سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے…

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے باہمی تعلقات

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 6 از 10

جشی بن حبادہ کہتے ہیں میں سیدنا ابوبکرؓ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص آیا اس نے کہا کہ حضورﷺ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپﷺ مجھے تین دفعہ ہاتھ بھر کر کجھوریں دیں گے مگر آپﷺ کی وفات ہوگئی اس نے یہ صورتِ حال سیدنا ابوبکرؓ کے سامنے رکھی کہ اب اس وعدے کو کون پورا کرے گا آپؓ نے سیدنا علیؓ کو بلایا اور فرمایا:

اے ابا الحسنؓ یہ شخص کہتا ہے کہ حضورﷺ نے اس سے تین مشت کھجوروں کا وعدہ فرمایا تھا آپؓ اسے تین دفعہ دونوں ہاتھ بھر کر کجھوریں دیں۔

سیدنا علیؓ نے اس حکم کی تعمیل کی اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی پیش کردہ کھجوروں سے اسے تین دفعہ ہاتھ بھر کر کجھوریں دیں جب آپؓ تعمیل حکم کر چکے تو آپؓ نے سیدنا علیؓ سے کہا اب ان کھجوروں کو جو اپنے اسے دی ہیں شمار کریں ہر بار کی کھجوریں ساٹھ عدد نکلیں سیدنا ابوبکرؓ نے اس پر فرمایا:

صدق رسول اللهﷺ سمعته ليلة الهجرة ونحن خارجون من مكه الى المدينة يقول يا أبابكرؓ كفى وكف علىؓ فی العدالة سواء۔ 

(کتاب الامالی جلد 1 صفحہ67)۔

ترجمہ: حضورﷺ نے سچ فرمایا مں نے آپؓ کو ہجرت کی رات جب کہ ہم مکہ سے مدینہ کی طرف جا رہے تھے کہتے سنا ہے اے سیدنا ابوبکرؓ میری اور سیدنا علیؓ کی ہتھیلی کے پیمانے برابر ہیں۔

غور کیجئے اس خلافت میں کس طرح یہ دونوں حضرات آپس میں شیر و شکر تھے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کسی طرح حضورﷺ کے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے پابند تھے اور کس طرح لوگ آپ کو جانشینِ رسول سمجھ کر آپ کے پاس آتے تھے اور آپ بھی کس فرطِ عقیدت سے حضورﷺ کی طرف سے لی گئی ان ذمہ داریوں کو پورا کرتے تھے سیدنا علیؓ کی مٹھی سے دلوانا بتلاتا ہے کہ آپؓ کس طرح قدم قدم پر آپ سے موافق ہونے کی تمنا رکھتے آپؓ نے اس شخص کو اتنی ہی کجھوریں دیں کہ اگر حضورﷺ بھی دیتے تو گنتی یہی ہوتی غور کیجیئے آپؓ نے کس طرح حضورﷺ کی مٹھی کا پیمانہ بھی اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا اور سیدنا علیؓ کو ساتھ لے کر چلنے میں آپؓ کسی طرح حضورﷺ سے وفاداری کی لذت محسوس کرتے تھے۔

خلافتِ صدیقی میں سیدنا علیؓ کی مالی امداد:

الحمدللہ سیدنا علیؓ کے سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت کرنے سے وہ بادل چھٹ گئے جو انتشار پسندوں نے سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا علیؓ کے مابین اٹھا رکھے ہیں اور یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ سیدنا علیؓ کی یہ بیعت دل سے تھی منافقانہ نہ تھی اس کی تائید ان واقعات سے ہوتی ہے جن میں سیدنا علیؓ کا خلیفہ اول سے مالی امداد قبول کرنا آستانہ خلافت پر دلی حاضری ہے۔

آنحضرتﷺ کے عہد میں سیدہ فاطمہؓ اور انکی اولاد کا گزارہ الاؤنس فدک کی آمدنی سے آتا تھا سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں فدک کی وہی آئینی پوزیشن قائم رکھی جو حضورﷺ کے عہد میں تھی کہ اس کی آمدنی سیدہ فاطمہؓ کے ہاں پہنچتی رہے یہ اس لیے کہ آپؓ (سیدنا ابوبکرؓ) حضورﷺ کے اختیار کردہ طریقے سے تجاوز نہ کرنا چاہتے تھے سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ کا فدک کی مالی امداد کو قبول کرنا بتلاتا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا علیؓ کے مابین ہرگز کوئی مناقشہ یا ناراضگی نہ تھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اس سلسلہ میں اپنی مالی پالیسی کی اس طرح وضاحت فرمائی۔

