سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے…

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے باہمی تعلقات

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 10

سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا علیؓ کے باہمی تعلقات

علامہ خالد محمود:

الحمدللہ و سلام علی عباده الذین اصطفی اما بعد! 

سیدنا علی المرتضیٰؓ قریش کے بطن بنو ہاشم میں سے تھے سیدنا ابوبکر صدیقؓ قریش کی ایک مختصر شاخ بنو تمیم کے فرد تھے دونوں ایک برادری کے نہ تھے مگر سبقت فی الاسلام کے ناطے دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب تھے اور دینی کاموں کے سوا سماجی اور معاشرتی دوائرِ زندگی میں بھی وہ ایک دوسرے سے خاصے خوشگوار تعلقات رکھتے تھے آپس میں وہ خیر خواہی تھی جو مؤمنين کو ہی ایک دوسرے سے ہوسکتی ہے انس و مؤدّت کی یہ راہیں آلِ سبا کے اس تصوّر کو یکسر ختم کرتی ہیں جو یہ ان حضرات (معاذ اللہ) کو آپس میں عداوت و منافرت کے فاصلے میں گھرے ہوئے بتلاتا ہے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے سیدنا علیؓ کے ساتھ یہ تعلقات حضورﷺ کی وفات سے پہلے بھی قائم تھے اور حضورﷺ کی وفات کے بعد بھی قائم رہے ان میں مودّت و محبت کی یہ فضا برابر قائم تھی اور سیدنا علیؓ نے سیدنا صدیق اکبرؓ کو ان کی وفات کے بعد بھی جب کبھی اپنے ہاں یاد کیا تو نیکی سے ہی ياد كيا وكفىٰ بالله شهيدا۔

"نام نیک رفتگاں ضائع مکن

تابماند نام نیکت برقرار"

خلافت سے پہلے کے تعلقات:

سیدنا علیؓ کو سیدہ فاطمہؓ کی خواستگاری پر سیدنا ابوبکرؓ نے ہی آمادہ کیا تھا اور آپ ہی سیدنا عمرؓ اور سیدنا سعد بن معاذؓ کو ساتھ لے کر اس بات کے لیے سیدنا علیؓ کے پاس پہنچے تھے ملا باقر مجلسی لکھتا ہے:

پس ابوبکرؓ با عمرؓ و سعد بن معاذؓ گفت که بی خیزید بنزد علیؓ رویم و اورا تکلیف نمایم که خواستگاری فاطمهؓ بکند و اگر تنگدستی اورا مانع شده باشدما اورا دریں باب مدد کنیم۔ 

(جلاء العیون صفحہ، 121 بحار الانوار جلد، 10 صفحہ، 37)۔

ترجمہ: پس سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا عمرؓ اور سیدنا سعدؓ کو کہا آؤ سیدنا علیؓ کے پاس چلیں اور اسے آمادہ کریں کہ وہ حضورﷺ سے سیدہ فاطمہؓ کا رشتہ مانگیں سیدنا علیؓ کو اگر یہ عذر ہوں کہ وہ غریب ہیں تو ہم ان کی مالی امداد کریں۔

یہ صرف نکاح کی ہی تجویز نہیں اسمیں وہ خیر خواہی لپٹی ہے جو ایک برادری اور خاندان کو ایک دوسرے سے ہوتی ہے سیدنا ابوبکرؓ کا دل سیدنا علیؓ کے لیے کس جذبہ ترحم سے بھرا پڑا تھا کہ ان کے لیے خاتونِ جنت کا رشتہ تجویز کیا اور اپنے مال و جان سے سیدنا علیؓ کے لیے اس منزلت کی تمنا کی جو اس مبارک رشتے سے سیدنا علیؓ کو حاصل ہوتی تھی۔

رسالت مابﷺ کی سیدنا ابوبکرؓ پر نظرِ قدر:

آنحضرتﷺ سیدنا ابوبکرؓ کے اس جذبہ خیر خواہی سے ناواقف نہ تھے جو انہیں اہلِ بیتِؓ رسالت کے بارے میں حاصل تھا سو آپ نے بھی جہیز سیدہ فاطمہؓ کے لیے سیدنا ابوبکرؓ کو ہی سربراہ بنایا اور انہیں ضروری رقم دی تاکہ سیدہ فاطمہؓ کے لیے شادی کی اشیاء خریدی جاسکیں محمد بن حسن طوسی (460ھ) نقل کرتا ہے:

