سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے…

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے باہمی تعلقات

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 9 از 10

ترجمہ: سیدنا ابوبکرؓ نے دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کرنے کے بعد (اور انہوں نے اسمیں آپس میں اختلاف کیا تھا) سیدنا علیؓ سے بھی مشورہ فرمایا کہا اے ابا الحسنؓ آپ کی کیا رائے ہے آپؓ نے فرمایا اگر آپؓ نے ان سے ایک چیز لینی بھی (جو حضورﷺ ان سے لیا کرتے تھے) چھوڑ دی تو آپؓ کی سیرت حضورﷺ کے خلاف ہوجائے گی۔

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰؓ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے غزوہ روم کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا آپؓ کے سیاسی مشیر سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ سیدنا علیؓ سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراحؓ سب تشریف لائے سیدنا علیؓ کچھ نہ بولے اس پر سیدنا ابوبکرؓ نے آپؓ کو نام لے کر کہا آپ کی رائے کیا ہے۔

قال ابوبكر ماذا ترى يا ابا الحسنؓ فقال ارى انك ان سرت اليهم بنفسك او بعثت اليهم نصرت عليهم ان شاء الله تعالیٰ فقال بشرك الله بخير و من این علمت ذلك قال سمعت رسول اللهﷺ يقبل لا يزال هذا الدين ظاهرا على كل من ناواه حتىٰ يقوم الدين واهله ظاهرون فقال سبحان الله ما احسن هذا الحديث۔ 

(کنز العمال جلد3 صفحہ 144۔143)

ترجمہ: سیدنا ابوبکرؓ نے کہا اے ابوالحسنؓ تمہاری کیا رائے ہے؟ آپؓ نے فرمایا آپؓ خود انکی طرف جائیں یا کسی دوسرے کو ان کی طرف بھیجیں آپؓ ان پر اللہ کی مدد پائیں گے آپ نے کہا اللہ مجھے خیر دے تم نے یہ کہاں سے جانا سیدنا علیؓ نے فرمایا میں نے حضور اکرمﷺ کو فرماتے سنا آپﷺ نے فرمایا تھا یہ دین اس وقت تک ہر شخص پر جو اس سے دور ہوا غالب رہے گا جب تک دین قاںٔم رہے گا اور اہلِ دین ظاہر رہیں آپ نے فرمایا سبحان اللہ یہ کیسی عمدہ حدیث ہے۔

شیعہ مؤرخین نے بھی یہ روایت لکھی ہے:

اراد ابوبكرؓ ان يغز والروم فشاور جماعة من اصحاب رسول اللهﷺ فقدموا واخروا فاستشار علىؓ بن إلى طالب فاشاران يفعل قال ان فعلت ظھرت فقال بشدت بخير۔ (ناسخ التواریخ جلد 2 کتاب 2 صفحہ 158)۔

ترجمہ: سیدنا ابوبکرؓ نے جنگِ روم کا ارادہ کیا اور آنحضرتﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اس سلسلہ میں مشورہ کیا انہوں نے کچھ مختلف باتیں کیں پھر آپؓ نے سیدنا علیؓ سے مشورہ کیا آپؓ نے فرمایا آپ یہ جنگ کر گزریں اگر کریں گے تو (اللہ کی) مدد پائیں گے آپؓ نے فرمایا تو نے خیر کی بشارت دی ہے

سیدنا علیؓ صرف سیاسی مشیر ہی نہ تھے آپؓ کے عملی رفیق بھی تھے آپ نے جب ان مہمات کا ارادہ فرمایا تو آپؓ نے جو دستے مدینہ کی حفاظت کے لیے مقرر کیے ان پر جن لوگوں کو نگران مقرر کیا ان میں سیدنا علیؓ سیدنا طلحہؓ سیدنا زبیرؓ اور سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ بھی تھے

فجعل الصديق على انقاب المدينة حراسا يبيتون بالجيوش حولها فمن امراء الحرس علىؓ بن ابى طالب والزبير بن العوامؓ وطلحة بن عبید اللهؓ وسعد بن ابی وقاصؓ وعبد الرحمٰن بن عوفؓ وعبد الله بن مسعودؓ۔ (البدایہ جلد 6 صفحہ 311 تاریخ ابنِ حریر طبری 3 صفحہ 323 ابنِ خلکان 2 صفحہ 858)۔

