Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

وقت افطار اور اہلِ سنت کے مؤقف کی حقانیت

  علمائے اہل سنت

وقت افطار اور اہلِ سنت کے مؤقف کی حقانیت

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ:

ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيۡلِ‌ۚ

اس کے بعد رات آنے تک روزے پورے کرو،

(سورۃ البقرہ :آیت 187)

اس آیت کے دو مطلب سامنے آتے ہیں

پہلا رات تک روزہ: جب رات ہو جائے جس وقت سورج غروب ہوتا ہے اور دن اور رات کی حدود سورج کا نکلنا اور غروب ہونا ہی بنتی ہیں۔

دوسرا رات تک: جب رات ختم ہو جائے تب افطار کرو۔

دوسرے مطلب پر نہ کوئی عمل کرتا ہے اور نہ اس مطلب کو کوئی تسلیم کرتا ہے۔

پہلا مطلب: جب رات ہو جائے تب روزہ افطار کرو

اس کے دو مطلب آ گے پھر نکلتے ہیں

1) جب اندھیرا چھا جائے تو تب افطار کرو۔

2) جب سورج غروب ہو جائے تو روزہ افطار کرو۔

پہلے مطلب کو لیا جائے تو اس پر تو خود وہ حضرات بھی عمل نہیں کرتے جو اس آیت کے تحت اپنے مؤقف کے دعوے دار ہیں ۔کیونکہ سورج غروب ہونے کے بعد 10، 15 منٹ تک کوئی اندھیرا نہیں ہوتا جس کو رات قرار دے کر اس آیت کو دلیل بنایا جائے۔

اب صحیح مطلب دوسرا ہی بنتا ہے جو قرآنِ کریم کی آیت کے مطابق فریقین( اہلِ سنت، امامیہ) کی کتب میں واضح طور پر رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ اور ائمہ کی روایات میں موجود ہے اور جس سے اہلِ سنت کا وقت افطار سورج غروب ہونے کے فوراً بعد کا ثابت ہوتا ہے۔ 

اس پر ثبوت ملاحظہ فرمائیں:

فریق ثانی کے عالم حسین بخش جاڑا اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ:

لیل سے مراد غروبِ شمس کا یقین ہے۔ علماء نے اس کی یہ علامت مشرق کی سرخی کا دور ہونا بیان فرمایا ہے، اگر مشرق کی سرخی زائل نہ ہوئی ہو اور غروب شمس کا یقین ہو تو افطار جائز ہے۔

ملاحظہ فرمائیں:

(تفسیر انوار النجف تفسیر سورۃ البقرہ صفحہ238)

پس ثابت ہوا کہ ہم اہلِ سنت جو سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی افطار کر لیتے ہیں یہ بالکل قرآنِ مجید کے مطابق ہے، جائز فعل ہے۔

اب پہلے اہلِ سنت احادیث کی کتب اور پھر امامیہ کتب معتبرہ سے دلائل ملاحظہ فرمائیں جس سے ثابت ہوگا کہ وقت افطار وہی ہے جس وقت اہلِ سنت والجماعت روزہ افطار کرتے ہیں

اہلِ سنت کتب سے دلائل:

1)رسول اللہﷺ نے فرمایا جب سورج غروب ہو جائے تو روزے دار کی افطاری کا وقت ہو جاتا ہے۔

(صحیح بخاری رقم 1954)

(صحیح مسلم رقم1098)

2)رسول اللہﷺ نے فرمایا دین تب تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ،کیونکہ یہود ونصاریٰ افطار میں تاخیر کرتے ہیں ۔

(سنن ابی داؤد رقم 2353)

(سنن ابنِ ماجہ رقم 1698)

امامیہ کتب سے دلائل

1) سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں کہ جب سورج غروب ہو جائے تو افطار کا وقت ہوگیا اور نماز کا وقت داخل ہوگیا۔

2)اور اسی طرح سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں کہ

جب سورج غروب ہو جائے تو افطار کرنا جائز ہے۔

ملاحظہ فرمائیں

(من لایحضرالفقیہ رقم روایت، 1932.663 صفحہ نمبر 61)

3) سیدنا جعفر صادقؒ سے پوچھا گیا کہ ایک صاحب کہتے ہیں کہ:

سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ جب سورج چھپ جائے تو مغرب کا وقت ہوگیا جب سیدنا جعفر صادقؒ کو بتایا گیا کہ آپ کی طرف یہ بات منسوب ہے تو آپ نے اس کی تصدیق فرمائی ۔

