سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے…

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے باہمی تعلقات

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 10

احمد بن علی طبرسی کتاب الاحتجاج میں آپؓ کی نماز کا نقشہ یوں بیان کرتا ہے۔

قام وتهيا للصلوة وحضر المسجد وصلى خلف ابى بكرؓ۔ (كتاب الاحتجاج صفحہ53)۔

ترجمہ: آپؓ کھڑے ہوئے نماز کا ارادہ کیا مسجد میں آئے اور سیدنا ابوبکرؓ کے پیچھے نماز پڑھی تفسیر علی بن ابراہیم القمی 307ھ میں کسی یہودی صفت شخص نے لفظ صلّی (اس نے نماز پڑھی) کو لفظ وَقَفَ (وہ کھڑا ہوا) سے بدل دیا ہے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ سیدنا علیؓ سیدنا ابوبکرؓ کے پیچھے صرف کھڑے ہوئے تھے مقتدی نہ ہوئے تھے جماعت سے نماز نہ پڑھتے تھے نماز اپنی پڑھتے تھے استغفر اللہ العظیم سیدنا علیؓ کے عمل کو نفاق میں رنگنے کی یہ حرکت کسی مسلمان کی نہیں ہو سکتی تفسیر قمی کے الفاظ ملاحظہ ہوں: کس دیدہ دلیری سے سیدنا علیؓ کی غلط تصویر اتاری گئی ہے ثم قام وتهياً للصلوة وحضر المسجد و وقف خلف ابی بكرؓ وصلى لنفسه۔

ترجمہ: پھر آپؓ اٹھے نماز کا ارادہ کیا اور مسجد میں چلے آئے سیدنا ابوبکرؓ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور نماز اپنی ہی پڑھی۔ 

(تفسیر قمی صفحہ 295 طبع قدیم)۔

یہاں آخر میں صلی لنفسہ کے الفاظ بھی بڑھا دیںٔے ہیں جو کتاب الاحتجاج میں نہیں تھے اور یہ اضافہ لفظ صلی کو وقف سے بدلنے کی تائید میں وضع کیا گیا ہے۔

اس عبارت کا لفظ لفظ بتلا رہا ہے کہ عبارت کس طرح بدلی گئی ہے سیدنا علی المرتضیٰؓ کے عمل کو کسی طرح منافقانہ نہیں کہا جا سکتا آپؓ کا سیدنا ابوبکرؓ کی اقتداء کرنا امر مسلم ہے جسکا انکار نہیں کیا جاسکتا بشیخ الطاںٔفہ محمد بن حسن طوسی 460 نے سید مرتضیٰ علی العہدی 436ھ کی کتاب الشافی کی تلخیص کی ہے اسمیں سید مرتضیٰ لکھتا ہے۔

وان ادعى صلوة مظهر اللاقتداء فذلك مسلم لانه الظاهر

ترجمہ: اور اگر ایسی نماز کا اس نے دعویٰ کیا ہے جو آپؓ کے مقتدی ہونے کو ظاہر کرے تو یہ بات تسلیم شدہ ہے کیونکہ ظاہر یہی ہے۔ 

(التلخيص الشافی صفحہ 354)

شیعہ متاخرین بلا انکار تسلیم کرتے ہیں سیدنا علیؓ سیدنا ابوبکرؓ کے پیچھے نماز پڑھتے رہے انکا خاتم المحدثین ملا باقر مجلسی لکھتا ہے:

حضر المسجد وصلی خلف ابي بكرؓ۔

 (مراة العقول صفحہ 388)۔

ترجمہ: پھر وہ اٹھے اور نماز کے قصد سے وضو فرما کر مسجد میں تشریف لاںٔے اور سیدنا ابوبکرؓ کے پیچھے نماز میں کھڑے ہوگئے۔

پھر ملا مقبول امامی بھی لکھتا ہے:

پھر وہ اٹھے اور نماز کے قصد سے وضو فرما کر مسجد میں تشریف لائے اور سیدنا ابوبکرؓ کے پیچھے نماز میں کھڑے ہوگئے۔ 

(ترجمہ ملا مقبول صفحہ 415)

سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت کی:

