سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے…

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے باہمی تعلقات

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 5 از 10

امامیہ کا علم الہدی شریف مرتضیٰ (436ھ) لکھتا ہے:

 فالظاهر الذى لا اشكال فيه انه عليه السلام بايع مستدفعاً للشر و فرارا من الفتنة۔

(کتاب الشافی صفحہ 209 طبع قدیم)۔

سو یہ چیز بالکل ظاہر ہے جس میں کوئی اشکال نہیں کہ سیدنا علیؓ نے شر کے دفعیہ کے لیے اور فتنے سے بچنے کے لیے سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت کی۔

کتاب الشافی کی ابو جعفر محمد بن حسن الطوسی (460ھ) نے تلخیص کی ہے اس میں محمد بن حسن طوسی لکھتا ہے:

 ثم مد یده فبايعه۔ ثم مد یده فبايعه۔

(تلخیص الشافی صفحہ 398۔399)۔

پھر آپؓ نے اپنا ہاتھ آگے کیا اور آپ کی بیعت کی۔ 

محمد بن حسن طوسی کی امالی میں سیدنا علیؓ کے یہ الفاظ پڑھیے:

فبايعت ابابكرؓ كما بايعتموه وكرهت ان اشق عصا المسلمين وان افرق جماعتهم ثم ان ابابكرؓ جعلها لعمرؓ من بعده وانتم تعلمون انی اوی الناس برسول اللهﷺ و بالناس من بعده فبايعت عمرؓ كما بايعتموه فوفيت له ببيعته حتىٰ لما قتل جعلنی سادس ستة فدخلت حيث ادخلنی۔ 

(کتاب الامالی جلد2 صفحہ12)۔

 ترجمہ: سو میں نے سیدنا ابوبکرؓ کی اسی طرح بیعت کی جس طرح تم نے کی تھی اور میں نے ناپسند کیا کہ مسلمانوں کی جمعیت میں تفرقہ ڈالوں اور ان کے اتفاق کو ٹکڑے ٹکڑے کروں پھر سیدنا ابوبکرؓ نے اپنے بعد اسے سیدنا عمرؓ کو دے دیا اور تم جانتے ہو کہ میں تمام لوگوں میں سے حضورﷺ کے زیادہ قریب تھا اور جو آپﷺ کے بعد آئے ان کے بھی میں زیادہ قریب تھا پھر میں نے بھی سیدنا عمرؓ کی بیعت کی جس طرح تم نے کی یہاں تک کہ میں نے ان کی بیعت کا پورا حق ادا کیا پھر جب آپؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا آپؓ نے مجھے چھ کی شوری میں رکھا جہاں بھی آپؓ نے مجھے داخل کیا میں داخل ہوا۔

شیخ ابو منصور احمد بن على الطبرسی امامی لکھتا ہے سیدنا اسامہ بن زیدؓ مدینہ واپس آئے تو آپؓ نے لوگوں کو سیدنا ابوبکرؓ کے گرد اژدہام کیے ہوئے پایا آپ نے سیدنا علیؓ کو بھی وہاں دیکھا اور ان سے پوچھا کیا ہورہا ہے آپ نے کہا تم دیکھ ہی رہے ہو سیدنا اسامہؓ نے پھر آپؓ سے پوچھا: فهل بایعته۔

(کتاب الامالی جلد 2 صفحہ 121)۔

 کیا آپؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت کرلی ہے؟ آپؓ نے فرمایا نعم (ہاں) کرلی ہے۔

شریف رضی (404ھ) نے سیدنا علیؓ سے آپؓ کا یہ خطبہ نقل کیا ہے:

فنظرت فی امری فاذا طاعتی سبقت بيعتى واذا الميثاق فی عنقى لغيری۔ 

(کتاب الاحتجاج صفحہ50)۔

 ترجمہ: سو میں نے اپنے معاملہ میں غور کیا او میرا ماتحت رہنا میرے امیر ہونے پر سبقت لے گیا اور میری گردن میں دوسرے کی اطاعت کا میثاق لٹکا تھا۔

اثناء عشری شیعہ اسے تقیہ کی بعیت کہتے ہیں لیکن یہ صحیح نہیں ورنہ میثاق کے کیا معنیٰ؟ آپ سے یہ میثاق کس نے لیا تھا؟ اگر حضور خود انہیں یہ تاکید کر گئے تھے تو پھر اختلاف کیا رہا اور بیعت دل سے نہ ہو تو بھی بیعت ہی ہوتی ہے اور شرعاً امیرِ بیعت کی تمام ذمہ داریاں لازم آتی ہیں سیدنا علیؓ سے ان کے عہدِ خلافت میں کہا گیا کہ سیدنا زبیرؓ نے آپؓ کی بیعت دل سے نہیں کی اس پر سیدنا علیؓ نے یہی اصول بیان کیا کہ بیعت دل سے نہ ہو تو بھی اس پر بیعت کی تمام ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں آپ نے فرمایا:

