سنی لڑکے کا شیعہ لڑکی سے نکاح کا حکم
سنی لڑکے کا شیعہ لڑکی سے نکاح کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک سنی لڑکے نے ایک شیعہ لڑکی سے نکاح کیا ہے اور نکاح شیعہ عالم نے اپنے مسلک کے مطابق کیا ہے، اور علاؤہ ازیں لڑکا جو کہ سنی ہے وہ اپنے سنی مسلک پر قائم ہے اور لڑکی جوکہ شیعہ ہے وہ بھی اپنے شیعہ مسلک پر قائم ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا شریعت کے مطابق یہ نکاح جائز ہے کہ نہیں؟
جواب: شیعہ کے بہت سے عقیدے کفریہ ہیں مثلاً:
(1) تحریف قرآن کے قائل ہیں۔
(2) سیدنا صدیق اکبرؓ کی خلافت اور صحابیت کے منکر ہیں۔
(3) سیدنا علیؓ کو خدا یا خدا کی صفات کا حامل قرار دیتے ہیں۔
(4) سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگاتے ہیں۔
(5) کلمہ اسلام میں اضافہ کرتے ہیں۔
بنا بریں ایسے عقیدے والے کے ساتھ کسی سنی مسلمان کا نکاح نہیں ہو سکتا۔
نعم لاشك في تكفير من قذف السيدة عائشةؓ اوا نكر صحبة الصديقؓ او اعتقدالالوهية في علىؓ اوان جبرئيل غلط فى الوحى أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن ولكن لو تاب تقبل توبته:
(فتاویٰ شامی:جلد:3:صفحہ:321)
ومنها ان لا تكون المرءة مشركة اذا كان الرجل مسلما فلا يجوز للمسلم أن ينكح المشركة لقوله تعالى : ولا تنكحو المشركت حتى يؤمن:
(بدائع الصنائع:جلد:2:صفحہ:552)
ان الرافضى ان كان ممن يعتقد الالوهية في علىؓ اوان جبرئيل غلط فى الوحي او كمان يذكر صحبة الصديقؓ او يقذف السيدة الصديقة ؓ فهو كافر لمخالفته القواطع والمعلومة من الدين بالمضرورة بخلاف ما اذا كان يفضل عليا او يسب الصحابة ؓ فانه مبتدع لا كافر:
(فتاویٰ شامی:جلد:2:صفحہ:314)
(ارشاد المفتين:جلد:2:صفحہ:151)