Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

روزہ کے وقت افطار پر شیعہ کا دجل

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

روزہ کے وقت افطار پر شیعہ کا دجل

قرآنِ مجید میں ہے: ثمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ الخ۔ (سورة البقرۃ آیت نمبر 187)۔

اہلِ تشیع اس آیت کو لے کر کہتے کہ اہلِ سنت وقت سے پہلے روزہ افطار کرتے ہیں حالانکہ اللہ نے رات تک روزہ رکھنے کا ارشاد فرمایا ہے ناکہ غروبِ آفتاب تک سب سے پہلی بات کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ثم اتموا الصیام الی اللیل فی اللیل نہیں فرمایا یعنی روزے کو رات میں بالکل داخل نہ کرو رات آتے ہی روزہ ختم کر دو مطلب رات تک جہاں سے رات شروع ہوتی ہے ناکہ فی الیل رات میں خود شیعہ تفاسیر اور معتبر کتب میں اس آیت کی تفسیر غروبِ آفتاب ہے یہاں ہم لغت گرائمر حدیث اور تفاسیر سے اس آیت کا صحیح مفہوم سمجھیں گے سب سے آخر پر اس روایت کا جائزہ لیں گے جو اہلِ سنت کی کتاب میں ہے اور شیعہ اسے بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں اور شیعہ کتب کے حوالے سکین کی صورت میں لگا دئیے جائیں گے۔

"الیل" (رات) کی وضاحت ازروئے لغت:

امام محمد بن مکرم ابنِ منظور اپنی عربی لغت کی مشہور اور متداول کتاب میں لکھتے ہیں:

اللیل: عقیب النہار و مبدوہ من غروب الشمس۔

رات دن کے بعد آتی ہے اور اس کی ابتداء غروب آفتاب سے ہوتی ہے۔ (لسان العرب جلد 11صفحہ 611)۔

صاحب المنجد الابجدی بیان کرتے ہیں:

اللیل: من مغرب الشمس الی طلوع الفجر او الی طلوع الشمس۔

یعنی رات سورج غروب ہونے سے لے کر طلوعِ فجر یا طلوعِ آفتاب تک ہے۔ (المنجد الابجدی صفحہ 885)۔

صاحب المعجم العربی الحدیث لکھتے ہیں:

اللیل: وھو من مغرب الشمس الی طلوعھا وفی الشرع من مغرب الشمس الی بزوع الفجر۔

یعنی رات سورج کے غروب ہونے سے اس کے طلوع ہونے تک اور شریعت میں سورج غروب ہونے سے فجر کے پھیلنے تک ہے۔ (المعجم العربی الحدیث لاروس صفحہ 1049)۔

حسن عمید لکھتے ہیں:

شب از غروب تا طلوع آفتاب۔

رات غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک ہے۔ (فرہنگ عمید طبع شدہ ایران تہران جلد دوم صفحہ 1529)۔

مندرجہ بالا لغات کے حوالوں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بالاتفاق اہلِ لغت سورج غروب ہوتے ہی رات کی ابتداء ہو جاتی ہے۔

"اللیل" (رات) اور افطاری کے وقت کی وضاحت ازروئے تفاسیر:

امام ابنِ کثیر آیت "اتموا الصیام الی اللیل" کے تحت لکھتے ہیں:

یقتضی الافطار عند غروب الشمس حکما شرعیا۔

یعنی شرعی حکم کے تحت سورج غروب ہوتے ہی روز کھولا جائے۔ (تفسیر ابنِ کثیر جلد 1 صفحہ 223)۔

جلالین مع حاشیہ الصاوی میں ہے:

ثم اتمواالصیام من الفجر "الی اللیل" ای الی دخولہ بغروب الشمس۔

یعنی پھر تم روزوں کو رات کے داخلہ تک غروبِ آفتاب کے وقت تک پورا کرو۔ (تفسیر جلالین صفحہ 86)۔

اسمعیل حقی البروسوی لکھتے ہیں:

الی غایہ اللیل وھو دخول اللیل و ذاک بغروب الشمس۔

کہ الیل کی حد رات تک ہے اور وہ رات کا داخلہ ہے جو غروبِ آفتاب کے ساتھ ہے۔ (تفسیر روح البیان جلد 2 صفحہ 300)۔

عبد الرحمٰن بن محمد الثعالبی بیان کرتے ہیں:

واللیل الذی یتم بہ الصیام مغیب قرص الشمس۔

اور رات جس کے ساتھ روزے پورے ہوتے ہیں سورج کی ٹکیہ کا غائب ہونا ہے۔ (تفسیرالثعالبی جلد 1 صفحہ 149)۔

قاضی ثناءاللہ پانی پتی وضاحت کرتے ہیں:

پس اس آیت سے روزہ کی حقیقت واضح ہوئی کہ وہ ارادہ صبح صادق سے لے کر سورج غروب ہونے تک مفطرات ثلٰثہ (کھانے پینے اور جماع) سے رکے رہنا ہے۔

(تفسیر المظہری جلد 1 صفحہ 206)۔

مولانا عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں:

لیل عرف عرب میں غروب آفتاب سے گنی جاتی ہے اور نیزاحادیث صحیحہ میں بھی غروب کے متصلا آنحضرت علیہ السلام کا افطار کرنا ثابت ہو گیا ہے تو پھر دیر کرنا تکلیف بے فائدہ ہے۔ (تفسیر حقانی جلد 3 صفحہ 33)۔

