بی بی فاطمہ زہرا ع نے حضرات شیخین (ابوبکر و عمر) کو اپنے جنازہ میں شامل نہ ہونے کی وصیت کی ۔(روضۃ الاحباب)
دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓشیعہ اعتراض
بی بی فاطمہ زہرا ع نے حضرات شیخین (ابوبکر و عمر) کو اپنے جنازہ میں شامل نہ ہونے کی وصیت کی ۔ (روضۃ الاحباب)
(الجواب اہلسنّت)
1) روضۃ احباب کے مصنف کون ہیں؟ ان کے مکمل احوال سے آگاہی نہیں ہوسکی۔ اگر یہ صاحب اہلِ سنت سے ہیں تو دانستہ یا نادانستہ ان کی یہ صریح غلط روایت ہے شیعہ نے جو تحقیقی دستاویز میں عکسی اصلی صفحہ 610 پر لکھی ہے۔ ان سے غلطی ہوئی ہے۔ سیدہ کے جنازہ میں نہ صرف شیخین شریک ہوئے بلکہ سیدہ کا جنازہ خود سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پڑھا تھا۔
چنانچہ طبقات ابنِ سعد میں ان کی مکمل سند کے ساتھ یہ روایت موجود ہے۔
عن حماد عن ابراهيم النخعی قال صلی ابوبكر الصديق على فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم فكبر اربعاء
ابراہیم نخعی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سیدہ فاطمۃ بنت رسول اللہﷺ کا جنازہ پڑھایا اور ان پر چار تکبیریں کہیں۔
(طبقات ابنِ سعد: جلد 8 صفحہ 19 تحت تذکرہ فاطمۃ مطبوعہ لندن یورپ)
2) دوسری روایت طبقات کی اسی مسئلہ پر اسی جلد میں موجود ہے جس میں یہ الفاظ ہیں:
عن مجاهد عن الشعبي قال صلى عليها ابوبکر رضی الله عنه و عنها .
یعنی شعبی کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ الزہرہؓ پر حضرت ابوبکرؓ نے نماز جنازہ پڑھی۔ (ایضاً)
3) امام بیہقی رحمۃاللہ نے اپنی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے ۔
ثنا محمد بن عثمان بن ابی شیبه ثنا عدن بن سلام ثنا سواد بن مصعب عن مجاهد عن الشعبي إنّ فاطمة رضي الله عنها لما ماتت دفنتها على ليلاً و اخذ بضبعی ابی بکر الصديق رضي الله عنه فقدمه يعني في الصلوة عليها.
روایت کا حاصل یہ ہے کہ جب سیدہ فاطمہؓ کا انتقال ہو گیا تو حضرت علیؓ نے ان کو رات میں دفن کیا اور (جنازه پڑھانے کے وقت) حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے دونوں بازو پکڑ کر سیدہ کا جنازہ پڑھانے کیلئے آگے کیا۔
(السنن الکبری للبیہقی مع الجوہر النفی: جلد 4 صفحہ 29، کتاب الجنائر کنز العمال: جلد 7 صفحہ 114 کتاب الفضائل (فضائل فاطمۃ طبع اول)
4) امام محمد باقر رحمۃاللہ کی روایت کنز العمال علی المتقی الہندی نے بحوالہ خطیب ذکر کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:
امام جعفر صادق امام محمد باقر رحمہمااللہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمۃ دختر رسول خداﷺ فوت ہوئیں تو ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما دونوں حضرات جنازہ پڑھنے کے لئے تشریف لائے۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت علیؓ کو (جنازہ پڑھانے کیلئے کہا کہ آگے تشریف لائے تو حضرت علی المرتضیٰؓ نے جواب دیا آپ خلیفہ رسول ہیں، میں آپ سے پیش قدمی نہیں کر سکتا پس حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آگے بڑھ کر نماز جنازہ پڑھائی۔
(کنز العمال (خط في رواۃ مالک مالک) جلد 6 صفحہ 318 طبع قدیم روایت نمبر 5299 باب فضائل الصحابہ فضل الصدیق مسندات على رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
5) حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃاللہ تحفہ اثنا عشریہ میں یہ روایت نقل فرماتے ہیں
اور فصل الخطاب میں (یہ روایت) لایا ہے کہ ابوبکر صدیق اور حضرت عثمان اور عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم اجمعین نماز عشاء کے وقت حاضر ہوئے اور رحلت حضرت فاطمہؓ کی مغرب عشاء کے درمیان میں شب سہ شنبہ سوم ماہ مبارک رمضان بعد چھ مہینے کے وفات آنخضرتﷺ سے واقع ہوئی کہ عمران کی اس وقت اٹھائیس برس کی تھی اور ابوبکرؓ بااجازت علی مرتضیٰ کے پیش امام ہوئے اور نماز جنازہ ادا کی اور چار تکبیریں ادا کیں۔
(تحفہ اثنا عشریہ مترجم اردو باب دہم در مطاعین خلفاء وغیرہ ھم فی مطاعین صدیقی طون نمبر 13 صفحہ 583، 584)
اسی طرح ابونعیم رحمۃاللہ علیہ کی حلیۃ الاولیاء جلد 4 صفحہ 96 پر اور ریاض النضره جلد 1 صفحہ 156 پر اور دیگر کئی مقامات پر یہ روایات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہما سیدہ فاطمہؓ کے جنازہ میں شریک ہوئے اب خدا کو معلوم کے ان روایات کے مقابلے میں روضۃ الاحباب والے کو کیا سوجھی جو ایک دوسری بات کہیں سے کھینچ لائے لہٰذا ہم عرض کرتے ہیں کہ ان ہماری روایات مشہورہ کثیرہ کے مقابلے میں روضۃ الاحباب والے کی عکسی صفحہ پر دی گئی روایت بالکل غیر مقبول اور ناقابلِ تسلیم ہے۔
اگر مذکورہ کتاب کے مصنف اہل سنت سے ہیں تو کسی غلطی میں مبتلا ہو گئے یا شیعہ فریب کاروں کے دام فریب میں مبتلا ہو گئے اور اگر کوئی دوسری بات ہے تو خیر شیعہ لوگوں کا تو کام ہی تہمتیں تراشنا اور الزام بازی کا بازار گرم رکھنا ہے۔ سو انہوں نے بھی اپنا فرض نبھایا مگر حق وہی ہے جو ہم عرض کر چکے کہ سیدہ کے جنازہ میں شیخین (سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کو شریک نہ کرنے کی وصیت نہ سیدہ نے کی تھی اور نہ ہی شیخین جنازہ سے پیچھے رہے یہ سرا سر یار لوگوں کا بہتان اور صریح افترا جھوٹ ہے جو سیدہ پر باندھا گیا اور بےسروپا دور کی اڑائی گئی۔
