سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی بیعت یزید کے حوالے سے پیش کی جانے والی روایت
محمد شعیب الحنفیسیدنا حسینؓ کی بیعت یزید کے حوالے سے پیش کی جانے والی روایت
بسم الـلــــہ الــرحمٰـــن الرحـیــم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
برادران اہل سنت والجماعت
قارئین جیسا کہ میں نے اپنی گزشتہ پوسٹ میں وعدہ کیا تھا کہ سیدنا حسینؓ کی بیعت یزید کے حوالے سے پیش کی جانے والی روایت کی حقیقت اگلی پوسٹ میں بیان کی جائے گی کچھ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے پوسٹ میں تاخیر ہوگئی جس کے لئے معذرت خواہ ہوں
ن ا ص ب ی طبقہ اکثر یزید کے دفاع میں ایک روایت نقل کرتے ہیں جس کی سند اور متن پیش خدمت ہے
علامہ بلاذری طوسی کی کتاب انساب الاشراف کی وہ روایت یہ ہے ۔
حدثنا سعدويه، حدثنا عباد بْن العوام، حَدَّثَنِي حصين، حَدَّثَنِي هلال بن إساف قال : أمر ابن زياد فأخذ مَا بين واقصة، إِلَى طريق الشَّام إِلَى طريق الْبَصْرَة، فلا يترك أحد يلج وَلا يخرج، فانطلق الْحُسَيْن: يسير نحو طريق الشَّام يريد يزيد بْن مُعَاوِيَة فتلقته الخيول فنزل كربلاء، وَكَانَ فيمن بعث إِلَيْهِ عمر ابن سعد بن أبي وقاص، وشمر ابن ذي الجوشن، وحصين بْن نمير، فناشدهم الْحُسَيْن أن يسيروه إِلَى يزيد فيضع يده فِي يده فأبوا إِلا حكم ابْن زياد ۔
یزید کے وکیل ترجمہ کرتے ہیں : عبید اللہ بن زیاد نے حکم دیا کہ واقصہ اور شام و بصرہ کے بیچ پہرہ لگا دیا جائے اور کسی کو بھی آنے جانے سے روک دیا جائے ، چنانچہ حسین رضی اللہ عنہ یزید بن معاویہ سے ملنے کے لیے شام کی طرف چل پڑے، پھر راستے میں گھوڑ سواروں نے انھیں روک لیا اور وہ کربلا میں رک گئے ،ان گھوڑ سواروں میں عمر بن سعد بن ابی وقاص ، شمر بن ذی الجوشن ، اور حصین بن نمیر تھے۔حسین رضی اللہ عنہ نے ان سے التجا کی کہ انھیں یزید کے پاس لے چلیں، تاکہ وہ یزید کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیں، اس پر ان لوگوں نے کہا کہ ہم عبید اللہ ابن زیاد کی اجازت کے بغیر ایسا نہیں کر سکتے ۔
(انساب الاشراف جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 383)
#سندکی_بحث
اگرچہ اس کی سند کے روات ثقہ ثبت ہیں لیکن ان میں ایک راوی حصین بن عبدالرحمٰن السلمی ہے جس سے عباد بن العوام الواسطی روایت نقل کررہے ہیں
حصین کے بارے محدثین کی آرا
امام ابو حاتم الرازي : صدوق ثقة في الحديث وفي آخر عمره ساء حفظه
امام أحمد بن شعيب النسائي : تغير
ابن حجر العسقلاني : ثقة تغير حفظه في آخره، مرة: متفق على الاحتجاج به إلا أنه تغير في آخر عمره
علي بن المديني : ساء حفظه
محدثین کی ان آرا سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ حصین بن عبدالرحمٰن السلمی باوجود ثقہ ہونے کے ان کا آخری عمر میں حافظہ خراب ہوگیا تھا
قاعدہ ہے کہ جس راوی کا آخری عمر میں حافظہ خراب ہو جائے تو اس کی وہ روایت ہی قبول کی جاتی ہے جو اس حافظہ کے خراب ہونے سے پہلے اس سے روایت کی گئی ہوں اب دیکھنا یہ ہے کہ عباد بن العوام کا سماع حصین بن عبدالرحمٰن سے اس کے حافظے کے خراب ہونے سے پہلے کا ہے یا بعد کا
اس بارے امام عجلیؒ نے اپنی کتاب الثقات میں حصین بن عبدالرحمٰن کے ترجمے میں بیان کیا ہے
حصین بن عبدالرحمٰن کوفی ثقہ ثبت ہے واسط کے رہنے والے لوگ بکثرت ان سے روایات بیان کرتے ہیں کیونکہ حصین بن عبدالرحمٰن السلمی آخری عمر میں مبارک کے مقام میں رہتے تھے اور واسطیوں نے ان سے واسط کے مقام پہ سماع کیا اور اہل واسطیوں میں ان سے بکثرت روایت کرنے والے عباد بن العوام تھے
اس طرح یہ ثابت ہوا کہ عباد بن العوام کا حصین بن عبدالرحمٰن السلمی سے سماع اس کے حافظے کے خراب ہونے کے بعد کا ہے
اس طرح یہ روایت حصین بن عبدالرحمٰن کے تغیر حفظ کے باعث ضعیف اور ناقابل استدلال ہے لہذا سیدنا حسینؓ کا یزید کی بیعت کرنے کا اقرار کرنا کسی بھی صحیح السند روایت سے ثابت نہیں ہوتا

#الزامی_سوال
اگر اس روایت کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ سیدنا حسینؓ کا قاتل کوفی نہیں یزیدی تھے اور اس فوج کے سرغنہ عمر بن سعد شمر اور حصین بن نمیر تھے جو ابن زیاد کے حکم سے سیدنا امام حسینؓ کا راستہ روکتے ہیں اور پھر بعد میں بے دردی سے نواسہ رسولﷺ اور ان کی آل مبارک کو شہید کردیتے ہیں جس کا اقرار یزید بھی کرتا ہے لیکن ابن زیاد عمر بن سعد شمر اور حصین بن نمیر کو کوئی سزا نہیں دیتا جس کی وجہ سے یزید کا قتل سیدنا امام حسینؓ میں کردار واضح ہوکر سامنے آتا ہے
اب یزیدی ٹولا یا تو اس روایت کو صحیح مان کر یزید اور اس کی فوج کو سیدنا امام حسینؓ کا قاتل مانے یا پھر اس روایت کا انکار کردے
والسلام خادم احناف
محمد شعیب الحنفی (دیوبندی)