سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے…

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے باہمی تعلقات

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 10

ترجمہ: تو جا اور میرے لیے سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ سیدنا علیؓ سیدنا طلحہؓ سیدنا زبیرؓ اور اتنی ہی تعداد میں انصار کو بلا لا یہ حضرات سیدہ فاطمہؓ کے نکاح کے گواہ بنے مہاجرین میں سے جو پانچ حضرات نکاح کے گواہ ہوئے افسوس ہے کہ شیعہ ان ہی سے چار کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ معاذ اللہ سب منافق تھے حاصل اس کا یہ نکلتا ہے کہ سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا علیؓ کو اپنے نکاح کے لیے مہاجروں میں سے ایک بھی مؤمن گواہ نہ مل سکا آنحضرتﷺ کی مکی برادری کا یہی چھ حضرات سرمایہ تھے (دو اور بزرگ بھی ان میں شامل ہیں محب الدین الطبری (664ھ) نے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کو بھی ان مدعو میں ذکر کیا ہے ذخاںٔر العقبی فی مناقب ذوی القربی صفحہ 30) اور آپؓ نے سیدہ فاطمہؓ کے نکاح میں انہی کی شرکت چاہی تھی اور انہی کو بلانے کے لیے سیدنا انسؓ کو بھیجا تھا اور خدا کی قدرت دیکھئے کہ ادھر سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ خود ہی سیدنا علیؓ کی ہمراہی میں چلے آ رہے تھے حضورﷺ کا ہی یہ انتخاب تھا جن پر مشتمل سیدنا عمرؓ نے اپنی کمیٹی بنائی تھی۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کس ترتیب سے زبانِ رسالت پر آئے:

حضور نے ان حضرات کو جب مجلس نکاح میں بلایا تو ترتیب وہ تھی جو آئندہ خلافت میں عمل میں آنے والی تھی (1) سیدنا ابوبکرؓ (2) سیدنا عمرؓ (3) سیدنا عثمانؓ (4) سیدنا علیؓ کسے معلوم تھا کہ یہ حضرت اسی ترتیب سے خلفاںٔے راشدین ہوں گے زبانِ رسالت پر یہ ترتیب یونہی نہ آگئی تھی جب یہ نکاح وحی الٰہی کے ساںٔے میں ہو رہا تھا تو اس کے دیگر پہلو بھی امرِ الٰہی کے تحت ہی وقوع میں آرہے تھے جب حضورﷺ نے سیدہ ام کلثومؓ سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں دی تھی اس وقت بھی تو آپﷺ‎ کا عمل وحی الٰہی کے ہی تابع تھا (امام بخاریؒ کہتے ہیں حضورﷺ نے فرمایا تھا ناں زوجت ام کلثومؓ من عثمانؓ الا لوحی من السماء۔

(تاریخ کبیر جلد 2 حصہ اول صفحہ 281 میں نے سیدہ ام کلثومؓ سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں وحی سماوی سے دی ہے)۔

والدہ کی وفات پر شریکِ غم

سیدنا علیؓ کی والدہ فاطمہ بنت اسد کی وفات مدینہ منورہ میں آنحضرتﷺ کی زندگی میں ہوئی حضورﷺ نے انہیں اپنی قمیض مبارک کفن کے لیے دی آپﷺ‎ اس کی قبر میں بھی اترے قبر میں میت کو کس کس نے اتارا محدث طبرانی (360ھ) روایت کرتے ہیں۔

ادخلها اللحد هو والعباسؓ وابوبكر الصديقؓ۔ 

(مجمع الزوایمہ جلد 9 صفحہ 257 جمع الفوائد3 صفحہ 408)۔

ترجمہ: سیدنا علیؓ کی والدہ کو آپﷺ‎ نے سیدنا عباسؓ اور سیدنا ابو بکرؓ نے قبر میں اتارا۔

آنحضرتﷺ سیدنا عباسؓ اور سیدنا علیؓ تو سب ہاشمی تھے ایک بطن سے تھے سیدنا ابوبکرؓ تو ہاشمی نہ تھے قریش کے بطن بنو تمیم میں سے تھے سیدنا ابوبکرؓ کا اس انداز میں سیدنا علیؓ کے قریب ہونا ان کے باہمی انس و مودت کا پتہ دیتا ہے غم کے مواقع پر حقیقت بولتی ہے دل ایک دوسرے کی طرف کھچتے ہیں غم کے لمحے منافقت کے سائے میں بسر نہیں ہوتے ان سے حقیقی تعلقات کا پتہ چلتا ہے۔

سیدہ فاطمہؓ کی وفات پر شریک ِغسل:

سیدہ فاطمہؓ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپؓ کو فکر تھی کہ آپؓ کا جنازہ کہیں بلا پردہ نہ اٹھایا جائے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی اہلیہ اسماء بنتِ عمیسؓ آپؓ کی تیمار دار تھیں آپؓ نے سیدہ فاطمہؓ کو تسلی دی اور بتایا کہ میں نے حبشہ میں باپردہ چار پائی کا طریق دیکھا ہے اور سیدہ فاطمہؓ کے سامنے چارپائی پر چھپر کھٹ بنا کر دکھایا آپؓ اس پر خوش ہوںٔیں یہ آخر تبسم تھا جو خواتین نے خاتونِ جنت کے چہرہ پر دیکھا اور یہ فضیلت خلیفہ وقت سیدنا ابوبکرؓ کی اہلیہ کو ملی آپ کا یہ جنازہ پھر اسی طرح رات کی تاریکی میں اٹھایا گیا اور رات کو ہی آپؓ کو دفن بھی کردیا گیا۔

 سیدہ فاطمہؓ کے غسل میں دو عورتیں شریک تھیں ایک خلیفہ وقت سیدنا ابوبکرؓ کی بیوی اور دوسری سلمٰی جو حضورﷺ کے غلام ابو رافع کی بیوی تھی سیدنا علیؓ ان کی مدد کرنے والے تھے اہلِ سنت تذکرہ نگاروں نے بی بی سلمٰی کے تذکرہ میں اس غسلِ سیدہ فاطمہؓ کا ذکر بھی کیا ہے۔ 

(دیکھیٔے الاستیعاب لابنِ عبد البر جلد4 صفحہ 322 اسد الغابہ جلد 5 صفحہ 478)۔

 یاد رہے کہ شیعہ علماء نے بھی اس واقعہ غسل کا اعتراف کیا ہے۔ 

(کشف الغمہ 2 صفحہ 61 طبع جدید)۔

سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا علیؓ امام اور مقتدی کے کردار میں:

آئیے ان دونوں حضرات کو اب امام اور مقتدی کے کردار میں دیکھیں سیدنا علیؓ کس طرح سیدنا ابوبکرؓ کی امامت کو تسلیم کرتے تھے۔

امام اور مقتدی میں جو جذبہ عقیدت اور رشتہ مودّت قائم ہوتا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا علی المرتضیٰؓ میں یہ مودّت بھی قائم تھی سیدنا ابوبکرؓ خلیفہ ہوئے تو سیدنا علیؓ پانچ وقت کی نماز سیدنا ابوبکرؓ کی امامت میں پڑھتے تھے باہمی بات چیت بھی ہوتی اور آپ کبھی سیدنا علیؓ سے سیدہ فاطمہؓ کی بیمار پرسی بھی کرلیتے سیدنا علیؓ کے شاگرد سلیم بن قیس السلالی کی کتاب نجف اشرف میں چھپ چکی ہے اسمیں ہے:

وكان علىؓ يصلى في المسجد الصلوات الخمس فلما صلى قال له ابوبكرؓ وعمرؓ كيف بنتِ رسول اللهﷺ إلى ان ثقلت فساً لا عنها۔ 

(کتاب سلیم بن قیس صفحہ 223-225 مطبع حیدریہ نجف اشرف)۔

ترجمہ: سیدنا علیؓ پانچوں وقت کی نماز مسجد نبوی میں پڑھتے تھے آپؓ جب فارغ ہوتے تو سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ آپؓ سے سیدہ فاطمہؓ کا حال دریافت کرتے یہاں تک کہ آپؓ میں اٹھنے کی ہمت نہ رہی پھر بھی وہ آپؓ کے بارے میں پوچھتے رہے۔

اس وقت کے معاشرے میں اس تصور کو راہ نہیں ملتی کہ آپؓ نماز پنجگانہ جماعت سے نہ پڑھتے ہوں اور مسجد میں بھی آتے ہوں حافظ ابنِ کثیر لکھتے ہیں:

وهذا حق فان علىؓ بن ابى طالب لم يفارق الصديق في وقت من الاوقات ولم ينقطع في صلوة من الصلوات خلفه۔

(البدایہ جلد 5 صفحہ 249)۔

ترجمہ: اور یہ حق ہے بیشک سیدنا علیؓ نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو کسی وقت بھی نہیں چھوڑا اور آپؓ نے آپؓ کے پیچھے نمازوں میں کبھی علیحدگی اختیار نہ کی۔

ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: آپ کے ساتھ نمازوں میں آپ کی موجودگی آثار میں موجود تھے۔ 

الآثار من شهوده معه الصلوات۔ 

(البدایہ جلد6 صفحہ302)۔

صفحہ 2 از 10