سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے…

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے باہمی تعلقات

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 10

ترجمہ: اور ابنِ حبان اور دوسرے محدثین نے سیدنا ابو سعید خدریؓ کی روایت کو کہ سیدنا علیؓ نے اولاً ہی سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت کر لی تھی صحیح قرار دیا ہے اور مسلم کی روایت میں جو زہری کی بات ہے کہ ایک شخص نے اسے کہا کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کی اس وقت تک بیعت نہیں کی جب تک سیدہ فاطمہؓ فوت نہ ہوگئیں اور زہری نے کہا "اور نہ کسی اور ہاشمی نے بیعت کی" سو اسے امام بیہقی نے ضعیف قرار دیا ہے کہ زھری نے اسکی کوئی سند پیش نہیں کی اور جو روایت موصول ہے وہی صحیح ہے۔ 

حافظ ابنِ کثیر (774ھ) لکھتے ہیں:

قد اتفق الصحابۃؓ علی بیعۃ الصدیقؓ فی ذلک الوقت حتیٰ علیؓ بن ابی طالب والزبیرؓ۔ 

( البدایہ والنہایہ جلد5 صفحہ249)۔

ترجمہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اسی وقت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت پر اتفاق ہو گیا تھا سیدنا علیؓ اور سیدنا زبیرؓ نے بھی اسی وقت بیعت کرلی تھی۔

 روایت ابی سعید الخدریؓ:

جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو سقیفہ بنی ساعدہ میں خلیفہ نامزد کرلیا گیا اور آپؓ مسجد نبوی میں تشریف لائے اور وہاں بیعت عام ہوئی تو سب مہاجرین و انصار نے آپؓ کی بیعت کی آپ منبر پر تشریف لائے آپؓ نے دیکھا کہ سیدنا زبیرؓ نہیں ہیں آپؓ نے انہیں بلایا اور فرمایا: 

ابن عمۃ رسول اللهﷺ و حواریہ فقام اردت ان تشق عصا المسلمین؟ قال لا تثریب یا خلیفۃ رسول اللهﷺ فقام وبایعہ۔

(سنن کبریٰ جلد8 صفحہ143)۔

ترجمہ: اے حضورﷺ کے پھوپھی زاد بھائی اور آپؓ کے حواری تم چاہتے ہو کہ مسلمانوں کی یکجا طاقت میں رخنہ ڈالو؟ سیدنا زبیرؓ نے کہا نہیں اے خلیفہ رسولِ خدا کوئی عذر نہیں آپؓ اٹھے اور بیعت کرلی اسی طرح آپؓ نے سیدنا علیؓ کو بلایا اور اسی طرح بات چیت ہوئی اور پھر سیدنا علیؓ نے بھی آپؓ کی بیعت کرلی۔

یہ روایت وہیب نے داؤد بن ابی ہند سے انہوں نے ابو نضرہ سے انہوں نے سیدنا سعیدؓ سے نقل کی ہے ابو نضرہ سے اسے حریری نے بھی روایت کیا ہے حریری سے علی بن عاصم نے ان سے سیدنا سعید بن المسیبؓ کے صاحبزادے قاسم نے اسے نقل کیا ہے۔ 

(کنز العمال جلد3 صفحہ137)۔

حافظ ابنِ کثیر لکھتے ہیں:

ھذا اسناد صحیح محفوظ من حدیث ابی نضرۃ وفیہ فائدۃ جلیلۃ وھی مبایعۃ علیؓ بن ابی طالب اما فی اول الیوم او فی الیوم الثانی من الوفاۃ وھذا حق فان علیؓ ابن طالب لم یفارق الصدیق فی وقت من الاوقات ولم ینقطع فی صلوۃ من الصلوات خلفہ۔

(البدایہ والنہایہ جلد5 صفحہ349)۔

ترجمہ: یہ سند صحیح ہے اور ابو نضرہ (جو اسے ابو سعید سے لیتے ہیں) سے پوری طرح محفوظ ہے اسمیں ایک بڑا افادہ ہے اور وہ سیدنا علیؓ کا وفات کے پہلے یا دوسرے دن (سیدنا ابوبکرؓ کی) بیعت کرنا ہے اور یہ حق ہے سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کو کسی وقت بھی نہیں چھوڑا اور آپکے پیچھے نمازیں پڑھنے میں آپ ایک نماز میں بھی علیحدہ نہیں رہے۔

حاکم نے سیدنا علیؓ اور سیدنا زبیرؓ سے اس موقع پر یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں:

ان ابابکرؓ احق الناس بھا انہ لصاحب الغار وثانی اثنین وانا لنعرف شرفہ وخیرہ ولقد امرہ رسول الله بالصلوۃ بالناس وھو حی۔ 