 يزعم انه قد بايع بيده ولم يبايع بقلبه فقد اقر بالبيعة وادعى الوليجة فليات عليها بامر يعرف والا فليدخل فيما خرج منه۔

(شرح نہج البلاغہ جلد 1 صفحہ 89)۔

ترجمہ: وہ خیال کرتا ہے کہ اس نے بیعت صرف ہاتھ سے کی دل سے نہیں کی تو یہ بھی تو بیعت کا اقرار ہی ہے اس نے اب اس ولیجہ کا دعویٰ کیا ہے اسے پھر اس کا اسی طرح پابند ہونا چاہئے جو طریق معروف ہو وگرنہ جس عہد سے نکلا ہے اسمیں پھر آجائے۔

معلوم ہوا بیعت بیعت ہے گو دل برداشتہ ہو یہی وجہ ہے کہ بتسیریہ فرقہ کے شیعہ اثناء عشری شیعوں سے اس بات پر متفق نہ ہو سکے کہ سیدنا علیؓ کی سیدنا ابوبکرؓ بیعت بیعتِ مکرہ تھی اور یہ بات کسی طرح سیدنا علیؓ کی شان کے لائق نہیں کہ ان کے اس عوامی عمل کو بیعت مکرہ کہا جائے تیسری صدی کے شیعہ عالم ابو محمد الحسن النوبختی کی کتاب فرق شیعہ (شیعوں کے مختلف فرقوں کے بیان میں) نجف اشرف میں چھپی ہے اس میں ان کے بتسیریہ فرقے کا موقف اس طرح لکھا ہے: 

ان علياؓ لهما الأمر ورضى بذلك وبايعهما طائعا غیر مكره وترك حمد لهما فنحن راضون كما رضى الله المسلمين له ولمن بايع لا يحل لنا غير ذلك ولا يسع منا احدا الا ذلك فان ولاية ابی بكرؓ صارت رشداً وهدى تسليم على ورضاه۔ (فرق الشیعہ صفحہ42 طبع نجف اشرف)۔

 ترجمہ: بیشک سیدنا علیؓ نے خلافتِ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے سپرد کر دی اور اس پر راضی رہے ان دونوں کی بیعت کی اور دل سے کی کسی مجبوری سے نہ کی اور آپؓ اپنے حق سے ان دونوں کے حق میں دست بردار ہوگئے سو ہم بھی راضی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے مسلمانوں کو اس سے اور تمام بیعت کرنے والوں سے راضی رکھا۔ 

ہمارے لیے اس کے سوا کچھ کہنا حلال نہیں اور ہم میں سے کسی کے بس میں اس سے زیادہ نہیں بلاشبہ سیدنا ابوبکرؓ کی سلطنت رشد و ہدایت تھی کیونکہ سیدنا علیؓ نے اسے تسلیم کیا اور اس پر راضی رہے۔

یہ حقیقت ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے عہدِ خلافت میں قدم قدم پر ان کے ساتھ تھے اور آنحضرتﷺ کے مشن اور پروگرام کی تکمیل میں ہر دو کی پرواز پروانہ وار تھی بات بات پر دونوں جمع ہوتے اور اپنے آقا کے ہر وعدے اور ارشاد کے گرد وفا کا پہرہ دیتے تھے۔

آنحضرتﷺ کی نصیحت اپنے ملنے والوں کو تھی کہ آئندہ مجھے نہ پاؤ تو تم سیدنا ابوبکرؓ کے پاس آنا (وہ میری نیابت میں تمہاری بات سنیں گے) ایک عورت آپﷺ کے پاس ایک معاملہ لے کر آئی آپﷺ نے فرمایا:

ان لم تجدينی فلاتی ابابکرؓ۔ 

(صحیح بخاری جلد1 صفحہ516)۔

تو آئے اور مجھے نہ پائے تو سیدنا ابوبکرؓ کے پاس چلی آنا۔ 

اس میں حضورﷺ نے بتلا دیا کہ میری نیابت اور خلافت سیدنا ابوبکرؓ کے پاس آئے گی اور اللہ اور مسلمان انہی کو میرا جانشین چنیں گے۔ 

(صحیح مسلم جلد2 صفحہ273)۔

صفحہ 5 از 10