قرآن مجید میں کلمہ
جعفر صادققرآنِ مجید میں کلمہ
1)فَاعۡلَمۡ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِكَ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَكُمۡ وَمَثۡوٰٮكُمۡ
(سورۃ محمد:آیت 19)
ترجمہ: لہٰذا (اے پیغمبر) یقین جانو کہ اللہ کے سواء کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، اور اپنے قصور پر بھی بخشش کی دعا مانگتے رہو، اور مسلمان مردوں اور عورتوں کی بخشش کی بھی، اور اللہ تم سب کی نقل و حرکت اور تمہاری قیام گاہ کو خوب جانتا ہے۔
2)مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ ؕ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡۖ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًاۖسِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ ؕ ذٰ لِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ ۛ ۖۚ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ ۛۚ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا
ترجمہ: محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں(اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں۔اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوگئی، پھر اپنے تنے پر اس طرح سیدھی کھڑی ہوگئی کہ کاشتکار اس سے خوش ہوتے ہیں۔تاکہ اللہ ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے۔یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کرلیا ہے۔
آنحضرتﷺ اور صحابہؓ کفار پر سخت ہیں:
یعنی کافروں کے مقابلہ میں سخت مضبوط اور قوی، جس سے کافروں پر رعب پڑتا اور کفر سے نفرت و بیزاری کا اظہار ہوتا ہے۔قال اللہ تعالٰی
وَلۡيَجِدُوۡا فِيۡكُمۡ غِلۡظَةً
(سورۃ التوبہ:آیت123)
وَاغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡؕ
(سورۃ التوبہ: آیت 73)
وقال اللہ تعالیٰ:اَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ
(سورۃ المائدہ:آیت 54)
جو تندی اور نرمی اپنی خو ہو وہ سب جگہ برابر چلے اور جو ایمان سے سنور کر آئے وہ تندی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ علماء نے لکھا ہے کہ کسی کافر کے ساتھ احسان اور سلوک سے پیش آنا اگر مصلحت شرعی ہو کچھ مضائقہ نہیں مگر دین کے معاملہ میں وہ تم کو ڈھیلا نہ سمجھے۔