سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے لکھے قرآنی کتبے -…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے لکھے قرآنی کتبے

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 3

سیدنا معاویہؓ کے ہاتھ سے لکھے قرآنی کتبے

دوسرے کتبے میں کندہ الفاظ قرآن خاصے واضح ہیں اور یہ کتبہ بئیر سیدنا امیر معاویہؓ جو کہ طائف کے قریب ہے جہاں سے کہ یہ تختیاں ملی تھی (58 ہجری میں) اور اس کا نام سیدنا امیر معاویہؓ کے نام پر ہی رکھ دیا گیا اور آج بھی یہ وہاں طائف کے قریب صحیح سلامت موجود ہے بعد ازاں اس بیئر کی ملکیت بھی سیدنا امیر معاویہؓ کی طرف منسوب ہوئی جس کی وجہ سے بئیر سیدنا امیرِ معاویہؓ (Dam of Muaviya r.a) نام معروف ہوا۔

یہ تصویر 70ء کی دہائی کی تصویر ہے۔

سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ہاتھ کا لکھا قرآن:

کاتبِ وحی سیدنا امیرِ معاویہؓ بن ابی سفیانؓ کہ جن کے ہاتھ کا لکھا قرآن ہم مسلمان پڑھتے ہیں! اسلامی تاریخ میں اس سے بڑھ کر اور کیا مقام ہوگا کہ جس کو اللہ نے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ۝ (سورة الحجر: آیت، نمبر 9) کے مصداق کے طور پر پسند فرما کر چن لیا! الا ان کے کہ جو اس قرآن میں مانے ہی نا۔

زیرِ نظر تصاویر میں سیدنا امیر معاویہؓ کے ہاتھ کے لکھے کچھ کتبے دیکھے جا سکتے ہیں پہلا کتبہ جو کہ تقریباً 40 ہجری کا ہے اور اس پر کندہ الفاظ کو ساتھ لکھ کر واضح کیا گیا ہے۔

سیدنا امیرِ معاویہؓ کاتبِ وحی تھے جس کا ثبوت اہلِ سنت کی کثیر کتب میں موجود ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ صرف کاتب تھے خطوط وغیرہ لکھا کرتے تھے تو اُن سے گزارش ہے کہ ایک لمحے کیلئے اگر آپ کی بات مان لی جائے تو ذرا بتائیے کہ حضورﷺ کی صحبت بابرکت میں خطوط ہی لکھنا کیا باعث سعادت و شرف نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ آپ تو کتابت وحی بھی کرتے تھے۔

اس موضوع پر مواد تلاش کرنے کیلئے کئی کتب دیکھی ہیں اور بہت کچھ ملا بھی ہے پھر ایک دن حضرت علامہ قاری لقمان شاہد قادری صاحب زیدہ مجدہ کی اپنے موضوع پر نہایت عمدہ کتاب "من ھو معاویہؓ" نظر سے گزری تو اس میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کے کاتبِ وحی ہونے پر کثیر حوالہ جات موجود پائے دیکھ کر اطمینانِ قلب ملا اور خوشی ہوئی کہ اللہ رب العزت نے ہمیں ایک سے بڑھ کر ایک محقق علماء عطا فرمائے ہیں سوچا مزید تلاش کی بجائے کیوں نہ یہی پورا مضمون من و عن لکھ دوں اور پھر جو تھوڑا بہت مواد خود اکٹھا کیا ہے اسے بھی (وضاحت) کے ساتھ مِلا دوں تاکہ قاری کو اچھا خاصہ مواد ایک جگہ مل سکے ورنہ نہ ماننے والے کے لئے تو دفتر بھی کم ہیں اور ماننے والے کے لئے ایک سطر ہی کافی ہے۔

محترم علامہ لقمان شاہد صاحب لکھتے ہیں:

سیدنا امیر معاویہؓ کے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد (ایک روایت کے مطابق) آپ کے والد گرامی نے حضور سید عالمﷺ کی بارگاہِ اقدس میں عرض کی تھی: یانبیﷺ میرے بیٹے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو اپنا کاتب بنا لیجیے تو حضورﷺ نے ان کی عرضی قبول فرمالی۔

(انظر: صحیح مسلم باب من فضائل ابی سفیانؓ: جلد، 4 صفحہ، 1945 رقم، 2501 صحیح ابنِ حبان ذکر ابی سفیانؓ: جلد، 16 صفحہ، 189 رقم، 7209 وغیرہ)

اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کو اپنا کاتب مقرر فرما دیا اور آپﷺ اس خدمت کے لیے بارگاہِ اقدس میں رہنے لگے۔جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمروؓ کہتے ہیں:

