سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے…

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے باہمی تعلقات

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 8 از 10

(المصنف 6 صفحہ303)

ترجمہ: سیدنا باقرؒ سے روایت ہے سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا علیؓ کو ایک باندی دی سیدہ ام ایمنؓ سیدہ فاطمہؓ کے پاس آئیں اور انہوں نے آپ میں کچھ بوجھ سا پایا سو آپؓ نے بھی اسے پسند نہ کیا۔

سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے وقت سیدنا خالد بن ولیدؓ نے بنو تغلب پر چڑھائی کی جنگی قیدیوں میں الصهباء نامی ایک باندی تھی سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے یہ سیدنا علیؓ کو دے دی اگر آپ کا جہاد اسلامی جہاد نہ ہو تو الصہبا کا حضرت کی ملک میں آنا اور آپ کا اسے قبول کرنا کبھی اس طرح نہ ہوتا سیدنا علیؓ کا بیٹا عمر اسی باندی سے تھا ابنِ سعد لکھتا ہے:

عمر الأكبر بن على بن ابى طالب واحد الصهبا وهی ام جيب وكانت سبيته اصابها خالد بن الوليد حيث اغار على بن تغلب۔ 

(طبقات ابنِ سعد صفحہ86)۔

ترجمہ: سیدنا علیؓ کے بیٹے عمر اکبر کی والدہ صہبا تھیں اسے ہی ام حبیب کہتے ہیں یہ باندی تھیں جو خالد بن ولید کے ہاتھ لگیں جب آپ نے بنو تغلب پر لشکر کشی کی تھی۔

2۔ خولہ بنتِ جعفر بن قیس المعروف خفیہ سے کون واقف نہیں یہ محمد بن حنفیہ کی ماں ہیں سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے مسیلمہ کذاب کے خلاف جو جنگ کی یہ خولہ اس کے قیدیوں میں آئی تھیں۔ 

(البدایہ7 صفحہ 331 فتوح البلدان صفحہ 117)۔ 

سیدنا ابوبکرؓ نے یہ خادمہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو دی۔

ان ابابكرؓ اعطى علياؓ ام محمد بن حنفیه۔ 

(طبقات ابنِ سعد جلد5 صفحہ66)۔

ترجمہ: سیدنا ابوبکرؓ نے محمد بن حنفیہ کی ماں (خولہ) سیدنا علیؓ کو دی تھیں۔

ابنِ خلکان بھی لکھتا ہے:

واستول على جاريه من سبى حنفيه فولات له محمد بن على الذی يدعى محمد بن حنفيه۔

ترجمہ: سیدنا علیؓ کے ہاں ایک باندی سے جو بنو حنفیہ کے قیدیوں میں آئی تھیں ایک لڑکا ہوا جسے محمد بن علی اور محمد بن حنفیہ کہا جاتا ہے۔

علامہ باقر مجلسی لکھتا ہے:

در روایات شیعه وارد شده است کہ چون اسیراں رابہ نزد ابوبکر آورند مادر محمد بن حنفیه در میں آنہا بود۔ 

(حق الیقین)۔

مجلسی نے وہ روایات تو درج نہیں کیں لیکن ان کے مشہور مورخ ابنِ عقبہ (828ھ) نے اس کا کچھ ذکر کیا ہے:

وهی من سبی اهل الردة وبها يعرف ابنها ونسب اليها۔ (عمدۃ الطالب صفحہ 353 فی النساب ابی طالب صفحہ 331/7)۔

حافظ ابنِ کثیر لکھتا ہے:

سباها خالد ايام اهل الردة من بنى حنفيه فصارت لعلى بن ابى طالب فولات له محمداً۔ 

( البدایہ والنہایہ جلد 7 صفحہ 331)۔

سیدنا خالد بن الولیدؓ نے حیرہ کا مال ایک طیلسانی چادر اور ایک ہزار درہم نقد سیدنا ابوبکرؓ کی خدمت میں بھیجے آپؓ نے وہ چادر کسے دی آپؓ کی یہ نظر شفقت سیدنا حسینؓ پر پڑی بلازری (277ھ) لکھتا ہے:

ووجد الى ابى بكرؓ بالطيلسان مع مال الحيره وبالألف درهم فوھب الطیلسان للحسين بن على رضى الله عنهما۔

(فتوح البلدان صفحہ254)۔

یہ نظر اختصاص اسی طرح ہے جس طرح سیدنا عمرؓ نے فتح ایران کے بعد ساسانی شاہزادی شہر بانو سیدنا حسینؓ کے تملک میں دی تھی۔

