سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے لکھے قرآنی کتبے -…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے لکھے قرآنی کتبے

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

3. امام شمس الائمہ ابوبکر محمد بن احمد سرخسی حنفی متوفی 483ھ فرماتے ہیں:

وکان یکتب الوحی

(المبسوط کتاب الاکراہ: جلد، 24 صفحہ، 47)

4. امام قاضی ابوالحسین محمد بن محمد حنبلی (ابنِ ابی یعلی) متوفی 526ھ فرماتے ہیں:

(معاویةؓ)کاتب وحی رب العالمین 

سیدنا امیرِ معاویہؓ تمام جہانوں کے رب کی وحی کے کاتب تھے۔

(الاعتقاد الاعتقاد فی الصحابةؓ: صفحہ، 43)

5. امام حافظ ابو القاسم اسماعیل بن محمد قرشی طلیحی (قوام السنتہ) (متوفی 535ھ) لکھتے ہیں:

معاویةؓ کاتب الوحی

(الحجة فی بیان المحجة و شرح عقیدة اھل السنة: جلد، 2 صفحہ، 570 رقم، 566)

6. علامہ ابوالحسن علی بن بسام الشنترینی اندلسی۔ (متوفی542)فرماتے ہیں:

معاویةؓ بن ابی سفیان کاتب الوحی۔

(الذخیرة فی محاسن اھل الجزیرة: جلد، 1صفحہ، 110)

7. حافظ ابو عبدالله حسین بن ابراہیم جوزقانی (متوفی543ھ) فرماتے ہیں:

(معاویةؓ) کاتب الوحی۔

(الاباطیل و المناکیر و الصحاح والمشاھیر باب فی فضائل طلحةؓ و الزبیرؓ و معاویةؓ: صفحہ، 116 رقم، 191)

8. علامہ ابوالفتوح محمد بن محمد طائی ہمدانی (ابوالفتوح الطائی) متوفی555ھ لکھتے ہیں:

(معاویةؓ)کاتب وحی رسول رب العالمین و معدن الحلم و الحکم 

سیدنا امیرِ معاویہؓ رسول رب العالمینﷺ کے کاتبِ وحی حلم و دانائی کی کان تھے۔

(کتاب الاربعین فی ارشاد السائرین الی منازل المتقین او الاربعین الطائیة الحدیث التاسع و العشرون: صفحہ، 174)

9. امام حافظ ابوالقاسم علی بن حسن بن ہبتہ اللہ شافعی (ابنِ عساکر) (متوفی571) لکھتے ہیں:

(معاویةؓ) خال المؤمنین و کاتب وحی

(تاریخِ دمشق الکبیر ذکر من اسمہ معاویةؓ معاویة بن صخر: جلد، 59 رقم، 7510)

10. امام حافظ جمال الدین ابوالفرج عبدالرحمٰن بن علی الجوزی (متوفی597ھ)

نے "کشف المشکل" میں رسولﷺ کے 12 کاتبوں کا تذکرہ کیا ہے جن میں سیدنا امیرِ معاویہؓ بھی ہیں۔

(انظر: کشف المشکل من حدیث الصحیحن کشف المشکل من مسند زید بن ثابت: جلد، 2 صفحہ، 96)

11. ابوجعفر محمد بن علی بن محمد ابن طباطبا علوی (ابن الطقطقی) (متوفی709ھ) نے لکھا ہے:

و اسلم معاویةؓ و کتب الوحی فی جملة من کتبہ بین یدی الرسولﷺ۔

(الفخری فی الآداب السلطانیہ و الدول الاسلامیہ ذکر شیء سیرة معاویةؓ و وصف طرف من حاله: صفحہ، 109)

12. حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر قرشی الدمشقی شافعی (متوفی772ھ) لکھتے ہیں:

ثم کان ممن یکتب الوحی بین یدی رسول اللہﷺ۔

(جامع المسانید و السنن الھادی لاقوم سنن معاویةؓ بن ابوسفیانؓ: جلد، 8 صفحہ، 31 رقم، 1760)

13. حافظ ابراہیم بن موسیٰ مالکی (شاطبی) (متوفی790ھ)

نے بھی رسول اللہﷺ کے کتابِ وحی میں سیدنا عثمانؓ سیدنا علیؓ سیدنا امیرِ معاویہؓ سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سیدنا ابی بن کعبؓ سیدنا زید بن ثابتؓ وغیرہم کا ذکر کیا ہے:

(انظر: الاعتصام: صفحہ، 239)

14. اسی طرح حافظ ابوالحسن نور الدین علی بن ابوبکر نن سلیمان ہیثمی (متوفی 807ھ)