ترجمہ: سیدنا ابوبکرؓ نے مدینہ کی فصیلوں پر پہرے دار مقرر کر دیںٔے جو لشکروں کے گرد رات بھر پہرہ دیتے تھے ان پہرہ داروں کے امراء میں سیدنا علیؓ سیدنا زبیرؓ سیدنا طلحہؓ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ بھی تھے۔ 

سیدنا علیؓ ایک جگہ خود فرماتے ہیں:

فنهضت فی تلك الاحداث حتىٰ زاح الباطل وزهق واحسان الدين۔ 

(نہج البلاغہ) 

ترجمہ: سو میں ان حوادث میں (جو خلافتِ سیدنا ابی بکرؓ میں بصورتِ ارتداد اٹھے) میدان میں نکلا یہاں تک کہ باطل زائل ہوا اور جڑ سے جاتا رہا اور دین پھر سے قائم ہوا۔

شارح نہج البلاغہ ملا فتح اللہ کاشانی اس کی شرح میں لکھتا ہے:

بداں کہ در زمان خلافت ابی بکرؓ بسیارے از عرب برگشتند از دین و مرتد شدند و اصحاب در آں امر عاجز و حیران شدند چوب آنحضرت اس امر را چناں دید اصحاب را دلداری کرده بزور بازوۓ حیدری اہلِ ارتداد رابقر فرستاد و باز امر دین را انتظام داد۔ 

(شرح نہج البلاغہ)۔ 

ترجمہ: جان لو کہ خلافتِ سیدنا ابی بکرؓ میں بہت سے عرب دین سے برگشتہ ہو گئے اور مرتد ہو گئے تھے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان فنتوں میں بہت عاجز اور حیران تھے جب سیدنا علیؓ نے یہ صورتِ حال دیکھی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دلداری کی اور بازو حیدری سے مرتدین کو جہنم واصل کیا اور دین پھر سے نظم سلطنت پا گیا۔

اجرائے حدود و تعزیرات میں شرکت:

ایک جگہ یہ رسم قبیح پائی گئی کہ جس طرح لڑکی نکاح کر کے رخصت کی جاتی ہے لڑکوں کو بھی رخصت کرتے تھے سیدنا خالد بن ولید نے سیدنا ابوبکرؓ کو لکھا سیدنا امیر المومنینؓ نے میٹنگ بلائی ان من سیدنا علیؓ بھی تھے آپؓ نے فرمایا:

ان هذا ذنب لم تعمل به امة الا امة واحده ففعل الله بهم ما قد علم ارى ان نحرقه بالنار فاجتمع رای اصحاب رسول الله ان يحرق بالنار فحرقه خالد۔ 

(سنن کبریٰ بہیقی جلد 8 صفحہ 232 کنز العمال جلد 3 صفحہ 99)۔

ترجمہ: یہ ایسا گناہ ہے جو ایک امت کے سوا کسی نے نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ نے پھر ان سے جو کچھ کیا تمہیں علم ہے میری رائے ہے کہ ہم اسے اس لاش کو نذرِ آتش کریں سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس پر متفق ہوگئے کہ اسے آگ سے جلا دیا جائے سو سیدنا خالد بن ولیدؓ نے ایسا ہی کیا۔

سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ کی جاری کردہ تعزیرات کو عین سنت فرمایا اور ان کے عمل کو آئندہ کی دلیل ٹھہرایا ہے امام ابو یوسفؒ شراب پینے کی سزا کے بارے میں آپ سے نقل کرتے ہیں:

قال جلد رسول اللهﷺ‎ اربعين وابوبكر الصديقؓ اربعين وكملها عمر بن الخطابؓ ثمانين ولكل سنة۔ 

(کتاب الخراج صفحہ 165 المصنف 7 صفحہ 379 صحیح مسلم 2 صفحہ 72)۔

ترجمہ: فرمایا حضورﷺ نے چالیس کوڑوں کی سزا دی سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے بھی چالیس کوڑوں کی سزا دی سیدنا عمرؓ نے اس سزا کو اس کے آخری درجے میں نافذ کیا اور اسی کوڑوں کی سزا دی اور ان سے ہر ایک عمل سنت ہے۔

صفحہ 9 از 10