سیدنا علیؓ سیدنا ابوبکرؓ کی علمی مجالس میں:

سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی مجلس علمی جس سے آپ فقہی مسائل میں مشورہ لیتے تھے فاضل اصحابِ رسولﷺ پر مشتمل تھی اس کے ممبران میں سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ سیدنا علیؓ سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ سیدنا معاذ بن جبلؓ سیدنا ابی بن کعبؓ اور سیدنا زید بن ثابتؓ معروف شخصیتیں ہیں سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سیدنا ابوالدرداءؓ اور سیدنا جابرؓ بھی جب دستیاب ہوتے یہ بھی اس مجلس کے ممبر ہوتے یہ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اہلِ الرای تھے انہیں اہلِ فقہ بھی کہا جاتا ورنہ اصحابِ حدیث تو سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے جس نے حضورﷺ سے ایک حدیث بھی روایت کی وہ اصحابِ حدیث میں سے ہوگیا ابنِ سعد لکھتے ہیں:

ان ابابكر الصديقؓ كان اذا نزل به امر يريد فيه مشاورة اهل الرای واهل الفقه ودعا رجالا من المهاجرين والانصار دعا عمرؓ و عثمانؓ و علياؓ وعبد الرحمن بن عوفؓ ومعاذ بن جبلؓ وابى بن كعبؓ وزيد بن ثابتؓ وكل هولاء يفتی في خلافة ابی بكرؓ۔ 

(طبقات ابنِ سعد جلد 3 صفحہ 109 باب اہلِ علم والفتویٰ من اصحاب رسول اللہﷺ‎)

شیعی مورخ احمد بن ابی یعقوب عباسی بھی لکھتا ہے:

وكان من يوخذ عند الفقه فی ايام ابی بكرؓ علىؓ بن ابی طالب وعمر بن الخطابؓ ومعاذ بن جبلؓ وابی بن كعبؓ و زيد بن ثابتؓ و عبدالله بن مسعودؓ۔ 

(تاریخ یعقوبی جلد 2 صفحہ 138)۔

ترجمہ: سیدنا ابوبکرؓ کے دور میں جن علماء سے فقہ حاصل کی جاتی تھی وہ سیدنا علیؓ سیدنا عمرؓ سیدنا معاذؓ سیدنا ابی بن کعبؓ سیدنا زید بن ثابتؓ اور سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ تھے۔ 

(ریاض النضرہ جلد 1 صفحہ 130 البدایہ والنہایہ جلد 6 صفحہ 315 کنز العمال جلد 3 صفحہ 142)۔

کے ان روایات میں اہلِ الرای اہلِ الفقہ اہلِ فتویٰ سب متقارب الفاظ ہیں اور یہ وہ حضرات ہیں جن کا علم و فقیہ عمق اور اجتہاد و استنباط ہی میں کناروں سے اترتا تھا۔

سیدنا علی المرتضیٰؓ کا ان علمی مجالس میں ہونا بتلاتا ہے کہ آپ ان حضرات صحابہ کرام رضوان رضوان اللہ علیہم اجمعین کا غیر نہ تھے انہی میں ساتھ تھے علیحدگی کے تصور نے اس گزر گاہ میں راہ نہ پاںٔی تھی۔

سیدنا علیؓ سیدنا ابوبکرؓ کے سیاسی مشیروں میں:

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ روایت کرتی ہیں:

خرج ابى شاهراً سيفه راكبا على راحلته الى ذى القصة فجاء علىؓ بن ابى طالب فاخذ برھام راحلته وقال اين يا خليفه رسول اللهﷺ‎ اقول لك ما قال لك رسول اللهﷺ‎ يوم احد ثم سيفك ولا تفجعنا بنفسك فوالله لان اصبنابك لا يكون للا سلام بعدك نظام ابدأ رجع وامضى الجيش۔

سیدنا ابوبکرؓ نے جب مانعین زکوٰۃ سے جنگ کا ارادہ کیا تو بھی سیدنا علیؓ سے مشورہ کیا یہی حبِ الدین الطبری ذخائر العقیٰ میں نقل کرتے ہیں:

عن على وقد شاور ابوبكرؓ فی قتال اهل الردة بعد ان شاور الصحابة فاختلفوا عليه فقال ما تقول يا ابا الحسنؓ فقال ان تركت شياء مما اخذ رسول اللهﷺ‎ منهم فانت على خلاف رسول اللهﷺ‎۔ 

(ذخائر العقبیٰ صفحہ97)۔

صفحہ 8 از 10