فاطمۃ الزہرا ہر نماز کے بعد حضرت ابوبکر کیلئے بدعا کرتی…

فاطمۃ الزہرا ہر نماز کے بعد حضرت ابوبکر کیلئے بدعا کرتی تھیں. معاذاللہ (الأمامت والسياست لابن قتیبہ)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

 شیعہ الزام

فاطمۃ الزہرا (ع) ہر نماز کے بعد حضرت ابوبکرؓ کیلئے بدعا کرتی تھیں۔ معاذاللہ
(الأمامت والسياست لابن قتیبہ)

الجواب اہلسنت:

نوٹ: الامامت والسیاست شیعہ روافض کی کتاب ہے جس کا جواب لکھنے کی اگرچہ ضرورت نہ تھی مگر شیعہ کی عقل دشمنی کا نمونہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے چند باتیں لکھ دی ہیں:
اول مذکورہ صفحہ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
"ابوبکر نے کہا اے رسول اللہ کی محبوب بیٹی! خدا کی قسم رسول اللہ کی رشتہ داری مجھے اپنی رشتہ داری سے پیاری ہے آپ مجھے اپنی بیٹی عائشہ سے زیادہ محبوب ہیں مجھے پسند تھا کہ آپ کے والد کی وفات کے ساتھ میں بھی مر جاتا اور بعد میں نہ رہتا کیا آپ دیکھتی نہیں ہیں کہ میں آپ کے مرتبہ اور فضیلت کو پہچان رہا ہوں پھر رسول اللہﷺ کی میراث ہے آپ کا حق اس لئے روک رہا ہوں کہ میں نے آپ کے ابا سے سنا ہے کہ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ہم جو چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہے تو حضرت فاطمہ فرمانے لگیں یہ بتائیں کہ اگر میں کوئی حدیث رسول اللہ آپ کے سامنے بیان کروں تو اس پر عمل کرو گے اور اسے مانو گے ان دونوں نے کہا ہاں تب حضرت فاطمہ الزہرا نے فرمایا کہ میں تم کو قسم دیتی ہوں کہ کیا تم نے رسول اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا کہ فاطمہ کی خوشی میری خوشی ہے اور فاطمہ کی ناراضگی میری ناراضگی ہے۔ جو میری بیٹی فاطمہ سے محبت کرے گا اس نے گویا مجھ سے محبت کی، جس نے فاطمہ کو خوش رکھا اس نے مجھے خوش رکھا جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ابوبکر نے کہا ہم نے رسول اللہﷺ سے یہ فرمان سنا ہے۔ تو وہ فرمانے لگیں بس میں اللہ کو اور فرشتوں کو گواہ بنا کر کہتی
ہوں کہ اگر میں حضورﷺ سے ملی تو تمہاری ان سے شکایت کروں گی ابوبکر کہنے لگے میں حضور کی ناراضگی اور اے فاطمہ آپ کی ناراضگی سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں پھر ابوبکر پریشان ہو کر رونے لگے قریب تھا کہ جان نکل جائے اور وہ کہہ رہی تھیں خدا کی قسم میں ہر نماز کے بعد تم پر بد دعا کروں گی، پھر ابوبکر روتے ہوئے باہر نکلے لوگ آپ کے پاس کھڑے ہو گئے"
 محترم قارئین کرام مذکورہ عبارت کو پڑھنے کے بعد سوچیے کیا سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کا یہ کلام ہوسکتا ہے؟ اور کیا آپﷺ کے اخلاق ایسے ہی تھے؟ خاندان نبوت سے کچھ بھی رشتہ محبت رکھنے والا اس عبارت کو سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی عبارت قرار نہیں دے سکتا۔ عبارت کا ایک ایک لفظ اپنے من گھڑت اور افسانوی کلام ہونے کا ثبوت دے رہا ہے۔
  2: جس کتاب کا حوالہ نقل کیا گیا ہے یہ کتاب نہ اہلِ سنت کی ہے اور نہ ہی اس مشہور اہلسنّت ابن قتیبہ کی ہے جس کا نام اس کتاب پر درج کیا گیا ہے بلکہ روافض نے یہ کتاب لکھ کر ایک مشہور اہلسنت مصنف کے کھاتے میں ڈال دی اور یہ کوئی نیا کام نہیں جو شیعہ لوگوں کا انوکھا اور نیا کارنامہ ہو۔
