آپ حضرات کو امام مہدی ہادی آخر الزمان بن حسن العسکری کی غیبت پر اعتراض ہے۔ بتائے۔ شیطان غائب ہے یا ظاہر ؟ اگر غائب ہے تو معلوم ہوا کہ وہ عالم غیبت میں گمراہی پھیلاتا ہے لہذا جواب دیجیے کہ جب عالم غیبت میں گمراہی پھیلائی جا سکتی ہے تو ہدایت کا سلسلہ کیوں جاری نہیں رہ سکتا ؟
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند♦️ رافضی عبد الکریم مشتاق کا سوال نمبر 7:- ♦️
آپ حضرات کو امام مہدی ہادی آخر الزمان بن حسن العسکری کی غیبت پر اعتراض ہے۔ بتائے۔ شیطان غائب ہے یا ظاہر ؟ اگر غائب ہے تو معلوم ہوا کہ وہ عالم غیبت میں گمراہی پھیلاتا ہے لہٰذا جواب دیجیے کہ جب عالم غیبت میں گمراہی پھیلائی جا سکتی ہے تو ہدایت کا سلسلہ کیوں جاری نہیں رہ سکتا ؟
♦️ الجواب اہلسنّت ♦️
(ا۔) سائل نے امام مہدی کے ہادی ہونے کے لیے مثال بھی خوب پیش کی ہے یعنی شیطان کی۔ ماشاءاللّٰہ۔
(ب۔) اگر ہدایت پھیلانے کا یہی مطلب ہے تو پھر آدم علیہ السلام سے لے کر امام الانبیاء والمرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اِسلام کی ہدایت امام مہدی کی طرح غائب رہ کر کیوں نہیں کی ؟ جِتنے بھی انبیائے کرام علیھم السلام گزرے ہیں انہوں نے اپنے اپنے دورِ نبوت و رسالت میں ان لوگوں کے سامنے آ کر تبلیغ و ہدایت فرمائی ہے جِن کی اصلاح و ہدایت کے لیے ان کو معبوث کیا گیا تھا۔ کیا کسی ایسے پیغمبر علیہ السلام کا آپ ثبوت پیش کر سکتے ہیں جو امت سے مخفی رہ کر ہدایت کا فریضہ ادا کرتا رہا ہو۔ یہاں آپ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی مثال پیش نہیں کر سکتے جو آسمانوں پر زندہ ہیں اور قرب قیامت میں نازل ہوں گے کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے تبلیغ رسالت کے دور میں مخفی نہیں رہے۔ اور جب پھر جب آپ دجال کو قتل کرنے کا فریضہ ادا کریں گے تو آپ اس وقت سب لوگوں کے سامنے ظاہر ہوں گے نہ کہ مخفی۔
(ج۔) فرمائیے اگر شیعوں کے نزدیک امام مہدی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے بارہویں خلیفہ اور امام ہیں تو تبلیغ و جہاد کے فرائض کی بجا آوری میں وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع سے کیوں محروم ہیں ؟خلیفۂ رسول صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم تو وہ ہے جو بالفعل نائب رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حیثیت سے تبلیغ و ہدایت اور جہاد کرے۔ نہ وہ کہ ایک فرضی وجود کی طرح صدیوں سے غائب ہو۔ اور امت کفر و الحاد کے اندھیروں میں بھٹکتی رہے۔ اور اگر امام و خلیفہ ہونے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس کی دعوات برکات ہی کافی ہیں۔ تو پھر کیا اس مقصد کے لیے شیعوں کے نزدیک اپنی اپنی قبروں میں سابقہ گیارہ اماموں کا وجود کافی نہیں ہے۔