مولانا مودودی مذکورہ صدر آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں:

رات تک روزہ پورا کرنے سے مراد یہ ہے کہ جہاں رات کی سرحد شروع ہوتی ہے وہیں تمہارے روزے کی سرحد ختم ہو جائے اور ظاہر ہے کہ رات کی سرحد غروب آفتاب سے شروع ہوتی ہے لہٰذا غروبِ آفتاب ہی کے ساتھ افطار کر لینا چاہیے۔ ( تفہیم القرآن جلد 1 صفحہ 146)۔

باتفاق مفسرین رات کی ابتداء غروبِ آفتاب سے ہو جاتی ہے سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کر لیا جائے۔

الی اللیل (رات تک) کی وضاحت ازروئے عربی گرائمر:

شرح مأۃ عامل میں "اِلٰی" کی بحث کے تحت شیخ عبد القاہر جرجانی لکھتے ہیں:

وقد لا یکون ما بعدھا داخلا فی حکم ما قبلھا ان لم یکن بعدھا جنس ما قبلھا نحو قولہ تعالیٰ ثم اتموا الصیام الی اللیل۔

یعنی کبھی "الی" کے بعد والا "الی" کے پہلے والے حکم میں داخل نہیں ہوتا اگر "الی" کا بعد والا "الی" سے پہلے والے کی جنس سے نہ ہو تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے پھر روزوں کو رات تک پورا کرو شیخ موصوف یہ قاعدہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ یہاں "الی" ابتدائی حد کے لیے ہے چونکہ رات کی ابتداء سورج غروب ہونے سے ہو جاتی ہے اس لیے سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کر لیا جائے روزہ کے پورا کرنے کا تعلق دن سے ہے نہ کہ رات سے چونکہ دن اور رات دونوں کی جنس مختلف ہے اس لیے یہاں الی کے بعد لیل ’"الی" سے پہلے فجر کے حکم میں داخل نہیں ہے۔

افطار کے وقت کی وضاحت ازروئے احادیث:

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ : إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ۔ (صحيح البخاری جلد 3 صفحہ46)۔

سیدنا عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب ادھر سے رات نمودار ہونے لگے اور ادھر سے دن جانے لگے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار نے روزہ افطار کر لیا۔

یعنی رسول اللہﷺ نے روزہ دار کے لیے سورج غروب ہونے کو ہی افطاری کا وقت قرار دیا ہے۔

عَنْ سَہلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِﷺ قَالَ: لَاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ۔ (صحيح البخاری جلد 3 صفحہ 47)۔

سیدنا سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا لوگ ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہیں گے جب تک روزہ جلدی افطار کرتے رہیں گے

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَؓ عَنِ النَّبِىِّﷺ قَالَ: لاَ يَزَالُ الدِّيْنُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَلأَنَّ الْيَهُوْدَ وَ النَّصَارٰى يُؤَخِّرُوْنَ۔ (سنن أبی داؤد محقق وبتعليق الألبانی جلد 2 صفحہ 277)۔

سیدنا ابو ہریرۃؓ نبیﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک لوگ روزہ جلدی افطار کرتے رہیں گے کیونکہ یہودی اور عیسائی دیر کرتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عجلوا بالافطار واخروالسحور۔ (رواہ الطبرانی فی الکبیر)۔

افطاری میں جلدی کرو اور سحری میں دیر کرو۔

سیدنا ابو عطیہؓ کہتے ہیں کہ میں اور سیدنا مسروقؓ سیدہ عائشہؓ کے پاس آئے پھر ہم نے کہا کہ اے مومنوں کی ماں حضرت محمدﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں دو شخص ہیں ایک ان میں جلدی افطاری کرتا ہے اور جلدی نماز پڑھتا ہے اور دوسرا دیر سے افطاری کرتا ہے اور دیر سے نماز پڑھتا ہے انہوں (سیدہ عائشہؓ) نے پوچھا کہ ان دونوں میں کون جلدی افطار کرتا ہے اور جلدی نماز پڑھتا ہے ہم نے کہا سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ (تو سیدہ عائشہؓ نے) فرمایا کہ رسول اللہﷺ اس طرح کرتے تھے اور دوسرے ابو موسیٰ ہیں یعنی سیدہ عائشہؓ نے سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کے عمل کو سنت نبویﷺ قرار دیا۔ (سنن الترمذي جلد 3 صفحہ 83)۔

نماز مغرب کے بعد افطار کرنا:

یہ روایت موطا مالک اس سند سے مروی ہے:

مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِؓ وعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَؓ كَانَا يُصَلِّيَانِ الْمَغْرِبَ حِينَ

يَنْظُرَانِ إِلَى اللَّيْلِ الْأَسْوَدِ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَا ثُمَّ يُفْطِرَانِ

بَعْدَ الصَّلاَةِ وَذلِكَ فِي رَمَضَانَ۔ (موطا مالک: صفحہ 1013)۔

اسکی سند منطقع ہونے کی بناء پر یہ ضعیف ہے حمید بن عبد الرحمن اور سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ کے مابین انقطاع ہے لہٰذا یہ روایت پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