ان معاویةؓ کان یکتب بین یدی النبیﷺ

سیدنا امیرِ معاویہؓ حضورﷺ کی بارگاہ میں کتابت کا فریضہ سر انجام دیتے تھے۔

(المعجم الکبیر للطبرانی مسند عبداللہ بن عمروؓ: جلد، 13 صفحہ، 554 رقم، 14446)

حافظ نور الدین ہیثمی (متوفی807ھ) کہتے ہیں: اس حدیث کی سند حسن ہے۔

(مجمع الزوائد و منبع الفوائد باب ماجاء فی معاویةؓ:جلد، 9 صفحہ، 357 رقم، 15924)۔

اسی دوران نبی کریمﷺ آپؓ کی تربیت بھی فرمایا کرتے جیسا کہ آپؓ خود بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب میں لکھ رہا تھا تو حضورﷺ نے فرمایا:

یا معاویةؓ! الق الدواة حرف القلم وانصب الباء و فرق السین ولا تعور المیم وحسن اللہ و مد الرحمٰن وجود الرحیم۔

اے سیدنا امیرِ معاویہؓ! دوات کی سیاہی درست رکھو قلم کو ٹیڑھا کرو (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی) "ب" کھڑی لکھو "س" کے دندانے جدا رکھو "م" کے دائرے کو اندھا نہ کرو (کھلا رکھو) لفظ "اللہ" خوب صورت لکھو لفظ "رحمن" کو دراز کرو اور لفظ "رحیم" عمدگی سے لکھو۔

(فضائل القرآن للمستغفری باب ماجاء فی فضل بسم اللہ الرحمٰن الرحیم: جلد، 1 صفحہ، 436 رقم، 556 الفردوس بماثور الخطاب باب الیا: جلد، 5 صفحہ، 394 رقم، 853 آداب الاملاء والستملاء البحر والکاغذ: صفحہ، 170نھایة الادب فی فنون الادب ومن معجزاتہ عصمتہ اللہ تعالیٰ لہ من الناس: جلد، 18 صفحہ، 346 المدخل لابن الحاج فصل فی نیة الناسخ و کیفتیھا: جلد، 4 صفحہ، 84 العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ رسالہ خالص الاعتقاد: جلد، 29 صفحہ، 459 وغیرہ)

پھر ایک وقت آیا کہ عام کتابت کے علاوہ نبی مکرمﷺ نے آپ کی کتابت وحی کی بھی ذمہ داری لگادی تو اس طرح دیگر کُتّابِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ آپ بھی یہ فریضہ سر انجام دینے لگے۔

آپ کی اسی ذمہ داری کی بابت سیدنا عبداللہ بن عباسؓ بن عبدالمطلب رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین فرماتے ہیں:

وکان یکتب الوحی۔

سیدنا امیرِ معاویہؓ وحی لکھا کرتے تھے۔

سیدنا ابنِ عباسؓ کا یہ فرمان امام بیہقیؒ (متوفی 458ھ) نے نقل کیا ہے اور اس کے بارے میں امام ذہبیؒ فرماتے ہیں:

قد صح ابنِ عباسؓ (یعنی سیدنا ابنِ عباسؓ نے صحیح کہا اصمعی)۔

(انظر: دلائل النبوۃ و معرفة احوال صاحب الشریعہ باب ماجاء فی دعائهﷺ علی من اکل بشمال جلد 6 صفحہ 243 تاریخ اسلام حرف المیم معاویہؓ بن ابی سفیان جلد 4 صفحہ 309)۔

جلیل المرتبت علماء کہتے ہیں:

1. حافظ ابوبکر محمد بن حسین آجری متوفی 360ھ فرماتے ہیں:

معاویةؓ رحمہ اللہ کاتب رسول اللہﷺ علی وحی اللہ عزوجل وھو القرآن بامر اللہ عزوجل 

رسول کریمﷺ کے کاتب سیدنا امیرِ معاویہؓ پر اللہ رحم فرمائے آپ اللہ کے حکم سے وحی اِلہٰی قرآنِ پاک لکھا کرتے تھے۔

(الشریعۃ کتاب فضائل معاویةؓ: جلد، 5)

2. حافظ الکبیر امام ابوبکر احمد بن حسین خراسانی بیہقی متوفی 458ھ فرماتے ہیں:

وکان یکتب الوحی

“سیدنا امیرِ معاویہؓ کاتبِ وحی تھے۔

(دلائل النبوۃ ومعرفة احوال صاحب الشریعۃ باب ماجاء فی دعائهﷺ: جلد، 6 صفحہ، 243)

صفحہ 1 از 3