حضرت الشیخ علامہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃاللہ فرماتے ہیں۔
"بعض علماء اس فرقہ کے کتاب تصنیف کرتے ہیں اور اس میں وہ باتیں کہ جن سے رد و طعن اہل سنت پر ہووے درج کرتے ہیں اور اہل سنت کے کسی امام کے نام اس کو منسوب کرتے ہیں"
( تحفہ اثنا عشریہ صفحہ 82 مکر نمبر 31 مترجم)
  3: جس مصنف کا نام کتاب پر درج کیا گیا ہے یعنی ابو محمد عبد اللہ بن مسلمہ ابن قتیبہ الدینوری یہ کتاب ان کی نہیں کیونکہ ان کی کتابوں کی فہرست میں "الامامت و السیاست" نام کی کوئی کتاب نہیں ارباب علم نے صاف صاف اس کا انکار کیا ہے کہ یہ کتاب اہلسنت مشہور عالم ابن قتیبہ کی نہیں چنانچہ المعارف جو ابن قتیبہ کی کتاب ہے اس کے مقدمہ میں مرقوم ہے۔
"یہ بات باقی رہ گئی کہ الامامت و السیاسہ کی نسبت جو ابن قتیبہ کی طرف کی گئی ہے وہ غلط ہے یہ کتاب اس کی نہیں"
(المعارف لابن قتیبہ مقدمہ صفحہ 51 قدیمی کتب خانہ کراچی)
  4: دنیا کی حقیر چیزوں کی خاطر سیده فاطمہ الزہراؓ ہر کسی کے لیے بددعا کا سوچ بھی نہیں سکتیں بلکہ اس سلسلے میں آل رسولﷺ کا طریقہ کار یوں ہے:
"ابوداؤد میں ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنے شاگرد کو حضرت فاطمہؓ کا قصہ بیان کیا کہ کچھ خادم آپﷺ کے پاس آئے تو سیدہ اپنے کاموں کی مشقت سے سہولت پانے کیلئے خادم لینے کو حاضر ہوئیں مگر بوجہ شرم کے کچھ عرض نہ کیا آپﷺ؛خود اگلے دن سیدہ کے گھر تشریف لے گئے پوچھا تو انہوں نے عرض کر دیا کہ ان مشقتوں سے سہولت پانے کے لئے خادم لینے کو حاضر ہوئی تھی آپﷺ نے بجائے خادم عطاء فرمانے کے فرض ادا کرنے اور کام کاج خود کرنے کی تلقین فرمائی اور سبحان الله 33، الحمد لله 33، الله اکبر 33 بار پڑھنے کا ارشاد فرمایا۔
 اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ابا سے بھی خادم مانگا تھا مگر آپﷺ نے دنیا کی ان حقیر اور بے وقعت چیزوں سے سیدہ فاطمہؓ کی توجہ ہٹا کر رب ذوالجلال کی نصرت و اعانت حاصل کرنے کی طرف پھیر دی تھی فدک کے باب میں ایسا ہی مسئلہ دورِ صدیقی میں پیش آرہا ہے کہ حدیث پاک پر عمل کرنا دنیا کی ان حقیر چیزوں سے زیادہ اہم ہے مگر جواب میں سیدہ فاطمہؓ دنیا کی یہ حقیر چیزیں نہ ملنے پر ہر نماز کے بعد بددعا کا اعلان فرمائیں بھلا یہ ممکن ہے؟
 حالانکہ صدیقِ اکبرؓ نے مطالبہ حصول دنیا پر بالکل وہی طرز اختیار فرمایا ہے جو کہ آپﷺ نے اختیار فرمایا تھا مگر سیدہ فاطمہؓ اس وقت ناراض نہ ہوئیں۔

 اب ارباب انصاف خود ہی فیصلہ کریں کہ رحمت عالمﷺ نے تو اپنی لخت جگر کو دنیا کے بدلے میں ذکر کرنے کا حکم دیا تھا اور رافضی قلم کار ذکر کی بجائے بدعاء کرنا نقل کرتا ہے کیا سیدہ فاطمہؓ سے یہ دشمنی نہیں؟؟ کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ سیدہ فاطمہ زہراؓ دنیا کی طالب تھی نہ کہ آخرت کی نعوذباللہ
یہ شیعہ ذاکرین علماء کا پیسے کمانے کا ایک ڈھنگ ہے ایسے جھوٹے قصے سنا سنا کر لوگوں کو گمراہ کرتے اور حقیقت کو چھپاتے ہیں اپنی جیب گرم کرنے کی خاطر۔