ثم قبض رسول اللهﷺ من الدراهم بكلتا يديه فاعطاها ابابكرؓ و قال ابتع لفاطمةؓ ما يصلحها من ثياب واثاث البيت واردفه بعمار بن ياسرؓ وبعدة من اصحابه فحضروا لسوق فكانوا يعرضون الشئ مما يصلح فلا يشترونه فى يعرضوه على ابى بكرؓ فان استصلحه اشتروه۔ 

(کتاب الامالی جلد، 1 صفحہ، 30 جلا العیون صفحہ، 136)

ترجمہ: پھر رسول اللہﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے درہم لیے اور سیدنا ابوبکرؓ کو دیںٔے اور کہا سیدہ فاطمہؓ کے لیے کپڑے اور گھر کی چیزیں خرید لائیں اور ان کے ساتھ سیدنا عمار بن یاسرؓ اور کئی دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین کو بھیجا یہ سب حضرات بازار گئے جو چیز مناسب تھی وہ دکھاتے رہے کوئی چیز نہ خریدتے جب تک وہ سیدنا ابوبکرؓ کو نہ دکھا دیں آپؓ اسے پسند کرتے تو وہ اسے خریدتے تھے۔

ابنِ شہر آشوب (588ھ) بھی لکھتا ہے:

وانفذ عماراًؓ و ابابكرؓ وبلالاًؓ لا بتياع ما يصلحها۔ 

(مناقب ابنِ شہر آشوب جلد 4 صفحہ 20)۔

ترجمہ: اور آپؓ نے سیدنا عمارؓ کو سیدنا ابوبکرؓ کو اور سیدنا بلالؓ کو ان چیزوں کی خرید کے لیے بھیجا جو سیدہ فاطمہؓ کو چاہیے تھیں۔

 سیدہ فاطمہؓ کے نکاح کی خبر اور سیدنا ابوبکرؓ:

سیدنا علیؓ کی حضورﷺ سے جب نکاح کی گفتگو ہوچکی اور حضورﷺ کے پاس سے آ رہے تھے تو راستے میں سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ ملے آپؓ نے بتلایا کہ آپؓ کی سیدہ فاطمہؓ سے رشتہ کی بات ہو گئی ہے تو سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ پر اس کا جو اثر ہوا اسے سیدنا علیؓ کی زبان مبارک سے سنیے:

ففرحا بذلك فرحا شديداً و رجعا معی الى المسجد فما توسطناه حتىٰ لحق بنا رسول اللهﷺ وان وجهاء يتهلل سرور و فرحا۔ 

(المناقب للخوارزمی صفحہ 251۔252 کشف الغم صفحہ 483۔484 بحار الانوار جلد 10 صفحہ 38)۔

ترجمہ: سو یہ دونوں بہت زیادہ مسرور ہوئے اور دونوں میرے ساتھ مسجد میں آئے ہم مسجد کے درمیان بیٹھے تھے کہ حضور اکرمﷺ آ ملے اور آپ کا چہرہ بھی خوشی سے دمک رہا تھا۔ 

جن حضرات کی حضورﷺ نے مجلسِ نکاح میں شرکت چاہی:

یہ صحیح ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ راستے میں سیدنا علیؓ کو ملے تھے اور آپؓ کے نکاح کی خبر ملنے پر وہ خود ہی سیدنا علیؓ کے ساتھ ہوگئے تھے یہاں تک کہ تینوں حضرات مسجد میں آگئے اور پھر وہیں حضورﷺ بھی آپہنچے لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ حضورﷺ جب اپنے گھر سے چلے تھے تو آنحضرتﷺ اپنے خادم خاص سیدنا انس بن مالکؓ کو حکم دے کر چلے تھے کہ بارہ افراد کو اس مجلسِ نکاح میں آنے کی دعوت دو پانچ مہاجرین اور چھ انصار سیدنا علیؓ سمیت کل بارہ ہو جائیں گے علی بن عیسیٰ الارسبیلی (687ھ) سیدنا انسؓ سے روایت کرتا ہے کہ حضورﷺ نے مجھے کہا:

فانطلق فارع لى ابابكرؓ و عمرؓ و عثمانؓ وعلياؓ وطلحةؓ و الزبيرؓ وبعددهم من الانصار۔ 

(کشف الغم جلد 1 صفحہ 471)۔

صفحہ 1 از 10