سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے…

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے باہمی تعلقات

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 7 از 10

ہمیں افسوس ہے کہ پھر سیدنا عمرؓ کے دور میں سیدنا علیؓ اور سیدنا عباسؓ ان اموال کی تقسیم اور مصارف میں آپس میں الجھ پڑے اور ان میں سنگین اختلافات پیدا ہو گئے تھے سیدنا عمرؓ نے پھر بھی ان میں دخل دینا پسند نہ کیا آپ یہی چاہتے تھے تھے کہ آپ سے حضور اکرمﷺ کے عہد مبارک سے انحراف نہ ہونے پائے یہ اختلافات چلتے رہے یہاں تک کہ سیدنا علیؓ سیدنا عباسؓ پر غالب آگئے اور سیدنا عباسؓ نے اپنا حق چھوڑ دیا پھر یہ اموال سیدنا علیؓ کے خاندان میں رہے صحیح بخاری میں ہے:

اعرض عنها عباسؓ فكانت هذه الصدقة بيد علىؓ ثم كانت بعد علىؓ بيد حسن بن علیؓ ثم بيد حسين بن علىؓ ثم بيد على بن الحسين وحسن بن حسن كلاهما كانا يته اولانها۔

(صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 576 مسند ابی عوانہ جلد 4 صفحہ 140 سنن کبریٰ بہیقی جلد 6 صفحہ 299)۔

ترجمہ: سیدنا عباسؓ ان سے کنارہ کش ہوگئے اور یہ سب سیدنا علیؓ کے ہاتھ لگے آپؓ کے بعد یہ سیدنا حسنؓ کے ہاتھ میں رہے پھر سیدنا حسینؓ کے ہاتھ میں اور ان کے بعد سیدنا زین العابدینؓ اور سیدنا حسنؓ کے بیٹے سیدنا حسن دونوں کی مشترکہ تولیت میں رہے اور یہ دونوں انہیں وصول کرتے رہے۔

شارح نہج البلاغہ ابنِ ابی الحدید بھی لکھتا ہے:

فغلب على عباساؓ عليها فكانت بيد علىؓ ثم كانت بيد الحسنؓ ثم كانت بيد الحسينؓ ثم بيد على بن الحسين والحسن بن الحسن۔ 

(شرح نہج البلاغہ جلد 4 صفحہ 118)۔

ترجمہ: سیدنا علیؓ سیدنا عباسؓ پر غالب آ گئے اور پھر یہ اموال سیدنا علیؓ کے ہاتھ میں رہے پھر سیدنا حسنؓ کے ہاتھ میں پھر سیدنا حسینؓ کے ہاتھ میں۔

ان مباحث سے یہ بات بالکل کھل جاتی ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ نے ان حضرات اہلِ بیتؓ کے ساتھ کوئی زیادتی نہ کی تھی اموالِ خمس برابر ان کی تولیت میں دیںٔے جاتے رہتے اور یہ حضرات بھی بکمال رضا و رغبت انہیں وصول کرتے رہے ان حضرات میں کچھ بھی کشیدگی ہوتی یا کسی طرف غصب خلافت یا غصب فدک کی گرانی ہوتی تو صورتِ حال اور باہمی معاملات اس طریق پر قائم اور جاری نہ رہتے سیدنا زین العابدینؓ کے بیٹے سیدنا زیدؒ کہتے ہیں:

اما انا فلو كنت مكان ابی بكرؓ لحكمت بمثل ما حكم به ابوبكرؓ فی فدك۔ 

(البدایہ والنہایہ جلد 5 صفحہ 290 سنن کبریٰ جلد 6 صفحہ 302)۔

ترجمہ: میں بھی اگر سیدنا ابوبکرؓ کی جگہ ہوتا تو فدک کے بارے میں وہی فیصلہ کرتا جو سیدنا ابوبکرؓ نے کیا تھا۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ حضرات اہلِ بیتؓ باغِ فدک کی آمدنی برابر وصول کرتے رہے اور صحابہ کرامؓ نے فدک اپنے کسی حق میں ہرگز نہ روک رکھا تھا زمین کی قیمت اس کی آمدنی کی وجہ سے ہوتی ہے اور یہی زمین کی اصل دولت ہے۔

جب فدک کی آمدنی سیدہ فاطمہؓ اور ان کی اولاد پر صرف ہوتی رہی تو یہ بات کتنی بے وزن ہو کر رہ جاتی ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ نے سیدہ فاطمہؓ سے غصب فدک کیا یا یہ کہ وہ ان سے ناراض رہیں معترضین یہ نہیں سوچتے کہ اگر فدک آپؓ سے چھن گیا تھا تو پھر سیدہ فاطمہؓ اور ان کی اولاد کا گزر اوقات آخر کس تنخواہ سے ہوتا رہا ہے ابنِ سیم بحرانی (679ھ) لکھتا ہے۔

