والا سیدنا حسنؓ تین مرتبہ متعہ کرنے والا سیدنا علیؓ اور چار مرتبہ کرنے والا حضورﷺ کے رتبہ تک پہنچ جاتا ہے۔ 

(بحوالہ منحج الصادقین)۔

اب ہم آپ کے سامنے متعہ کے بارے میں سیدنا علیؓ اور آپؓ کی اولاد کے ائمہ کے ارشادات اور تعلیمات پیش کرتے ہیں جس سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ شیعہ نے ائمہ اہلِ بیتؓ کی تعلیمات سے یکسر انحراف کیا ہے۔ 

تصویر کا دوسرا رخ:

سیدنا علیؓ کی طرف سے متعہ کی ممانعت:

دلائل از کتبِ شیعہ برحرمتِ متعہ:

 عده من أصحابنا عن سہل بن زياد عن محمد بن الحسن بن شمون قال كتب ابوالحسن عليه السلام إلى بعض مواليه لا تلحوا على المتعة انما عليكم اقامه السنه فلا تشتغلوا بها عن فرشكم وحرائركم فيكفرن ويتبرين ويدعين على الأمر بذالك ويلعنونا۔

(فروع کافی جلد پنجم مطبوعہ تہران طبع جدید كتاب النكاح باب انه يجب ان يكف عنها من كان متعنيا صفحہ 453)۔

جناب ابوالحسن نے اپنے بعض خدام کو لکھ بھیجا متعہ پر اصرار مت کرو تم پر صرف سنت کی پابندی لازم ہے اپنی منکوحہ اور آزاد عورتوں کو جو نکاح میں ہوں انہیں چھوڑ کر متعہ میں مصروف نہ ہو جاؤ اگر تم نے ایسا کیا تو وہ عورتیں (جو تمہارے نکاح میں ہیں) تمہاری ناشکری ہو جائیں گی یا کفر کی طرف منسوب کریں گی اور تم سے بیزاری کا اظہار کریں گی اور اس کی شکایت حاکمِ وقت کے پاس لے جائیں گی اور وہ ہم سب پر لعنت بھیجیں گے کیونکہ وہ سمجھیں گی کہ تمہیں حکمِ متعہ ہم نے دیا ہے لہٰذا ہمیں بھی تمہارے ساتھ لعنت کرنے میں اکٹھا کریں گے۔ 

حاصلِ کلام:

 اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سیدنا علیؓ نے اپنے ماتحتوں اور غلاموں کو متعہ پر اصرار کرنے سے روکتے ہوئے یہاں تک فرمایا کہ لوگ ہم پر لعنت کریں گے اور تکفیر تک سے نہیں چوکیں گے جو شخص اس فعل شنیع کی اس حد تک مذمت کرتا ہو تو اس فعل کے متعلق اپنے آپ کو سیدنا علیؓ کے فدائی اور جان نثار کہلانے والوں کو یہ کہتے ہوئے شرم آنی چاہیے کہ جو شخص ایک مرتبہ متعہ کرتا ہے اس کو سیدنا حسینؓ کا درجہ اور دو دفعہ متعہ کرنے والے کو سیدنا حسنؓ کا درجہ اور تین دفعہ کا مرتکب سیدنا علیؓ کا درجہ اور چار دفعہ ارتکاب کرنے والا نبی کریمﷺ کا درجہ پاتا ہے کیا یہ بکواسات نہیں اور کیا یہ مٙن گھڑت لغویات نہیں سیدنا علیؓ تو ایک دفعہ متعہ کرنے کو بھی خلافِ سنت قرار دے کر اس سے منع کر رہے ہیں کیونکہ آپ ہی تو وہ شخصیت ہیں کہ جن سے سُنی شیعہ سبہی یہ روایت کرتے ہیں کہ یومِ خیبر کو رسول اللہﷺ نے پالتو گدھا اور متعہ حرام کر دیئے تھے جب آپؓ سے خلافِ سنت بھی قرار دیں اور اس کی حرمت کے روایت کرنے والے بھی ہوں تو پھر ان کی طرف اس بات کی نسبت کرنا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ متعہ کو سنت قرار دیتے ہیں کس قدر ظلم اور بغض و عداوت کا بھر پور مظاہرہ ہے۔

 سیدنا جعفر صادقؒ کی طرف سے متعہ کی ممانعت:

 عن المفضل بن عمر قال سمعت ابا عبد الله عليه السلام يقول فی المتعه دعوها اما يستحيى احدكم أن يرى فی موضع العورة فيحمل ذالک علی صالحی اخوانه واصحابه۔

(فروع کافی جلد پنجم مطبوعہ تہران طبع جديد كتاب النكاح انه يجب ان يكف عنها من كان مستعنيا صفحہ 453)۔

