سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے لکھے قرآنی کتبے -…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے لکھے قرآنی کتبے

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 3

23. شارح بخاری علامہ سید محمود احمد بن سید ابو البرکات احمد بن سید دیدار علی شاہ محدث الوری حنفی (متوفی1419ھ) فرماتے ہیں:

ایمان لانے کے بعد سیدنا امیرِ معاویہؓ خدمتِ نبویﷺ سے جدا نہ ہوئے ہمہ وقت پاس رہتے اور وحی الہٰی کی کتابت کرتے۔

(شانِ صحابہ امیرِ معاویہؓ کے دل میں رسول اللہﷺ کا احترام: صفحہ، 32)

24. حافظ الحدیث علامہ جلال الدین سیوطی شافعی متوفی 911ھ نے لکھا ہے:

آپ (سیدنا معاویہؓ) رسول اللہﷺ کے کاتبین وحی میں سے ایک ہیں۔

(تاریخ الخلفاء مترجم: صفحہ، 352)

25. صاحبِ مشکوة شریف امام ولی الدین بن عبداللہ محمد بن عبداللہ خطیب البغدادیؒ لکھتے ہیں:

آپؓ حضور انورِﷺ‎ کے کاتبِ وحی تھے۔

(اکمال مترجم: صفحہ،81 مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات)

26. امام المتکلمین علامہ عبدالعزیز پرہاروی متوفی 1239ھ (مولفِ النبراس) لکھتے ہیں:

سیدنا امیرِ معاویہؓ اور سیدنا زیدؓ کو کتابتِ وحی کے لیے خاص کیا گیا تھا یعنی دوسروں کی نسبت یہ کل وقتی کاتب تھے۔

(الناہیہ عن مطاعن امیرِ معاویہؓ مترجم: صفحہ، 33 مکتبہ غوثیہ کراچی)

27. حضرت تاج الفحول محب رسول مولانا شاہ عبد القادر قادری بدایونیؒ متوفی 1319ھ "شرح مواہب" کے حوالے سے لکھتے ہیں:

سیدنا امیرِ معاویہؓ بن ابی سفیانؓ بن صخر بن حرب بن امیہ الاموی ابو عبدالرحمٰن الخلیفہ صحابی تھے فتح مکہ والے سال مسلمان ہوئے کاتب وحی بھی رہے۔

اختلاف علیؓ و معاویہؓ مترجم: صفحہ، 29 مطبوعہ دار الاِسلام لاہور)

28. حکیم الاُمت مفتی احمد یار خان نعیمیؒ لکھتے ہیں:

سیدنا امیرِ معاویہؓ نبی کریمﷺ‎ کے کاتب وحی بھی اور کاتب خطوط بھی تھے۔

(سیدنا امیرِ معاویہؓ پر ایک نظر: صفحہ، 42 نعیمی کتب خانہ لاہور)

29. مصنف کتب کثیرہ شیخ الحدیث والتفسیر مفتی فیض احمد اویسیؒ لکھتے ہیں:

سیدنا امیرِ معاویہؓ حضورﷺ‎جلدی آؤ کےعظیم القدر صحابی اور رشتہ میں سالے اور قریبی رشتہ دار ہیں بلکہ آپ نبی پاکﷺ‎ کے کاتبِ وحی ہیں۔

(سیدنا امیرِ معاویہؓ پر اعتراضات کے جوابات: صفحہ، 6 ایرانی کتب خانہ بہاولپور)

30. محقق اہلِ سنت مصنف کتبِ درسِ نظامی شیخ الحدیث قاضی عبدالرزاق بھترالوی زیدہ مجدہ لکھتے ہیں:

کوئی کہے کہ وہ(سیدنا امیرِ معاویہؓ) کاتب وحی نہ تھے تو اُس کی بات مانوں یا اکابر کی بات مانوں۔

(پھر آگے آپ نے کاتب وحی ہونے پر اکابر کی کتب سے حوالے بھی دئیے ہیں)

(نجوم التحقیق: صفحہ، 110 مکتبہ امام احمد رضا روالپنڈی)

31. شیخ الحدیث و التفسیر علامہ محمد عبدالرشید جھنگویؒ سے سوال ہوا کہ:

سوال: سیدنا امیرِ معاویہؓ کو امینِ اسرار نبوت کاتب الوحی خال المؤمنین اور رضی اللہ عنہ کہنا جائز ہے یا نہیں؟۔

الجواب: جائز ہے۔

(آگے آپ نے پھر اس کے جواز پر دلائل بھی دئے ہیں بلکہ آپ نے کتب شیعہ سے آپکا کاتب الوحی ہونا بھی ثابت کیا ہے)۔

(انظر: دفاعِ سیدنا امیرِ معاویہؓ: صفحہ، 66)

سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بارے میں کیے گئے چند سوالات کے جوابات ،مطبوعہ دارالاِسلام لاہور)۔

قارئین محترم جیسا کہ آپ نے پڑھا کثیر محدثین مورخین جید علماء کی کتب اس بات ہر شاہد ہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کاتبِ وحی تھے اب اگر کوئی کہے کہ کاتبِ وحی ہونا کوئی فضیلت کی بات نہیں فلاں فلاں بعد میں مرتد ہوگیا تھا اُسے وحی کی کتابت کام نہ آئی تو اس سے کہا جائے گا کہ آپ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو فلاں فلاں کے ساتھ کیوں ملا رہے ہیں وہ مرتد ہوگئے تھے آپ تو آخری دم تک مسلمان رہے ہیں صحابی رسول کے منصب پر فائز رہے ہیں آپؓ سے کوئی بھی ایسا فعل سر انجام نہیں ہوا جس سے ارتداد ثابت ہوتا ہو لہٰذا بغیر فرق کیے ایسی مثال دینا حماقت اور جہالت ہے۔

ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ آپؓ فتح مکہ پر مسلمان ہوئے یا کچھ پہلے تو اتنا عرصہ میں کتنی وحی لکھی ہو گی تو کہا جائے گا کہ چاہے وحی الہٰی کا ایک لفظ بھی کیوں نہ لکھا ہو آپ کے فضیلت کے لیے کافی ہے عقل کو تنقید سے فرصت نہیں عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ۔



صفحہ 3 از 3