وكان ياخذ غلتها فيدفع اليهم منها ما يكفيهم ثم فعلت الخلفاء بعده كذلك۔ 

(شرح نہج البلاغہ جلد 5 صفحہ127 شرح درہ نجفیہ صفحہ 232)۔

ترجمہ: سیدنا ابوبکرؓ فدک کی پیداوار کو ان کی ضرورتوں کے مطابق ان حضرات کی طرف بھیجتے رہے اور آپؓ کے بعد کے خلفاء اسی پر عمل پیرا رہے۔

فیض الاسلام علی نقی بھی لکھتا ہے:

خلاصه ابوبکرؓ غلہ و سود آں گرفتہ و بقدر کفایت باہل بیت علیهم السلام سے داد و خلفاںٔے بعد ازو ہم بر آں اسلوب رفتار نمودند۔ 

(شرح نہج البلاغہ جلد 5 صفحہ 690)۔

ترجمہ: حاصل یہ ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ فدک کی پیداوار اور اس کا نفع وصول کر کے اہلِ بیتؓ کو ان کی ضرورت کے مطابق دیتے اور بعد کے خلفاء بھی اسی طریق پر چلتے رہے۔

سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا یہ فیصلہ اتنا صحیح تھا کہ سیدنا علیؓ جب خلیفہ ہوئے اور انتشار پسندوں نے مسئلہ فدک پھر اٹھانا چاہا تو آپؓ نے فرمایا مجھے حیا آتی ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ کے فیصلہ کو بدلوں علم الہدی سید مرتضیٰ لکھتا ہے:

فلما وصل الامر الى علىؓ بن ابى طالب كلم فی رد فدك فقال انى لاستحى من الله ان ارد شياء منع منها بوبكرؓ و امضاه عمرؓ۔ 

(کتاب الشافی صفحہ 331۔412)۔

ترجمہ: جب خلافتِ سیدنا علیؓ تک پہنچی تو آپؓ سے التماس کی گئی کہ فدک (سیدہ فاطمہؓ کے وارثوں کو) لوٹا دیں آپؓ نے فرمایا مجھے حیا آتی ہے کہ اس چیز کو واپس کروں جو سیدنا ابوبکرؓ نے منع کی اور سیدنا عمرؓ نے بھی اسے ہی باقی رکھا۔

اور لوگ بھی سیدنا ابوبکرؓ کے فیصلے کو اس طرح دل سے قبول کیے ہوںٔے تھے کہ اگر خلیفہ وقت سیدنا علیؓ بھی اس کے خلاف چلتے تو اس قلمرو کے لوگ بھی سیدنا علیؓ کو چھوڑ جاتے جہاں آپؓ کی حکومت تھی آپؓ خود فرماتے ہیں:

ورددت فدك الى ورثة فاطمةؓ ورددت صاع رسول كما كان اذا لتفرقوا عنى۔ 

(روضا الکافی صفحہ 51۔53 لکھنؤ صفحہ 30 تہران)۔

ترجمہ: اور اگر میں فدک سیدہ فاطمہؓ کے وارثوں کو لوٹا دوں اور حضورﷺ کے عہد کے صاع پیمانے کو اس کے اصل حال پر لے آؤں تو یہ لوگ بھی (جو اس وقت میری قلمرو میں ہیں) مجھے چھوڑ جائیں گے۔

حافظ ابنِ عبدالبر لکھتے ہیں:

فكان على يسير فى الفي مسيرة ابى بكر الصديقؓ فی القسم وازا ورد عليه مال لم يبق منه شئى الاقسمه ولا يترك فی بيت المال منه الاما يعجز عن قسمته فی يومه ذلك۔ 

(الاستیعاب جلد 3 صفحہ47 مع الاصابہ)

ترجمہ: سیدنا علیؓ اموالِ فںٔی کی تقسیم میں سیدنا ابوبکرؓ کی سیرت پر ہی چلتے رہے آپؓ کے پاس جب بھی اموال آتے آپ بیت المال میں کچھ نہ رہنے دیتے سب تقسیم کر ڈالتے مگر وہی جو آپ اس دن تقسیم کر سکیں

یہاں تک بات فںٔی و غنائم کے بارے میں تھی اب ذرا آگے چلئے سیدنا علیؓ نے وہ باندیاں بھی قبول کیں جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے بحیثیتِ امیر المؤمنین انہیں دیں یہ آپؓ کے ان کی خلافت کو قبول کرنے اور ان کی جنگوں کو اسلامی جہاد تسلیم کرنے کی ایک کھلی شہادت اور ان حضرات کے باہمی خوشگوار تعلقات کا ایک کھلا نشان ہے

1۔ محدث عبد الرزاق روایت کرتے ہیں:

عن إبی جعفر قال اعطى ابوبكرؓ علياؓ جارية قد خلت ام ايمنؓ علىؓ فاطمةؓ فأیت فيها شياء فكرهته۔ 

صفحہ 7 از 10