ملاحظہ فرمائیں 

(اصول کافی کتاب الفروع جلد دوم وقت مغرب وعشاء صفحہ117)

4) نہج البلاغہ میں سیدنا علیؓ کا فرمان موجود ہے کہ

مغرب کا وقت وہی ہے جب روزہ افطار کیا جاتا ہے یعنی ایک ہی ہے ملاحظہ فرمائیں 

(نہج البلاغہ نماز کے بارے میں عہدے داروں کے نام خط صفحہ 52 صفحہ 660)

سیدنا جعفرصادقؒ اور سیدنا علیؒ کے دونوں فرامین سے یہ ثابت ہوا کہ سورج غروب ہوتے ہی افطار کا وقت ہو جاتا ہے

فقہاء امامیہ کے اسماء کی فہرست بمع حوالہ جات جن کے نزدیک نماز مغرب اور افطار کا وقت سورج غروب ہوتے ہی ہو جاتا ہے:

 امامی حضرات کے نزدیک نماز مغرب اور افطار کے وقت پر علماء کے نظریات:

ہر گروہ کا اپنا استدلال ہے ایک نظریہ جو کہ مشہور نظریہ ہے کہ سورج غروب ہونا کافی نہیں بلکہ مشرقی سرخی زائل ہونے تک انتظار کرنا احتیاط واجب کی بناء پر واجب ہے ۔ 

اس مشہور نظریہ کو خاص و عام جانتے ہیں مگر ایک اور گروہ جو کہ علماء امامیہ کے قدیم و معاصر جید فقہاء پر مشتمل ہے ، ان کے نزدیک سورج غروب ہوتے ہی نماز مغرب اور افطار کا وقت داخل ہوجاتا ہے ۔ مشرقی سرخی کے زائل ہونے کا انتظار کرنا واجب نہیں ہے، ہم اس نظریہ کے قائل فقہاء کے اسماء بمع حوالہ جات جہاں پر ان کی آراء نقل ہوئیں ہیں،ان کو نقل کر رہے ہیں تاکہ محقیقن استفادہ حاصل کر سکیں۔

  1. ابن أبي عقيل العماني:(كان حياً في 329هـ) 
  2. حياة ابن أبي عقيل : 159
  3. ابن الجنيد: (381هـ) نقله المعتبر في شرح المختصر 2: 40
  4. الشيخ الصدوق:(381هـ) علل الشرائع 2: 350
  5. الشريف المرتضىٰ: (436هـ) شرح جمل العلم 
  6. والعمل: 66
  7. الشيخ الطوسي: (460هـ) المبسوط 1: 74
  8. سلار: (448 أو 463هـ) المراسم:62
  9. القاضي ابن البراج: (481هـ) المهذب 1: 69
  10.  المحقق الحلي: (676هـ) شرائع الإسلام 1: 51.
  11.  9)الصيمري: (حدود 900هـ) كتاب غاية المرام في شرح شرائع الإسلام 1: 117
  12. الفيض الكاشاني: (1090هـ) مفاتيح الشرائع1 :94
  13. باقر المجلسي الثاني: (1110هـ) ملاذ الأخيار في فهم تهذيب الأخبار 3: 394
  14. الوحيد البهبهاني: (1205 أو 1206هـ) مصابيح الظلام 5: 487
  15. النراقي: (1245هـ) مستند الشيعة في أحكام الشريعة 4: 25
  16. صاحب الجواهر (1266هـ): جواهر الكلام في شرح شرائع الإسلام 7: 106
  17. آغا رضا الهمداني (1322هـ)مصابيح الفقيه 9: 142
  18.  السيد السبزواري: (1414هـ) مهذب الأحكام 5: 64، 65السيد الخوئي: (1413هـ) منهاج الصالحين 1: 141 مسألة 475
  19. السيد محمد سعيد الحكيم: منهاج الصالحين 1: 160 مسألة 12
  20.  السيد محمد صادق الروحاني: منهاج الصالحين 1: 141 مسألة 502
  21. الشيخ محمد إسحاق الفياض: منهاج الصالحين 1: 202 مسألة 501.
  22. السيد محمد حسين فضل الله: فقه الشريعة 1: 249
  23.  الشيخ بهجت: بهجت الفقيه: 78