ابنِ شہاب زہری (124ھ) کہتے ہیں سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت وفاتِ نبوی کے فوراً بعد نہ کی تھی چھ ماہ بعد کی تھی امام زہری نے وہ دور نہیں پایا جس کی وہ بات کر رہے ہیں انہیں کس نے اس بات کی خبر دی وہ اس کا نام نہیں لیتے تاہم اس روایت سے اتنا پتہ ضرور ملتا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ کی بیعتِ خلافت کے لیے آپؓ پر کوئی جبر نہ کیا گیا تھا اگر ایسا ہوتا تو سیدنا علیؓ کی بیعت چھ ماہ بعد نہ ہوتی فوراً ہو جاتی سیدنا علیؓ نمازیں تو پہلے دن سے ہی سیدنا ابوبکرؓ کے پیچھے پڑھتے تھے کیا یہ ان کی امامت کا اقرار نہ تھا؟ رہی یہ بیعتِ خلافت تو اس میں یہ چھ ماہ کی تاخیر بتلا رہی ہے کہ یہ بیعت طوع و رضا سے تھی جبر و اکراہ سے نہ تھی اور نہ سیدنا علیؓ کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے کہ وہ جبر سے غلط بیعت کر سکتے تھے۔

روایت تاخیرِ بیعت کی تحقیق:

یہ چھ ماہ بعد بیعت کرنے کی روایت صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 209 میں عقیل بن خالد عن ابنِ شہاب سے منقول ہے اصل حدیث کی راویہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ ہیں یہ ساری روایت سیدہ عائشہؓ کی ہی ہے یا اس میں اس کے راوی ابنِ شہاب کا اپنا ادراج بھی ہے اس کے لیے سنن کبریٰ امام بیہقی جلد 6 صفحہ 300 پر معمر عن ابنِ شہاب کی یہ روایت دیکھیے:

قال معمر قلت للزہری کم مکثت فاطمۃؓ بعد النبیﷺ قال ستۃ اشہر فقال رجل للزھری فلم یبایعہ علی حتیٰ ماتت فاطمۃؓ قال ولا احد من بنی ھاشم۔ 

مسند ابی عوانہ جلد4 صفحہ146 میں بھی اسے ابنِ شہاب کے جواب کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔  

امام بیہقی لکھتے ہیں:

وقول الزھری فی قعود علیؓ من بیعۃ ابی بکرؓ حتیٰ توفیت فاطمۃؓ منقطع۔

(سنن کبریٰ جلد6 صفحہ30)۔

ترجمہ: اور زہری کا یہ قول ہے کہ سیدنا علیؓ سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت کے لیے (چھ ماہ تک) بیٹھے رہے یہاں تک کہ سیدہ فاطمہؓ فوت ہوگئیں سند کی رو سے منقطع ہے۔

اور پھر ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں:

والذی روی ان علیاؓ لم یبایع ابابکرؓ ستۃ اشھر لیس من قول عائشۃؓ انما ھو من قول الزھری فادرجہ بعض الرواۃ فی الحدیث عن عائشۃؓ فی قصۃ فاطمۃؓ و حفظہ معمر بن راشد فرواہ مفصلاً و جعلہ من قول الزھری منقطعا۔ (الاعتقاد علی مذھب السلف صفحہ180 مصر)۔

ترجمہ: اور یہ بات جو روایت کی گئی ہے کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت چھ ماہ تک نہ کی تھی سیدہ عائشہؓ کی کہی بات نہیں ہے یہ زہری کا قول ہے جو بعض راویوں نے سیدہ عائشہؓ کی روایت میں داخل کردیا ہے معمر بن راشد نے اسے یاد رکھا ہے اور اسے تفصیلاً روایت کیا ہے اور اس (چھ ماہ کی تاخیر) کو روایت سے ہٹ کر زہری کی بات کہا ہے۔

حافظ ابنِ حجر عسقلانی اور علامہ شہاب الدین قسطلانی نے بھی امام بیہقی کی اس تحقیق کو قبول کیا ہے۔

وقد صح ابن حبان وغیرہ من حدیث ابی سعید الخدری وغیرہ ان علیا بایع ابابکرؓ فی اول الامر واماما وقع فی مسلم عن الزھری ان رجلا قال له لم یبایع علیؓ ابابکرؓ حتیٰ ماتت فاطمۃؓ قال لا ولا احد من بنی ھاشم فقد ضعفہ البیہقی بان الزھری لم یسندہ وان الروایۃ الموصولۃ اصح۔ (فتح الباری جلد 7 صفحہ 399 ارشاد الساری جلد 4 صفحہ 158)۔ 

صفحہ 3 از 10