Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امام شافعی رحمہ اللہ علیہ سے منسوب ایک مشہور شعر کی حقیقت

  بلال خان آفریدی

امام شافعی رحمہ اللہ علیہ سے منسوب ایک مشہور شعر کی حقیقت 

امام شافعی کی طرف روافض کا منسوب کردہ ایک جھوٹابہتان، کہ امام شافعی نے  اہلبیت کی محبت کو رافضیت قرار دیا ہے۔ 
دیوان شافعی نامی کتاب سےایک قول نقل کیا گیا۔

إن كان رَفْضاً حبُّ آلِ محمدٍ … فَلْيَشْهَدِ الثقلانِ أني رافضي

اگر ال محمد سے محبت رفض ہے تو ثقلان گواہ ہیں میں رافضی ہوں
(ديوان الشافعي) 

الجواب:

یہ قول امام شافعی پر جھوٹا بہتان ہے،دیوان شافعی امام شافعی کی کتاب نہیں ہے بلکہ بہت سال بعد اسکو جمع کیا گیا، اور دیوان شافعی کے محقق نے لکھا:
مختلف مواقع پر مناسبت پر امام شافعی نے برجستہ کچھ قطعات ارشاد فرمائے تھے، جو انکے شاگردوں نے محفوظ کرلیئے، وہ اشعار مختلف کتابوں میں منتشر طور پر نقل ہوتے رہے اور انہیں اشعار کو بعد والوں نے جمع کرکے دیوان  امام شافعی کے نام سے شائع کردیا۔ ، اور اس دیوان کے مختلف نسخوں کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ محققین اور امام صاحب کے اشعار جمع کرنے والا کے نزدیک بعض اشعار کا انتساب امام کی جانب صحیح نہیں ہے۔
(دیوان شافعی اردو ترجمہ عبداللہ کاپودروی ٹونٹو)۔ 
اس شعر

(فَلْيَشْهَدِ الثقلانِ أني رافضي)

کی چار اسناد ہیں دو میں کذاب راوی اور دو میں مجہول شامل ہیںَ۔

  01 امام بیہقی نے مناقب شافعی میں اس جھوٹ کی سند اسطرح بیان کی ہے۔ 

أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزّكِّي حدثنا الزبير بن عبد الواحد الحافظ أخبرني محمد بن محمد بن الأشعث، حدثنا الربيع قال: أنشدنا الشافعي رضي الله عنه:
إن كان رَفْضاً حبُّ آلِ محمدٍ ... فَلْيَشْهَدِ الثقلانِ أني رافضي (1)
(مناقب الشافعي للبيهقي) 

☆ یہ سند کو گھڑنے والا محمد بن محمد بن الأشعث کذاب راوی ہے۔
امام دارقطنی نے اسکو ایک کذاب قرار دیا ہے۔ ابن عدی نے اسکی بیان کردہ ہزار احادیث کو منکر اور جھوٹی قرار دیا، ذہبی نے لکھا اس پر کذاب ہونے کی شہادت ہے، ابن طاہر المقدسی نے لکھا یہ کذاب ہے، محمد بن عراق الکنانی نے اسکو متروک لکھا ہے۔ان سارے اقول کے اسکین پوسٹ کے ساتھ موجود ہیں۔ 

 02 حافظ ابن کثیر نےطبقات الشافعيين نامی کتاب میں اس جھوٹ کی سند اسطرح بیان کی ہے۔جسمیں چار راوی مجہولین ہیں۔ 

وقال الحافظ أبو القاسم ابن عساكر: أخبرنا أبو الحسن الموازيني، قراءة عليه، عن أبي عبد الله القضاعي، قال: قرأت على أبي عبد الله محمد بن أحمد بن محمد، حدثنا الحسين بن علي بن محمد بن إسحاق الحلبي، حدثني جدي محمد وأحمد ابنا إسحاق بن محمد، قالا: سمعنا جعفر بن محمد بن أحمد الرواس، بدمشق، يقول: سمعت الربيع، يقول: خرجنا مع الشافعي، رضي الله عنه، من مكة، نريد منى، فيم ينزل واديا ولم يصعد شعبا إلا وهو يقول:
إن كان رفضا حب آل محمد ... فليشهد الثقلان أني رافضي
(طبقات الشافعيين ابن كثير) 