انما ياكل ال محمد فی هذا المال الى والله لا اغير شياء من صدقه رسول اللهﷺ من حالها التی كانت عليه فی عهد رسول اللهﷺ ولا عملن فی ذلك بما عمل فيها رسول اللهﷺ۔ 

(طحاوی شریف جلد 1 صفحہ 298 باب الصدقہ علی بنی ہاشم)۔

ترجمہ: بیشک حضورﷺ کی اولاد اسی سے اپنی خوراک پائے گی بخدا میں صدقات رسولﷺ کو اس حال سے جس میں وہ حضورﷺ کے وقت میں تھے کسی چیز کو اس کے مقام سے نہ بدلوں گا اور اس میں میرا عمل وہی رہے گا جو ان کے بارے میں حضورﷺ کا تھا۔

صحیح بخاری کے الفاظ بھی ملاحظہ کیجئے:

انما ياكل آل محمد فی هذا المال والله لقرابة رسول اللهﷺ احب الی ان أصل من قرابتی۔ 

(صحیح بخاری جلد1 صفحہ576)۔

ترجمہ: بیشک حضورﷺ کی اولاد اسی سے کھائے گی بخدا مجھے حضورﷺ کے اقرباء اپنے اقرباء سے زیادہ عزیز ہیں کہ میں انہیں اپنے سے ملا رکھوں خیال کیجئے آپ نے یہ الفاظ محض سطحی طور پر نہیں کہے قسم کھا کر کہتے ہیں فرماتے ہیں:

والذی نفسی بيده القرابة رسول اللهﷺ احب الى ان اصل من قرابتی۔ 

(صحیح بخاری جلد1 صفحہ526)۔

خلافتِ صدیقی میں اقرباء رسول کے منصرم امور کون تھے:

یہ بات اہلِ علم سے مخفی نہیں کہ آنحضرتﷺ کے قریب رشتہ داروں کا مال خمس میں حصہ ہوتا تھا سیدنا عباسؓ اور سیدنا علیؓ دونوں بنی ہاشم میں سے تھے اور دونوں اقرباء رسول میں سے تھے ان دونوں کے اپنے اپنے گھر تھے اور دونوں کی اپنی اولاد تھی سیدنا زید بن حارثہؓ کو بھی حضورﷺ نے بیٹا بنا رکھا تھا سیدنا عباسؓ آپ کے سب سے زیادہ قریبی تھے لیکن سیدہ فاطمہؓ کے سبب سیدنا علیؓ اپنے آپ کو سب اقرباء رسول میں مقدم سمجھتے تھے اور حضورﷺ کے ان قرابتداروں کو جو خمس ملتا وہ آپ حضورﷺ کے جملہ اقرباء میں تقسیم فرماتے اور یہ سب حضورﷺ کی اجازت سے تھا حضور اکرمﷺ کے بعد سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے بھی آپ کی اس حیثیت کو باقی رکھا اور آپؓ ہی عہدِ صدیقی میں خمس اقرباء رسول میں تقسیم کرتے تھے۔ 

سیدنا علیؓ نے یہ عہدہ حضورﷺ سے مانگ کر لیا تھا:

ایک دن سیدنا علیؓ سیدنا عباسؓ اور سیدنا زیدؓ کو ساتھ لے کر حضورﷺ کے پاس پہنچے اور کہا حضورﷺ اس مال خمس پر آپ مجھے متولی بنا دیں آپ کے سامنے ہی میں اسے بنو ہاشم میں تقسیم کرنے لگ جاؤں آپ کے بعد کوئی مجھ سے اس کے بارے میں اختلاف نہ کر سکے گا یہ معاملہ چونکہ بنو ہاشم کا اپنا اندرونی معاملہ تھا حضورﷺ نے اسے منظور فرمالیا اور سیدنا علیؓ حضورﷺ کے عہد مبارک میں ہی خمس تقسیم کرنے لگے امام ابو یوسفؒ (182ھ) سیدنا علیؓ سے روایت کرتے ہیں

فَقَسَمْتُهُ فی حياتهﷺ ثم ولانيد ابوبكر رضى الله عنه فقسمته في حياته ثم ولانيه عمر فَقَسَمْتُه فی حياته۔

(کتاب الخراج صفحہ 29 مسند احمد صفحہ 85)۔

ترجمہ: سو میں ہی اسے حضورﷺ کے عہد میں تقسیم کرتا رہا پھر سیدنا ابوبکرؓ نے مجھے اموالِ خمس کا متولی بنایا اور میں ہی انہیں آپؓ کی حیات میں تقسیم کرتا رہا پھر سیدنا عمرؓ نے مجھےان اموال کا والی رکھا اور آپؓ کے عہد میں بھی میں ہی انہیں تقسیم کرتا رہا۔

صفحہ 6 از 10