کیا آپ کسی معتبر تاریخی حوالے سے یہ بتا سکتے اور ثابت کر سکتے ہیں کہ حضرات شیخین نے جنازۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بلا دفن چھوڑ کر سقیفہ بنی ساعدہ روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ یا حضرت عباس رضی اللہ عنہ بن عبد المطلب کو اپنے عزائم سے آگاہ کیا ہو۔ اگر جواب اثبات میں ہے تو ثبوت فراہم کریں۔
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند♦️ رافضی عبد الکریم مشتاق کا سوال نمبر 8:- ♦️
کیا آپ کسی معتبر تاریخی حوالے سے یہ بتا سکتے اور ثابت کر سکتے ہیں کہ حضرات شیخین نے جنازۂ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم بلا دفن چھوڑ کر سقیفہ بنی ساعدہ روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو انہوں نے حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ یا حضرت عباس رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ بن عبد المطلب کو اپنے عزائم سے آگاہ کیا ہو۔ اگر جواب اثبات میں ہے تو ثبوت فراہم کریں۔
♦️ الجواب اہلسنّت ♦️
(ا) سقیفہ بنی ساعدہ میں تو فوری ضرورت کے تحت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ تشریف لے گئے تھے۔ جِس کی وجہ سے وہ ان حضرات سے مشورہ نہیں کر سکے۔
(ب) اب تو دیکھنا یہ ہے کی حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کو خلیفہ تسلیم کیا ہے یا نہیں؟؟؟
اور آپ نے مسجد نبوی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کی اقتداء میں نمازیں پڑھی ہیں یا نہیں؟؟؟
اور اگر شیعہ مذہب کی مستند کتابوں سے ہی یہ امر ثابت ہو جائے کہ حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کی بیعت کی ہے اور ان کے پیچھے کھڑے ہو کر نمازیں پڑھی ہیں تو پھر کسی اعتراض کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟
اگر شیعہ علماء اس کا انکار کریں تو ہم ثبوت پیش کر سکتے ہیں۔