☆ کتاب  ابن کثیر کی اس سند میں الحسين بن علي بن محمد بن إسحاق الحلبي نامی راوی مجہول الحال ہے۔ اسکا دادا محمد بن إسحاق الحلبي  بھی مجہول الحال ہے دادا کی متابعت میں بیان کردہ راوی

وأحمد ابنا إسحاق بن محمد

بھی مجہول العین ہے۔اور

جعفر بن محمد بن أحمد الرواس بدمشق

نامی راوی بھی مجہول الحال ہے۔ 

03 حافظ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں اس جھوٹی قول کی سند اسطرح بیان کی ہے،۔ 

أخبرنا أبو القاسم هبة الله بن عبد الله الواسطي أنا أبو بكر الخطيب أنا أبو سعد إسماعيل بن علي بن الحسين (1) بن بندار بن المثنى الاستراباذي ببيت المقدس أنا علي بن الحسن بن حمويه الدامغاني أنا زبير بن عبد الواحد أنا محمد بن محمد بن الأشعث نا الربيع هو ابن سليمان أنشدنا الشافعي (2) يا راكبا قف بالمحصب (3) من منى  واهتف بقاطن (4) خيفها والناهض سحرا إذا فاض الحجيج إلى منى  فيضا كملتطم الفرات الفائض إن كان رفضا حب آل محمد  فليشهد الثقلان أني رافضي
(تاريخ دمشق) 

☆ اس گھڑونت کا راوی أبو سعد إسماعيل بن علي بن الحسين  بن بندار بن المثنى الاستراباذي  کذاب ہے۔
امام ابو سعد السمعانی نے لکھا: اسماعیل بن علی الاستراباذی کذاب ہے یہ اپنے والد پر جھوٹ باندھتا تھا اور اسکو والد بھی کذابین میں سے ہے،(یعنی یہ پورا خاندان ہی کذابوں کا تھا)۔ابن عراق الکنانی نے لکھا اس واعظ پر کذاب اور(روایات) گھڑنے کی شہادت موجود ہے۔خطیب نے لکھا یہ اسکی روایت قابل اعتبار نہیں ہیں، میں نے اس سے ایک روایت سنی جو مردود تھی۔ 

04 حافظ ذہبی نے اس قول کی سند اسطرح نقل کی ہے۔ 

قَالَ الحاكم: أخبرني الزُّبَيْر بْن عَبْد الواحد الحافظ، أَنَا أبو عُمارة حمزة بْن عليّ الجوهريّ، ثنا الربيع بْن سليمان قَالَ: حَجَجْنا مَعَ الشّافعيّ، فما ارتقى شُرُفًا، ولا هبط واديًا، إلّا وهو يبكي وينشد:إنّ كَانَ رفضًا حُبُّ آلِ محمّدٍ ... فلْيَشْهَد الثَّقَلان أنّي رافضي [1] 
(تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام ) 

☆ اس سند میں راوی مجہول العین ہے اس سے الزبیر بن عبدالواحد الحافظ کے علاوہ دوسرا کوئی بھی روایت نہیں کرتا، مجہول العین کے رفع کیلئے کسی بھی راوی سے کم از کم دو ثقہ کا صحیح سند سے روایت کرنا ضروری ہوتا ہے، اسلئے یہ مجہول فاسق کے حکم میں داخل ہے۔ 
حافظ ذہبی نے اس قول کو خود جھوٹ قرار دیتے ہوئے لکھا:

قُلْتُ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ الشَّافِعِيَّ يَتَشَيَّعُ، فَهُوَ مُفْتَرٍ، لاَ يَدْرِي مَا يَقُوْلُ.
( سير أعلام النبلاء)

جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ الشافعی شیعہ ہے تو وہ من گھڑت ہے اور وہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ 
رافضی کون ہے اسکا تعین اور اس پر جرح امام شافعی نے خود کردی ہے۔  ۔

- قَالَ البُوَيْطِيُّ: سَأَلْتُ الشَّافِعِيَّ: أُصَلِّي خَلْفَ الرَّافِضِيِّ؟ قَالَ: لاَ تُصَلِّ خَلْفَ الرَّافِضِيِّ، ------، وَمَنْ قَالَ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَيْسَا بِإِمَامَيْنِ، فَهُوَ رَافِضِيٌّ،  (ذم الكلام وأهله) 

یعنی امام شافعی کے شاگرد یوسف بن یحییٰ ابو یعقوب البویطی (ثقہ فقیہ) نے امام شافعی سے رافضیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کا سوال کیا تو انہونے اس سے منع فرمایا اور فرمایا کہ رافضی وہ ہے جو ابو بکر اور عمر رضی (شیخین صحابہَؓ ) مامون نہیں سمجھتا وہ رافضی ہے۔
(یعنی رافضی کو خوش نہں ہونا چاہئے، اہلبیت سے صرف گنتے کے چار اپنے پسند کے لوگوں کو منتخب کرکے اہلبیت کی محبت کا کذاب مدعی اور نبی صلی اللہ وسلم کے شیخین صحابہ کر برا سمجھنا یہ رافضیت ہے۔) 

02 امام شافعی نے صحیح متصل سند سے رافضیوں کے بارے میں فرمایا:

أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْخَلالُ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: مَا كَلَّمْتُ رَجُلا فِي بِدْعَةٍ، إِلا رَجُلا كَانَ يَتَشَيَّعُ

: میں نے کسی آدمی سے بدعت کے بارے میں بات نہیں کی، سوائے اس آدمی کے جو کسی فرقے کی پیروی کرتا تھا۔

(آداب الشافعي ومناقبه ابن ابی حاتم) 

03 امام شافعی نے رافضیوں کو کائنات کے سب سےزیادہ کذاب قرار دیتے ہوئے فرمایا: 

688 - حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ( ثقة) قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حَرْمَلَةُ(حرملة بن يحيى التجيبي، صدوق ) قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ:
«لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ الْأَهْوَاءِ أَكْذَبَ فِي الدَّعْوَى , وَلَا أَشْهَدَ بِالزُّورِ مِنَ الرَّافِضَةِ»
(لإبانة الكبرى لابن بطة)

یعنی امام شافعی نے فرمایا:یعنی مٰں نے نفس پرستوں میں سے رافضیوں سے زیادہ جھوٹی گواہی دینے والا اور جھوٹ بولنے والا دوسرا نہیں دیکھا۔(سند صحیح ) 
پس ثابت ہوگیا کہ امام شافعی کے مطابق رافضی سے مراد ابو بکر اور عمر کو برا سمجھنے والا، اسکے پیچھے نماز نہیں پڑھنے چاہئے، وہ بدعتی ہے اور نفس پرست ہے، اور جھوٹی گواہی دینے والا اور سب سے بڑا کذاب ہے۔ 

نوٹ: یہ شعر مرزا جہلمی صاحب کے ریسرچ پیپر5 میں نقل کیا گیا ہے جس کے ہر ہر پیج پر " فرقہ واریت سے بچ کر صرف قرآن و صحیح الاسناد احادیث کو حجت و دلیل ماننے اور جھوٹی بے سند اور ضعیف الاسناد تاریخی روایات سے بچنے والوں کیلئے"  کا ٹیگ لگا کر دھوکہ دیا گیا ہے۔