ترجمہ: مفضل کہتا ہے میں نے سیدنا جعفر صادقؒ سے سنا وہ متعہ کے بارے میں فرما رہے تھے کہ اس کو چھوڑ دو کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ ایک شخص عورت کی شرمگاہ کو دیکھے پھر اس کا تذکرہ اپنے بھائیوں اور احباب سے کرے۔ 

حضراتِ قارئین! یہ حدیث اس کتاب کی ہے جو شیعہ لوگوں کے نزدیک صحیح ترین کتبِ حدیث میں سے ہے اور اس کی (حدیث) صحت میں کوئی قیل و قال نہیں سیدنا علیؓ جس فعل (متعہ) کو بے حیائی کا نمونہ اور بے شرمی کی علامت قرار دیں تو اس فعلِ بد کے مرتکب کو جنتی اور صاحب تقویٰ قرار دینا کس قدر بے غیرتی اور بے حیائی ہے کسی محبِِ اہلِ بیتؓ کا ایسا عقیدہ نہیں ہو سکتا اور سیدنا جعفر صادقؒ کا کوئی غلام اسے جائز متصور نہیں کر سکتا محبانِ اہلِ بیتؓ غلامانِ آلِ رسولﷺ اس کو زنا اور بدکاری کے زمرہ میں ہی شمار کرتے ہیں اور شمار کریں گے۔

سیدنا زین بن علیؒ کی طرف سے متعہ کی حرمت کی روایت:

 عن زيد بن على عن ابائه عن على عليهم السلام قال حرم رسول اللهﷺ لحوم الحمرا الاهليه ونكاح المتعه۔

(1۔ الاستبصار جلد سوم مطبوعہ تہران طبع جدید ابواب المتعہ صفحہ 142)۔ 

(2۔ تهذیب الاحکام جلد 7 مطبوعہ تہران طبع جدید باب تفصیل احکام النکاح صفحہ 251)۔ 

ترجمہ: "زین العابدینؒ اپنے جدِ امجد سیدنا علیؓ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا رسول اللہﷺ نے ہم پر پالتو گدھوں کا گوشت کھانا اور نکاحِ متعہ حرام کر دیا ہے"۔

 اس حدیث میں سیدنا علیؓ نے حضورﷺ سے متعہ کی حرمت کو واضح اور صریح الفاظ کے ساتھ ذکر فرمایا جس کی وجہ سے کوئی تاویل نہیں ہو سکتی لیکن اس صراحت و وضاحت کے ہوتے ہوئے بھی اگر کوئی شیعہ اس کی یہ تاویل کرے کہ سیدنا علیؓ کا یہ کہنا از روئے تقیہ ہے تو ہم عرض کریں گے کہ ایسا کہنے والا سیدنا علیؓ کو انتہا درجہ کا بزدل سمجھتا ہے اور آپؓ کے اس خطبہ کی قطعاً خبر نہیں رکھتا جس میں آپؓ نے فرمایا: 

نہج البلاغہ:

 "اگر میرے مقابلہ میں تمام عرب بھی آجائے تو میں ان کو پشت نہیں دکھاؤں گا بلکہ میں ان کی گردن اتارنے میں حتی الامکان جلدی کروں گا تاکہ میں زمین کو برے لوگوں سے پاک کر دوں"۔ 

(نہج البلاغہ خطبہ 45 طبع جدید چھوٹا سائز صفحہ 428)۔

 جب شیعہ لوگ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ جس طرح شریعت کے قوانین کا بانی اللہ اور اس کا رسولﷺ ہوتا ہے اسی طرح ائمہ اہلِ بیتؓ بھی بانیانِ شریعت ہیں تو ان کے اس عقیدہ کے بعد ہم پوچھتے ہیں اگر شریعت کا بانی ہی احکامِ شرعیہ کو بیان کرنے میں تقیہ کا سہارا لینا شروع کر دے تو پھر کسی دروازے سے احکام شرعیہ صحیح طور پر معلوم ہو سکیں گے۔ 

عراق لبنان اور شام میں شیعہ "متعہ" کو دین کے خلاف سمجھتے ہیں:

 لكن الشيعه لبنان و سوريه والعراق لا يستعملون المتعه على الرغم من ايمانهم بجوازها واباحتها الحاكم الشرعيه الجعفريه فی لبنان لم تجر ولم تاذن للزواج المتعه منذ انشائها الى اليوم۔

(الفقيہ على المذاہب الخمسه صفحہ 367 تذکرہ ولا المتعه)۔

"لبنانی شامی اور عراقی شیعہ متعہ پر عمل نہیں کرتے کیونکہ وہ اس کی اجازت و اباحت کو اپنے دین کا بد نما داغ سمجھتے ہیں اور فقہ جعفریہ کے یہ احکام لبنان میں نہ تو جاری ہیں اور نہ ہی لبنانی شیعوں نے اپنی عورتوں کو متعہ کی اجازت دی ان کا یہ وطیرہ اس وقت سے آج تک چلا آ رہا ہے جب سے متعہ کی حلت و اجازت بنائی گئی۔