نے بھی رسول پاکﷺ کے کُتّابِ وحی کے بارے میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کا تذکرہ کیا ہے۔

(انظر: مجمع الزوائد و منبع الفوائد باب فی کتاب الوحی جلد، 1 صفحہ، 153 رقم، 686)

15. علامہ تقی الدین ابو العباس احمد بن علی حسینی مقریزی (متوفی845)فرماتے ہیں:

وکان یکتب الوحی۔

سیدنا امیرِ معاویہؓ کاتب وحی تھے۔

(امتاع الاسماع بما لنبی من الاحوال و الاموال و الحفدة والمتاع و اما اجابة اللہ دعوة الرسولﷺ جلد، 12 صفحہ، 113)

16. امام حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی (متوفی852ھ) لکھتے ہیں:

معاویةؓ ابنِ ابی سفیانؓ الخلیفة صحابی اسلم قبل الفتح وکتب الوحی

سیدنا امیرِ معاویہؓ فتح مکہ سے پہلے اِسلام لائے آپ خلیفتہ المسلمین صحابی اور کاتب وحی ہیں۔

(تقریب التہذیب حرف المیم صفحہ، 470 رقم 6758)

17. امام حافظ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی حنفی (متوفی855) لکھتے ہیں:

معاویةؓ بن ابی سفیان صخر بن حرب الاموی کاتب الوحی۔

(عمدة القاری شرح صحیح البخاری کتاب العلم باب من یرداللہ به خیرا یفقھه فی الدین: جلد، 2 صفحہ، 73، رقم 71)

18. علامہ شہاب الدین ابوالعباس احمد بن محمد قسطلانی مصری شافعی (متوفی 923ھ) لکھتے ہیں:

وھو مشھور بکتابة الوحی

سیدنا امیرِ معاویہؓ مشہور کاتب وحی ہیں

(المواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ الفصل السادس فی امرائه و رسله و کتابه: جلد، 1 صفحہ، 533)

علامہ قسطلانی نے "ارشاد الساری" میں بھی لکھا ہے کہ

(معاویةؓ) بن ابی سفیان صخر بن حرب کاتب الوحی لرسول اللہﷺ ذا المناقب الجمعة۔

(انظر: ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری کتاب العلم باب من یرد اللہ به خیرا یفقھه فی الدین: جلد، 1 صفحہ، 170 رقم، 71)

19. امام حافظ شہاب الدین ابو العباس احمد بن محمد (ابنِ حجر) ہیثمی مکی شافعی (متوفی 974ھ) لکھتے ہیں:

معاویة بن ابی سفیانؓ اخی ام حبیبةؓ زوجة رسول اللہﷺ کاتب الوحی

 سیدنا امیر معاویہؓ بن ابوسفیان سیدہ ام حبیبہ زوجہ رسول اللہﷺ کے بھائی اور کاتب وحی ہیں۔

(الصواعق المحرقة فی الرد علی اھل البدع و الزندقة خاتمہ فی امور مھمة: صفحہ،  355)

20. علامہ عبدالملک بن حسین بن عبد الملک عصامی مکی (متوفی1111ھ )نے لکھا ہے:

(معاویةؓ و کان یکتب الوحی سمط النجوم العوالی فی انباء الاوائل و التوالی ذکر مناقبه: جلد، 3 صفحہ، 155)

21. علامہ اسماعیل بن مصطفی حقی حنفی (متوفی1127ھ) لکھتے ہیں:

(معاویةؓ) کاتب الوحی

(تفسیر روح البیان، جز، 1 تحت سورة البقرة: آیت، 90 جلد، 1 صفحہ، 180)

22. اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت مجدد دین وملت شیخ الاسلام حافظ احمد رضا بن مفتی نقی علی خاں ہندی حنفی قدس سرہ (متوفی 1340ھ) فرماتے ہیں:

حضور اقدسﷺ پر قرآنِ عظیم کی عبارتِ کریمہ نازل ہوتی عبارت میں اعراب نہیں لگائے جاتے(تھے) حضورﷺ کے حکم سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مثل: امیرالمؤمنین عثمانِ غنیؓ وحضرت زید بن ثابتؓ و امیر معاویہؓ وغیرہم رضی اللہ عنہم اسے لکھتے ان کی تحریر میں بھی اعراب نہ تھے یہ تابعین کے زمانے سے رائج ہوئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

(العطایة النبویة فی الفتاوی الرضویة: جلد، 26 صفحہ، 492 اور 493)

صفحہ 2 از 3