(مستدرک حاکم جلد3 صفحہ166، البدایہ والنہایہ جلد6 صفحہ302)۔

ترجمہ: سیدنا ابوبکرؓ بلاشبہ خلافت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں آپ حضورﷺ کے غار کے ساتھی ہیں آپؓ ثانی اثنین ہیں اور ہم آپ کے شرف کو اور آپؓ کے خیر ہونے کو جانتے ہیں بیشک آپؓ کو حضورﷺ نے اپنے حین حیات نماز کی امامت کا حکم دیا تھا۔

اسکی سند جید ہے اور یہ الفاظ سیدنا علیؓ کی شان کے عین مناسب ہیں ابنِ ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں بھی یہ الفاظ نقل کیے ہیں:

انا لنری ابابکرؓ احق الناس بھا لصاحب الغار وانا لنعرف سنہ وامرہ رسول اللهﷺ بالصلوۃ وھو حی۔

(شرح نہج البلاغہ جلد 1 صفحہ 54 تقطیع کلاں)۔

آپ کے اس بیان میں سیدنا ابوبکرؓ کی بزرگی عمر کا ایک کھلا اعتراف ہے سیدنا علیؓ جن کی عمر اس وقت 27 سال کے قریب تھی اس نبی کی خلافت کا کیسے تصور کر سکتے تھے جو اس ذمہ داری پر چالیس سال کی عمر میں آیا تھا۔

بعض علماء نے نقل کیا ہے کہ سیدنا علیؓ نے اس لیے بیعت میں تاخیر کی کہ آپؓ پہلے قرآن کریم یاد کرنا چاہتے تھے یہ بات خلاف عقل ہے بیعت کا تعلق نظم سلطنت سے ہے قرآنِ کریم یاد کرنا ایک علمی خدمت ہے ان میں کوئی تعارض نہیں ان جیسے مدبر انسان سے اس بات کی توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ایسی کمزور بات کہے اور بیعت اور جمعِ قرآن میں تعارف ثابت کرے۔

ثانیاً: یہ روایت سنداً منقطع ہے سیدنا علیؓ تک متصلاً نہیں پہنچی علامہ جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں:

قال ابنِ حجر ھذا الاثر ضعیف لانقطاعہ۔ 

(اتقان جلد1 صفحہ57)۔ 

ترجمہ: ابنِ حجر کہتا ہے یہ اثر ضعیف ہے کیونکہ سیدنا علیؓ تک نہیں پہنچتا اس میں انقطاع ہے۔

سیدنا علیؓ خود فرماتے ہیں:

فلما قبض رسول اللہﷺ نظر المسلمون فی امرھم فانا رسول اللہﷺ قد ولی ابابکرؓ امر دینھم فولوہ امر دیناھم فبایعہ المسلمون وبایعتہ وکنت اغزو اذا اغزانی واٰخذ اذا اعطانی وکنت سوطا بین یدیہ فی اقامۃ الحدود۔ (کنزالعمال جلد6 صفحہ82 طبع قدیم)۔

ترجمہ: جب حضورﷺ کی وفات ہوئی مسلمانوں نے اپنے نظم حکومت میں فکر کی کیا پاتے ہیں کہ حضورﷺ نے ان کے دینی کام کی ولایت سیدنا ابوبکرؓ کو دی ہے سو انہوں نے اپنے دنیوی کام کی ولایت بھی انہیں ہی سونپ دی سو سب مسلمانوں نے آپؓ کی بیعت کی اور میں نے بھی کی جب آپؓ مجھے کسی معرکے میں بھیجتے میں جاتا رہا اور جو کچھ مجھے دیتے میں لیتا رہا میں آپ کے ہاتھ میں ایک کوڑے کی طرح تھا جو اقامت حدود کی ذمہ داری ادا کر رہا ہو۔ 

آپؓ کا سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت کرنا اتنا واضح اور روشن ہے کہ شیعہ علماء کیا قدماء کیا متاخرین کوئی اس کا انکار نہ کرسکے انہوں نے اگرچہ اسے تقیہ پر محمول کیا تاہم اقرار بیعت سے انہیں کبھی انکار نہیں رہا دینی بات میں تقیہ ہو اور وہ مأمور من اللہ کرے یہ بات تسلیم کرنا بہت مشکل ہے۔

محمد بن یعقوب کلینی (329ھ) لکھتا ہے: 

كتم علىؓ امره فبايع مكرھا حيث لم يجد اعوانا۔ 

(فروع کافی جلد3 صفحہ129 لکھنؤ)۔

اور سیدنا باقرؒ سے نقل کرتا ہے:

وابوا ان يبايعوا حتىٰ جاؤوا بامير المؤمنين مكرها فبايع۔

(فروع کافی جلد3 صفحہ115)۔

صفحہ 4 از 10